کہتے ہیں کہ ایک دور افتادہ گاؤں میں ایک نہایت غریب کسان رہتا تھا۔ اس کی کل متاع ایک جھونپڑی، چند بوسیدہ اوزار اور ایک بوڑھا گدھا تھا، جس نے عمر بھر اس کے ساتھ دھوپ، بارش اور فاقوں کے دن گزارے تھے۔
وقت کا پہیہ گھوما اور ایک دن کسان اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔
اس کے تین بیٹے تھے۔ وراثت تقسیم ہوئی تو بڑے بھائیوں نے زمین، گھر اور مویشی لے لیے، جبکہ سب سے چھوٹے بیٹے کے حصے میں صرف وہی کمزور اور بوڑھا گدھا آیا۔
بڑے بھائی اس پر ہنسنے لگے۔
“تمہاری قسمت میں تو صرف یہ گدھا لکھا تھا!”
مگر لڑکا مایوس نہ ہوا۔ اس نے محبت سے گدھے کی گردن تھپتھپائی اور بولا:
“دوست! دنیا ہمیں کچھ نہیں سمجھتی، مگر شاید ہماری قسمت ابھی جاگی نہیں۔ آؤ، شہر چلتے ہیں اور اپنی تقدیر آزماتے ہیں۔”
اگلی صبح وہ گدھے کو ساتھ لے کر روانہ ہو گیا۔
شہر پہنچ کر اس نے گدھے کو نہلایا، اس کی کمر پر رنگین کپڑا ڈالا، گلے میں گھنٹیاں باندھیں اور بازار کے بیچوں بیچ ایک اعلان کر دیا:
“لوگو! یہ کوئی عام گدھا نہیں۔ یہ دانش مند گدھا ہے۔ بادشاہ سلامت کے ہر سوال کا جواب دے سکتا ہے!”
لوگ پہلے تو ہنسے، پھر تجسس میں مبتلا ہو گئے۔ خبر گلیوں سے محل تک جا پہنچی۔
بادشاہ، جو عجائبات کا شوقین تھا، فوراً بولا:
“اس گدھے کو ہمارے دربار میں پیش کیا جائے!”
اگلے دن شاہی دربار سجا۔ وزراء، امرا اور درباری اپنی اپنی جگہ موجود تھے۔
لڑکا اپنے گدھے کے ساتھ حاضر ہوا۔
بادشاہ نے مسکراتے ہوئے کہا:
“تو یہی ہے وہ عالمِ بے مثال؟”
لڑکے نے ادب سے جھک کر جواب دیا:
“جی حضور، بس سوال فرمائیے۔”
بادشاہ نے پہلا سوال کیا:
“بتاؤ، آسمان میں کتنے تارے ہیں؟”
دربار میں خاموشی چھا گئی۔
گدھے نے گردن اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا، پھر زمین پر نظریں جمائیں اور زور سے “ہیں… ہیں…” کیا۔
درحقیقت وہ بھوکا تھا اور چارے کا طلبگار تھا۔
مگر لڑکے نے فوراً کہا:
“حضور! گدھا عرض کرتا ہے کہ آسمان میں اتنے تارے ہیں کہ ایک سال میں بھی گنے نہیں جا سکتے۔”
یہ جواب سن کر دربار میں قہقہہ گونج اٹھا۔
بادشاہ بھی ہنس پڑا اور خوش ہو کر لڑکے کو انعام دیا۔
چند روز بعد سلطنت پر ایک ہمسایہ بادشاہ نے حملہ کر دیا۔
محل میں بے چینی پھیل گئی۔
بادشاہ کو اچانک اپنے “دانش مند گدھے” کا خیال آیا۔
اس نے فوراً لڑکے اور گدھے کو طلب کیا۔
“اے عقل مند گدھے!” بادشاہ بولا، “بتاؤ، میں جنگ کروں یا صلح؟”
گدھے نے حسبِ معمول اپنی گردن ہلائی اور “ہیں… ہیں…” کر دیا۔
لڑکے نے سنجیدگی سے سر جھکایا اور کہا:
“حضور! گدھا فرماتا ہے کہ جنگ اور سیاست کا فیصلہ بادشاہوں کا کام ہے۔ وہ صرف تاروں کے معاملات کا ماہر ہے، میدانِ جنگ کا نہیں۔”
دربار ایک لمحے کو خاموش ہو گیا۔
پھر بادشاہ زور سے ہنسا۔
“واہ!” اس نے کہا، “یہ پہلا عالم ہے جو اپنی حد بھی جانتا ہے!”
بادشاہ کو یہ جواب اتنا پسند آیا کہ اس نے لڑکے کو شاہی مشیر مقرر کر دیا۔
وقت گزرتا گیا۔
لڑکا اپنی حاضر جوابی، دانائی اور معاملہ فہمی سے بادشاہ کا اعتماد حاصل کرتا گیا، جبکہ گدھا شاہی اصطبل میں آرام سے چارہ کھاتا رہا۔
اور یوں ایک بوڑھا گدھا، جو وراثت میں سب سے کم قیمت چیز سمجھا گیا تھا، اپنے مالک کی خوش قسمتی کا سبب بن گیا۔
سبق
اصل دانش صرف علم رکھنے میں نہیں، بلکہ حالات سے فائدہ اٹھانے اور موقع کی مناسبت سے بات کرنے میں ہے۔
عقل مند وہ نہیں جو ہر سوال کا جواب دے، بلکہ وہ ہے جو جانتا ہو کہ کب بولنا ہے اور کب خاموش رہنا ہے۔
اور اس حکایت کا لطیف نچوڑ یہ ہے:
“سمجھ دار انسان چاہے تو گدھے کی آواز میں بھی حکمت کا پیغام سنوا سکتا ہے۔”
#منقول
