دل کا پتھر 😁

دل کا پتھر 😁

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک وسیع و عریض جنگل تھا جہاں کبھی خوشحالی کے قصے سنائے جاتے تھے، مگر اب ہر طرف بے چینی تھی۔ چشمے سوکھنے لگے تھے، راستے ٹوٹ چکے تھے، کمزور جانور ہر روز کسی نہ کسی شکایت کے ساتھ دربار پہنچتے، مگر شام ہونے تک سب پہلے سے زیادہ مایوس لوٹتے۔
شیر جنگل کا بادشاہ تھا، مگر اب وہ خود اپنی حکومت سے تنگ آ چکا تھا۔ صبح سے شام تک صرف شکایتیں سنتا، ہر مسئلے پر اجلاس کرتا، ہر اجلاس کے بعد ایک نیا مسئلہ کھڑا ہو جاتا۔
ایک رات وہ سر جھکائے خاموش بیٹھا تھا۔

“آخر میں کیا کروں؟”
اسی وقت ایک بوڑھا سیاہ کوّا بولا، “حضور! کبھی کبھی بادشاہ بدلنے سے مسائل حل نہیں ہوتے، مگر لوگوں کو امید ضرور مل جاتی ہے۔”
شیر نے حیرت سے دیکھا۔
کوّا بولا، “لوگوں کی نظر میں سب سے زیادہ محنتی جانور کون ہے؟”
سب نے ایک ساتھ جواب دیا، “گدھا”
کوّا مسکرایا۔
“بس پھر اعلان کر دیجیے کہ اب جنگل کو ایک محنتی حکمران چاہیے۔”

شیر کو مشورہ پسند آ گیا۔
اگلے ہی دن پورے جنگل میں اعلان ہو گیا کہ شیر ازخود اقتدار چھوڑ رہا ہے اور آج سے جنگل کا نیا بادشاہ گدھا ہوگا۔

پورا جنگل خوشی سے جھوم اٹھا۔
“اب انصاف ہوگا۔”
“اب محنت کی قدر ہوگی۔”

“اب تبدیلی آئے گی۔”
صرف ایک جانور خاموش تھا، لومڑی۔
وہ برسوں سے شیر کی وزیر تھی۔ اسے یقین تھا کہ اگر کسی کو تاج ملنا چاہیے تھا تو وہ خود تھی، مگر تاج اس گدھے کے سر پر رکھ دیا گیا جسے فیصلے کرنے کا سلیقہ تک نہ تھا۔
لومڑی نے کچھ نہ کہا، مگر اس کے دل میں ایک آگ جل اٹھی۔

چند ہی دنوں میں گدھے کو اندازہ ہو گیا کہ بادشاہ بننا اور بوجھ اٹھانا دو الگ چیزیں ہیں۔
جنگل کا ہر مسئلہ اس کے سامنے آ کھڑا ہوتا۔
کہیں خوراک کم تھی۔
کہیں پانی ختم تھا۔
کہیں شکاریوں کا خطرہ تھا۔
کہیں جانور آپس میں لڑ رہے تھے۔
ہر مسئلے پر گدھا صرف ایک ہی جملہ کہتا، “لومڑی کو بلاؤ۔”
لومڑی آتی، ادب سے سر جھکاتی۔
“حضور کیا حکم ہے؟”
گدھا آہ بھرتا۔
“مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔”
لومڑی دل ہی دل میں مسکراتی، مگر چہرے پر فکر سجائے رکھتی۔
ایک دن جنگل میں خوراک کی شدید قلت ہو گئی۔

فیصلہ کرنا پڑا کہ کچھ عرصے کے لیے ہر جانور کی خوراک کم کر دی جائے۔

گدھا گھبرا گیا۔
“لوگ ناراض ہو جائیں گے۔”
لومڑی نے بہت سنجیدگی سے کہا،
“حضور، فیصلے سے زیادہ اہم یہ ہوتا ہے کہ لوگ اسے کیسے دیکھتے ہیں۔”
“پھر کیا کروں؟”
لومڑی ذرا قریب آئی۔
“اعلان کیجیے کہ آپ نے یہ فیصلہ دل پر پتھر رکھ کر کیا ہے۔”
گدھے نے حیرانی سے پوچھا،
“اس سے کیا ہوگا؟”
لومڑی بولی،
“لوگ سمجھیں گے کہ آپ خود بھی تکلیف میں ہیں۔ وہ آپ سے ہمدردی کریں گے۔”

گدھے نے ایسا ہی کیا۔
دربار لگا۔
اس نے لمبی سانس لی۔
آنکھیں بند کیں۔

اور کہا، “جنگل والو، میں نے یہ فیصلہ، دل پر پتھر رکھ کر کیا ہے”
حیرت انگیز طور پر جانور خاموش ہو گئے۔
کئی تو واقعی رو پڑے۔
“بیچارا بادشاہ”
“اسے بھی کتنی تکلیف ہوگی”
گدھا خوش ہو گیا۔

اب ہر مشکل فیصلے پر یہی جملہ دہرایا جانے لگا۔

“دل پر پتھر رکھ کر.”
ٹیکس بڑھا
دل پر پتھر رکھ کر، پانی بند، دل پر پتھر رکھ کر۔

خوراک کم، دل پر پتھر رکھ کر۔
جنگل کے آدھے درخت کاٹ دیے گئے
دل پر پتھر رکھ کر۔
ہر بار جانوروں میں غصہ پیدا ہوتا، مگر گدھے کا افسردہ چہرہ دیکھ کر کچھ نرم پڑ جاتے۔
گدھے کو یقین ہو گیا کہ یہی بہترین حکمتِ عملی ہے۔

لومڑی نے سوچا،
“صرف الفاظ سے کب تک کام چلے گا؟”
ایک دن اس نے کہا، “حضور! اب لوگ صرف سننے سے مطمئن نہیں ہوں گے، انہیں دیکھنا بھی چاہیے کہ واقعی آپ دل پر پتھر رکھتے ہیں۔”
گدھے کی آنکھیں چمک اٹھیں۔

“واقعی؟”
“جی حضور!”

چند بندروں کو بلایا گیا۔

ایک بڑا سا پتھر لایا گیا۔

لومڑی نے کہا، “جب اعلان ہو، تو یہ پتھر حضور کے سینے پر رکھ دیا جائے۔”
گدھے نے فخر سے گردن ہلائی۔
“بہت عمدہ!”

اگلے دن پورے جنگل کے نیوز اینکرز جمع تھے۔
گدھا تخت پر لیٹا۔ پتھر اٹھایا گیا۔
پہلے چھوٹا پتھر رکھا گیا۔
لومڑی نے سر ہلایا۔
“نہیں، اتنے سے لوگ متاثر نہیں ہوں گے۔”
بندروں نے اس سے بھی بڑا پتھر اٹھا لیا۔
وہ سیدھا گدھے کے سینے پر رکھ دیا گیا۔

پہلے تو گدھا مسکرایا، پھر سانس رکنے لگی، پھر آنکھیں باہر آنے لگیں اور چند لمحوں بعد، سب کچھ ختم ہو گیا۔
بادشاہ واقعی دل پر پتھر رکھ کر مر چکا تھا۔

پورا جنگل سناٹے میں ڈوب گیا۔
گدھے کی موت کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ چند لمحوں کے لیے پورا جنگل سناٹے میں ڈوب گیا۔ ہر طرف یہی سوال تھا کہ آخر ایک پتھر نے بادشاہ کو کیسے مار دیا؟
شیر بھی محل سے دوڑتا ہوا آیا۔ اس نے گدھے کی لاش دیکھی، پھر لومڑی کی طرف دیکھا۔ لومڑی نے سر جھکا کر آہ بھری اور بولی:
“حضور، میں تو صرف یہی چاہتی تھی کہ عوام کو معلوم ہو جائے کہ بادشاہ ان کے لیے دل پر پتھر رکھ کر فیصلے کرتا ہے۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ ایک دن یہی پتھر دل سے اتر کر سیدھا سر پر آ گرے گا۔”

شیر خاموش رہا۔

جنگل کے سب سے بوڑھے اُلّو نے آہستہ سے کہا:

“بادشاہ پتھر کے بوجھ سے نہیں مرا، وہ اپنی نااہلی کے بوجھ سے مرا ہے۔ پتھر تو صرف بہانہ تھا۔”

یہ سن کر پورے جنگل پر خاموشی چھا گئی۔

کچھ دن بعد شیر دوبارہ تخت پر آ بیٹھا۔ جانور خوش تھے کہ پرانا بادشاہ واپس آگیا ہے۔

لیکن اُلّو مسکرا کر بولا:

“تم لوگ آج بھی کچھ نہیں سمجھے۔ گدھا تو مر گیا، مگر جس نے اسے پتھر اٹھانے کا مشورہ دیا تھا، وہ آج بھی وزیر ہے۔ جب تک مشورے وہی رہیں گے، تخت پر چاہے شیر بیٹھے یا گدھا، پتھر ہمیشہ عوام ہی پر گرتے رہیں گے۔”

Leave a Reply

NZ's Corner