دوست کی پہچان

دوست کی پہچان


ایک مالدار تاجر تھا جس کا اکلوتا بیٹا تھا۔ جب وہ پندرہ سال کا ہوا تو اس کی دوستی ایسے لڑکوں سے ہو گئی جنھیں سوائے آوارہ گردی اور مفت خوری کے کچھ کام نہ تھا۔ وہ روزانہ اسے شراب خانے یا قمار خانے لے جاتے اور شام تک اس کی اچھی خاصی رقم ضائع کروا دیتے۔
تاجر کچھ دن تک خاموشی سے یہ رنگ ڈھنگ دیکھتا رہا، پھر ایک دن اپنے بیٹے سے بولا: “بیٹا! دوستی کرو تو ایسے لوگوں سے جو اچھے گھرانے کے ہوں، شریف ہوں اور تمھارا بھلا چاہیں۔ تم نے جن آوارہ لڑکوں کے ساتھ دوستی کر رکھی ہے، وہ میرے بعد تمھیں تباہ کر کے چھوڑ دیں گے۔”
بیٹے کو باپ کی بات پر یقین نہیں آیا۔ اس نے کہا: “مجھے اپنے دوستوں پر پورا بھروسا ہے۔ وہ ہر آزمائش میں پورے اتریں گے۔”
تاجر نے کہا: “ٹھیک ہے، میں تمھیں بتاتا ہوں کہ یہ کس قدر بھروسے کے قابل ہیں۔ تم بازار جا کر ایک بھیڑ لے آؤ اور اپنے ان قابلِ بھروسا دوستوں کو کھانے پر بلا لو۔”
لڑکا بھیڑ لے آیا۔ تاجر نے اسے ذبح کیا اور اس کے خون کے چھینٹے دیواروں پر جا بجا مار دیے۔ پھر بیٹے سے کہا: “تم کہتے ہو کہ تمھارے دوست بہت معتبر ہیں جن سے زیادہ وفادار کوئی نہیں ہو سکتا۔ میرے تو صرف تین دوست ہیں؛ ایک قریبی دوست، دوسرا جس سے زیادہ قربت تو نہیں، اور تیسرا بس ایک واقف کار ہے۔ اب دیکھیں کون زیادہ خوش قسمت ہے، تم یا میں۔”
سورج غروب ہونے کے بعد لڑکے کے دوست آئے تو تاجر انھیں اس کمرے میں لے گیا جہاں دیواروں پر خون کے چھینٹے تھے۔ اس نے کہا: “خدا تمھاری عمر دراز کرے۔ ابھی کچھ دیر پہلے میرا لڑکا ایک آدمی کو لے کر آیا تھا، اس سے کسی بات پر جھگڑا ہو گیا اور ہاتھا پائی میں وہ مارا گیا۔ تم میرے لڑکے کے وفادار دوست ہو، اسے تم پر بہت بھروسا تھا، کیا تم اس آدمی کی لاش دریا میں ڈال آؤ گے؟”
سب لڑکوں نے انکار کر دیا اور وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے، بلکہ انھوں نے فوراً جا کر کوتوال کو خبر کر دی۔
ادھر تاجر نے ملازم سے گھی، بادام اور پستے منگوائے۔ بھیڑ کو خوب اچھی طرح بھونا، اس کے پیٹ میں چاول اور میوے بھر کر اسے ایسے تیار کیا کہ وہ دور سے انسانی لاش معلوم ہونے لگی۔ اس پر سفید کپڑا ڈال دیا گیا۔ ابھی یہ کام مکمل ہوا ہی تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔
تاجر نے دروازہ کھولا تو کوتوال سپاہیوں کے ساتھ موجود تھا۔ اس نے پوچھا: “لاش کہاں ہے؟” تاجر نے بھیڑ کی طرف اشارہ کیا۔ کوتوال نے دیواروں پر خون کے چھینٹے دیکھے، لاش (بھیڑ) کو اپنے قبضے میں کیا اور تاجر کے ہاتھوں میں ہتھکڑی ڈال کر اسے کھینچتے ہوئے لے چلا۔
راہ میں تاجر کا وہ واقف کار ملا۔ تاجر کے ہاتھوں میں ہتھکڑی دیکھ کر وہ دوڑا ہوا آیا اور پوچھا: “کیا بات ہے؟” سپاہیوں نے کہا: “اس شخص نے ایک آدمی کا خون کیا ہے، اب یہ پھانسی پائے گا۔” وہ واقف کار بولا: “میرا جتنا بھی مال ہے، اس کا چوتھا حصہ میں آپ کو دیتا ہوں، آپ اسے چھوڑ دیجیے۔” کوتوال نے انکار کر دیا اور کہا: “قانون قانون ہے، اس میں مداخلت نہیں ہو سکتی۔”
تھوڑا آگے بڑھے تو دوسرا شخص ملا، جس سے تاجر کی معمولی دوستی تھی۔ اس نے کوتوال سے کہا: “آپ میری نصف جائیداد لے لیجیے اور اسے چھوڑ دیجیے۔” کوتوال نے اسے بھی وہی جواب دیا کہ قانون میں مداخلت نہیں ہو سکتی۔
آخر میں تاجر کا بہترین دوست (ایک دکان دار) ملا۔ اس نے تاجر کو اس حال میں دیکھا تو غم کے مارے اپنے سر کے بال نوچنے لگا اور دکان کی چیزیں الٹ پلٹ کرنے لگا۔ اس نے سپاہیوں سے کہا: “اسے کیوں لے جا رہے ہو؟ اس کا کیا قصور ہے؟”
انھوں نے کہا: “اس نے ایک شخص کا خون کیا ہے، اب یہ پھانسی پائے گا۔”
دکان دار نے کہا: “نہیں، نہیں! قتل تو میں نے کیا ہے، آپ اسے چھوڑ دیجیے۔”
کوتوال نے کہا: “لاش ہمیں اس شخص کے گھر ملی ہے۔”
دکان دار نے کہا: “وہ لاش میں نے ہی وہاں پھنکوائی تھی۔”
کوتوال نے کہا: “ٹھیک ہے، اسے کھول دو اور دکان دار کو لے چلو۔”
جب تاجر کے ہاتھ کھول دیے گئے تو اس نے کوتوال سے کہا: “حضور! جلدی کیا ہے؟ آپ ایک نظر لاش کو بھی دیکھ لیں کہ کس کی لاش ہے۔” کوتوال نے کپڑا ہٹایا تو دیکھا کہ وہ ایک بھنی ہوئی بھیڑ ہے، جس کے پیٹ میں چاول اور میوہ جات بھرے ہیں۔
کوتوال بولا: “یہ تو دعوت کا معاملہ معلوم ہوتا ہے، قتل کا نہیں۔”

اب تاجر نے کوتوال کو اصل راز بتا دیا۔ کوتوال نے تاجر کے لڑکے کو بلایا اور اسے اس کے دوستوں کی بے وفائی پر بہت ڈانٹا اور تاجر کی دانشمندی کی تعریف کی۔ اس واقعے کے بعد وہ لڑکا کبھی غلط صحبت میں نہیں پڑا؛ اسے کھرے اور کھوٹے کی تمیز ہو گئی تھی۔

اصلاحی، سبق آموز اور مزاحیہ کہانیوں کے لیے پیج کو فالو کریں۔ شکریہ

Leave a Reply

NZ's Corner