سلطان سارنگ خان گکھڑ کے بعد، اب باری ہے پنجاب کے اس “باغی” ہیرو کی جس کا نام پنجاب کے لوک گیتوں، واروں اور داستانوں کا لازمی حصہ ہے پنجاب کے سورمے سیریز کی پانچویں قسط کے لیے سب سے موزوں اور مقبول ترین شخصیت دُلاَ بھٹی ہیں
عبداللہ بھٹی پنجاب کا وہ رابن ہڈ ہے جس نے شہنشاہِ وقت کو للکارا اور اگر سارنگ خان نے شیر شاہ سوری کی مخالفت کی تھی، تو دُلا بھٹی نے مغل سلطنت کے سب سے طاقتور دور (شہنشاہ اکبر کے عہد) میں بغاوت کا علم بلند کیا
دُلا بھٹی حقیقتاً عوامی ہیرو تھا سچ تو یہ ہے کہ وہ صرف ایک جنگجو نہیں تھا بلکہ کسانوں اور مظلوموں کا مسیحا بھی تھا مغل شہنشاہ اکبر کے لگائے گئے نئے زرعی ٹیکسوں کے خلاف اس کی مزاحمت نے تختِ اکبر کو ہلا کر رکھ دیا تھا
آج بھی پنجاب میں “لوہڑی” کا تہوار دلا بھٹی کی یاد اور اس کی جرات کے تذکرے کے بغیر ادھورا ہے
پنجاب کی تاریخ میں جب بھی غیرت اور مزاحمت کا ذکر ہوگا، پنڈی بھٹیاں کے اس سپوت کا نام سب سے نمایاں ہوگا۔ عبداللہ بھٹی، جسے دنیا پیار سے دُلا بھٹی کہتی ہے، مغل شہنشاہ اکبر کے دور کا وہ انقلابی جنگجو تھا جس نے ثابت کیا کہ پنجاب کی دھرتی اپنے حقوق پر سودے بازی نہیں کرتی
دُلا بھٹی کے پیدا ہونے سے پہلے ہی اس کے دادا (صندل بھٹی) اور والد (فرید بھٹی) کو مغل حکومت نے بغاوت کے جرم میں پھانسی دے دی تھی۔ دُلا کی پرورش اس کی ماں “لدھی” نے اس حقیقت کو چھپا کر کی، لیکن جب دُلا جوان ہوا اور اسے اپنے باپ دادا کی قربانی کا علم ہوا، تو اس نے مغل سلطنت کے خلاف وہی علمِ بغاوت دوبارہ بلند کر دیا
شہنشاہ اکبر کے دور میں زمینوں پر لگائے گئے بھاری ٹیکسوں نے کسانوں کا جینا محال کر دیا تھا دُلا بھٹی نے کسانوں کو منظم کیا اور مغل کارندوں کو لگان (ٹیکس) دینے سے انکار کر دیا۔ اس نے سرکاری خزانے لوٹ کر غریبوں میں بانٹنے شروع کر دیے، جس کی وجہ سے اسے “پنجاب کا رابن ہڈ” کہا جاتا ہے
دُلا بھٹی کی ایک پہچان یہ بھی ہے کہ اس نے غریب گھرانوں کی لڑکیوں کو اغوا ہونے سے بچایا اور ان کی شادیاں کروائیں (جس کی یاد میں آج بھی ‘سندر مندرئیے’ کا گیت گایا جاتا ہے)۔ اس نے ثابت کیا کہ پنجابی جنگجو صرف میدانِ جنگ کا شیر نہیں ہوتا، بلکہ وہ اپنی دھرتی کی بیٹیوں کی چادر کا محافظ بھی ہوتا ہے
کئی سالوں کی گوریلا جنگ کے بعد، مغلوں نے ایک چال کے ذریعے دُلا بھٹی کو گرفتار کر لیا۔ 1599ء میں اسے لاہور کے قلعے کے باہر پھانسی دی گئی۔ روایت ہے کہ اس وقت کے مشہور صوفی بزرگ شاہ حسین (مادھو لال حسین) بھی وہاں موجود تھے اور انہوں نے دُلا کی بہادری پر خراجِ عقیدت پیش کیا۔ دُلا بھٹی نے موت کے سامنے بھی سر نہیں جھکایا اور پنجابیوں کو بتایا کہ…
پنجاب کی غیرت کا سودا کسی صورت بھی کسی تخت سے نہیں کیا جا سکتا ….!!!
