دو راہیں، ایک منزل

دو راہیں، ایک منزل

کسی چھوٹے سے گاؤں میں، جہاں وقت بہت آہستہ چلتا تھا اور باتیں بہت تیز، دو جھونپڑیاں ایک دوسرے سے چند قدم کے فاصلے پر تھیں۔ ایک میں چارلی رہتا تھا، دوسرے میں بل۔ گاؤں والے کہتے تھے: “چارلی کے پاس دماغ ہے تو بل کے پاس دل۔ مگر چارلی کا دماغ اس کا دشمن ہے، اور بل کا دل اس کا بادشاہ۔”

چارلی جسے اپنے دماغ کے بل بوتے پر پلک جھپکنے سے پہلے اپنے سے کوسوں دور کی مصیبت، مایوسی اور ناکامی نظر آ جاتی تھی، مگر عقل سے کچھ ایسا پَیدل کہ پہلو میں پڑی خوشیاں، امید اور کامیابیاں اسے دکھائی ہی نہیں دیتی تھیں۔ وہ پھولوں سے اس وجہ سے دور رہتا کہ کہیں کانٹے نہ چبھ جائیں، آگ سے اس لیے کنارہ کش تھا کہ کہیں نہ جلا دے، اور معاشرے میں رہنے والے لوگوں سے اس لیے دوری بنا کر رکھتا کہ اسے سب اپنے سے حقیر اور چھوٹے دکھائی دیتے تھے۔ اس کے دل میں صرف ایک شخص کے لیے محبت تھی  اور وہ تھا بل۔ اس سے اسے افلاطونی عقیدت تھی، جیسے کوئی اندھا اپنی آنکھوں سے کرتا ہے۔

اور بل؟ بل مزاج میں چارلی کے بالکل برعکس تھا۔ وہ خوبیوں کا خزانہ تھا۔ وہ بہت دور سے آنے والی ہر خوشی، نیک بختی، امید کی کرن اور کامیابی کو بھانپ لیتا اور اسے خوش آمدید کہنے کے لیے ہر وقت تیار رہتا، مگر اسے اپنے قریب پڑی مصیبت، مایوسی اور ناکامی دکھائی ہی نہ دیتی۔ وہ ایسا تھا جیسے کوئی باغبان جو گھاس کو دیکھتا ہی نہیں، صرف پھول چنتا ہے۔

دونوں نے ایک رات گاؤں کی خستہ حالی پر لمبی گفتگو کی۔ گاؤں کے بوڑھے کہتے تھے کہ دور ایک ریاست ہے جس کا نام “کامیابی” ہے۔ وہاں دریا دودھ اور شہد بہاتے ہیں، بلبلے گیت گاتی ہیں، ہریالی زمینوں پر سبزے چاند لگاتے ہیں، پہاڑ آنے والوں کو مسکرا کر سلام کرتے ہیں، ٹھنڈے ٹھنڈے پانی کے چشمے اور جھیلیں مسافروں کی پیاس بجھاتی ہیں، اور وہاں کا بادشاہ اتنا نیک اور صالح ہے کہ رعایا پر پیار برساتا ہے۔ وہاں کے لوگوں کو دنیا کی ہر نعمت حاصل ہے۔

مگر اس ریاست تک پہنچنا اتنا ہی دشوار تھا جتنا آبِ حیات پا لینا۔ راستے میں ہزاروں کلومیٹر پر پھیلے ہوئے جنگل اور نخلستان تھے، جو ہزاروں قسم کے وحشی جانوروں کا مسکن تھے۔ جو بھی اس راستے پر جاتا، کسی بلا کا شکار ہو کر اس کا وجود تروتازگی بھول جاتا اور وہیں کا ہو کر رہ جاتا۔

لیکن اچھی زندگی کی چاہت نے انہیں بے چین کر دیا۔ ایک صبح، سورج نکلتے ہی، دونوں نے گاؤں کو الوداع کہا۔ چارلی کے چہرے پر خوف تھا، بل کے چہرے پر امید۔

مہینوں کے سفر کے بعد وہ پیلے ریت کے اس سمندر میں پہنچے جہاں سورج شیطانی سایوں کی طرح آگ برساتا۔ اس نے پیلے رنگ کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا اور دن بھر ہر آنے جانے والے کے سروں پر آگ برستا رہتا۔ گرم ہوا ایسی برستی جیسے کوئی تنور میں پتھر پھینک رہا ہو۔ کچھ ہی دنوں میں ان کی کھالیں جل کر کباب سی ہو گئیں۔

رات کو چاند تھوڑا سا رحم کھاتا، ایک خوبصورت محبوب کی طرح آ کر ان کے دن بھر کے زخموں پر مرہم رکھ دیتا، مگر صبح ہوتے ہی وہی دوزخ شروع ہو جاتی۔

چارلی کے قدم رکنے لگے۔ اس نے اونٹ کی کمر پر بیٹھے بیٹھے اپنی مایوسی کا اظہار کیا:
“یہ راستہ موت کی طرف جا رہا ہے۔ میں نے پہلے ہی دیکھ لیا تھا۔ یہ سب بے سود ہے۔ اب ہم کبھی اس ریاست کو نہیں پہنچیں گے۔ ہم یہیں مر جائیں گے، اور گدھ ہماری آنکھیں نکالیں گے۔”

بل خاموش رہا۔ اس نے اپنے ہونٹ پانی سے تر کیے اور بولا:
“دیکھ، چارلی، خوبصورت زندگی کے لیے تھوڑے سے عرصے کی تکلیف تو برداشت کرنی پڑتی ہے۔ چاند بھی اندھیرے کے بعد نکلتا ہے۔”
چارلی نے منہ پھیر لیا۔ اسے یقین تھا کہ وہ ہی سچا ہے۔

چند دن صحرا میں کٹ چکے تھے۔ آخری مشک میں آخری قطرہ ختم ہو چکا تھا۔ سورج ایسے جل رہا تھا جیسے آسمان سے پگھلا ہوا تانبا ٹپک رہا ہو۔ ان کے ہونٹ پھٹ چکے تھے، زبان پتھر کی طرح خشک تھی، اور آنکھوں میں پانی کی جگہ ریت تھی۔

چارلی نے اپنے اونٹ کی گردن پکڑ لی، وہ بوڑھا تھکا اونٹ  اور بولا:
“اب بس! ہم نہیں بچیں گے۔ صحرا ہماری قبر ہوگا۔ میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ یہ راستہ غلط تھا۔ اب ہم دونوں مر جائیں گے، اور لوگ کہیں گے کہ وہ پاگل تھے جو کامیابی کی تلاش میں نکلے تھے۔”

وہ اونٹ سے نیچے اتر کر ریت پر گر پڑا۔ اس کی سانس پھول رہی تھی۔ اسے لگا جیسے موت اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بیٹھی ہے۔

لیکن بل خاموش تھا۔ اس نے آنکھیں بند کر کے لمحہ بھر سوچا۔ اس کے دماغ میں خیال دوڑ رہے تھے، وہ کہانیاں جو اس نے بوڑھوں سے سنی تھیں، کتابوں کے وہ جملے جو اس نے کبھی پڑھے تھے، اور سب سے بڑھ کر اس کے دل کی وہ آواز جو کہہ رہی تھی: “مصیبت کے اندر ہی حل چھپا ہوتا ہے۔”

پھر اس نے اپنی آنکھیں کھولیں اور بوڑھے اونٹ کو دیکھا، جو زمین پر گر چکا تھا، اس کی کھال ہڈیوں سے چپک گئی تھی، اس کی آنکھوں میں بے چارگی تھی۔ بل کو معلوم تھا کہ یہ اونٹ ایک دو گھنٹے میں خود بہ خود مر جائے گا۔

اس نے اپنی چھری نکالی۔ چارلی نے یہ دیکھ کر چیخ کر کہا:
“کیا کر رہے ہو؟! اپنے اونٹ کو ذبح کرو گے؟ یہ بھی کوئی راستہ ہے؟ مرنا ہے تو اس طرح مر، مگر اتنا بے رحم مت بن۔

بل نے جواب نہ دیا۔ اس کا ہاتھ بالکل نہیں کانپ رہا تھا۔ اس نے اونٹ کی گردن پر ہاتھ پھیرا، جیسے معافی مانگ رہا ہو، پھر ایک ہی وار میں اسے سُلا دیا۔ اونٹ کی آنکھیں بند ہو گئیں، اس کی سانس رک گئی، اور اس کا جسم ٹھنڈا پڑنے لگا۔
چارلی نے منہ پھیر کر ریت میں منہ چھپا لیا۔ وہ رونا چاہتا تھا مگر آنسو نہیں تھے۔

لیکن بل نے چھری سے اونٹ کے کُبّے، اس کے پیٹ کے اندر والے خانے، کو احتیاط سے چیرا۔ اس کے ہاتھ خون میں لت پت تھے، مگر وہ کانپا نہیں۔ پھر اس نے اپنی مشک نکالی اور اونٹ کے جسم کے اندر سے، اس کے معدے اور گردوں کے قریب، پانی کے قطرے ٹپکنے لگے۔

وہ پانی صاف تھا، ٹھنڈا تھا، اور ذرا نمکین مگر پینے کے قابل تھا۔ یہ اونٹ نے اپنی زندگی بھر جو نمی جمع کر رکھی تھی، وہ آخری امانت جو اس نے اپنے مالک کے لیے چھوڑی۔

بل نے تقریباً ڈیڑھ لیٹر پانی مشک میں بھر لیا۔ پھر وہ چارلی کے پاس آیا اور اسے پیالے میں پانی دے کر بولا:
“پی لے، چارلی۔ یہ اونٹ مر گیا، مگر اس کے اندر سے ہمیں زندگی ملی ہے۔ ہم نے ایک جان کھوئی، مگر دو جانیں بچیں۔ منفی سوچ مرتے ہوئے اونٹ میں صرف موت دیکھتی ہے، مثبت سوچ مرنے والے میں بھی زندگی ڈھونڈ لیتی ہے۔”

چارلی نے آنکھیں کھولیں۔ اس نے پانی دیکھا تو اس کے ہونٹ کانپنے لگے۔ وہ چیخ کر رونے لگا مگر پانی نہ بہا سکتا تھا، پیتے ہوئے اس کی آنکھوں سے خون کے آنسو گرے۔ اس نے پانی پیا اور پہلی بار سوچا: “کیا بل ہمیشہ صحیح ہے؟ کیا میں ہمیشہ غلط دیکھتا ہوں؟”
اس رات دونوں نے اسی اونٹ کے گوشت کو جلا کر کھایا اور پانی پیا۔ اور اگلے چار دنوں میں اسی وجہ سے وہ صحرا پار کر گئے۔

صحرا کے بعد ایک گھنا اور پراسرار جنگل تھا۔ یہ کوئی عام جنگل نہ تھا، یہ سوچوں کا جنگل تھا۔ یہاں ہر قدم پر نئے مناظر، نئی آوازیں، نئے رنگ اور نئے خطرات تھے۔ پرندے جن کے رنگ کبھی نہ دیکھے تھے، پودے جن کی شاخیں عجیب طرح مڑی ہوئی تھیں، اور رات کو جانوروں کی آوازیں جن سے دل کانپ جاتا تھا۔

چارلی کا سفر، منفی سوچ کا شکار،
چارلی کو ہر نئی چیز وہم میں ڈال دیتی۔ اسے درختوں کی جھاڑیاں بھوت لگتیں، پرندوں کی اڑان وہ سمجھتا کہ کوئی اڑن بلا ہے، اور ہوا کی سرسراہٹ اسے کالے سانپ کا ڈر دلاتی۔ وہ آہستہ آہستہ اپنے آپ سے بڑبڑاتا:

“یہ سب غلط ہے، میں نے زندگی کی سب سے بڑی غلطی کی۔ میں اس پاگل بل کے ساتھ کیوں آ گیا؟ اب نہ پیچھے جا سکتا ہوں، نہ آگے جانے کی ہمت ہے۔ یہ جنگل مجھے کھا جائے گا، میں یہاں مر جاؤں گا، اور کوئی مجھے ڈھونڈنے والا بھی نہیں۔”

وہ ہر شاخ پر اپنا قاتل دیکھتا، ہر پتے پر اپنی موت کا خط پڑھتا۔ ایک دن اس نے ایک چھوٹا سا جھرنا دیکھا، پانی صاف اور ٹھنڈا تھا مگر اس نے سوچا: “یہ پانی زہریلا ہوگا، جنگل میں صاف پانی نہیں ہوتا۔” اور اس نے پینے سے انکار کر دیا۔ بھوک لگی تو اسے پھل دکھائی دیے، مگر وہ بولا: “یہ پھل زہر دے کر ماریں گے۔” وہ بھوکا ہی رہا۔

رات کو وہ بھیڑیوں کی آواز سن کر پورا کانپتا، اور بل سے کہتا:
“سن رہا ہے؟ وہ ہمیں ڈھونڈ رہے ہیں۔ کل صبح تک وہ یہاں آ جائیں گے۔ ہمیں بھاگنا چاہیے، ابھی، ابھی۔”

بل ہر بار صبر سے سمجھاتا، مگر چارلی کا دل نہ مانتا۔ وہ سوچنے لگا کہ یہ جنگل تو اسے کھا جائے گا، اور بل اس کی موت کا سبب ہے۔

چند دنوں میں چارلی نے جنگل سے کچھ نہیں سیکھا، سوائے اپنے خوف کے۔ وہ ہر نئی چیز سے بھاگا، ہر آواز سے ڈرا، اور ہر امکان کو منفی دیکھا۔ وہ جنگل میں وہی بنا رہا جو وہ گاؤں میں تھا، ایک خوف زدہ، مایوس انسان۔

جبکہ بل ہر چیز کو دیکھ کر مسرور ہوتا۔ وہ ایک بار رکا اور ایک نیلے پرندے کو دیکھنے لگا، وہ پرندہ پانی کی طرح چمک رہا تھا۔ بل نے گھنٹوں اسے دیکھا، اس کی چہچہاہٹ سنی، اس کے پروں کے رنگوں کو پرکھا۔ پھر اس نے چارلی سے کہا:

“دیکھ، اگر ہم گاؤں میں ہی رہتے تو یہ پرندہ کبھی نہ دیکھ سکتے۔ کتنی خوبصورت خوشی ہے۔ ہم نے سفر کیا تو یہ نظارہ ملا۔ ہر نئی چیز ایک نیا سبق ہے، چارلی۔”

اس نے زہریلے پھولوں کو پہچاننا سیکھا  کیونکہ اس نے ایک دن ایک پتے کو چھوا اور اس کا رنگ بدلا، پھر اس نے تجربہ کیا کہ کون سے پھل کھانے کے قابل ہیں۔ اس نے جھرنے کا پانی پیا تو معلوم ہوا وہ صاف اور شیریں تھا۔ اس نے بھیڑیوں کی آوازوں کی سمت سمجھ کر یہ جان لیا کہ وہ کبھی اس کیمپ کے قریب نہیں آتیں۔

بل نے جنگل سے بہت کچھ سیکھا:

· اس نے صبر سیکھا، کیونکہ جنگل میں جلدی کرنے والا کھو جاتا ہے۔
· اس نے مشاہدہ سیکھا  کیونکہ ہر پتے میں ایک نشانی ہوتی ہے۔
· اس نے گزرنے کا راستہ سیکھا  کیونکہ جنگل میں سیدھی لکیر نہیں ہوتی، مگر آگے بڑھنے والے کو راستہ مل ہی جاتا ہے۔

بل نے چارلی سے کہا:
“دیکھ، یہ جنگل ہمیں کچھ سکھا کر جانے دے گا۔ صحرا نے ہمیں زندگی کی قدر سکھائی، یہ جنگل ہمیں صبر اور مشاہدہ سکھائے گا۔ منفی سوچ دیکھتی ہے ہر چیز میں موت، مثبت سوچ ہر چیز میں ایک سبق ڈھونڈ لیتی ہے۔”

دو ہفتے انہوں نے جنگل میں گزارے۔ جب وہ جنگل کے آخر تک پہنچے تو چارلی وہی ہمیشہ کی طرح مایوس اور خوف زدہ تھا۔ اس نے کچھ نہیں سیکھا۔ لیکن بل کی آنکھوں میں ایک نیا نور تھا، وہ جنگل سے مضبوط نکلا تھا۔

جب وہ جنگل کے آخر سے نکلے تو سامنے ایک شاندار شہر کے دروازے تھے، بلند و بالا مینار، سونے کے گنبد، اور دروازوں پر چاندی کے نقش و نگار۔ یہ تھی “ریاستِ کامیابی”۔

شہر کے دروازے پر پہرے داروں نے انہیں دیکھتے ہی گھیر لیا۔ ان کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے، چہرے جلے ہوئے، اور ہاتھوں میں کوئی پہچان نہ تھی۔

پہرے داروں کا سردار بولا:
“تم کون ہو؟ کیوں آئے ہو؟ کسی دشمن ریاست کے جاسوس تو نہیں؟”
چارلی ڈر سے کانپنے لگا۔ اس نے بل کی طرف دیکھا  لیکن اس بار وہ بھی خاموش تھا۔ دونوں کو بغیر کسی سوال کے بیڑیاں پہنا دی گئیں اور شہر کی اندرونی جیل میں ڈال دیا گیا۔

جیل تاریک تھی، دیواروں سے پانی ٹپکتا، فرش پر کیچڑ، اور ہوا میں سڑاند کی بو۔ ایک چھوٹی سی جھلملاتی روشنی دور ایک کونے میں تھی۔

چارلی نے جاتے ہی سر پیٹ لیا:
“میں جانتا تھا! میں نے پہلے ہی کہا تھا، یہ راستہ موت کی طرف جا رہا تھا۔ اب دیکھ، ہم جیل میں ہیں، اور کل ہمیں پھانسی دے دی جائے گی۔ بل، تم نے مجھے برباد کر دیا۔”

بل خاموش رہا۔ وہ دیوار سے لگ کر بیٹھ گیا اور اس چھوٹی سی روشنی کو دیکھنے لگا، جو دور ایک نکے سے سوراخ سے آ رہی تھی۔ اس نے چارلی سے کہا:
“یہ روشنی دیکھ؟ یہ بتاتی ہے کہ جیل کے باہر دن ہے۔ جب تک روشنی ہے، امید ہے۔ ہم یہاں ہیں، مگر زندہ ہیں  اور جب تک زندہ ہیں، کچھ بھی ہو سکتا ہے۔”

چارلی نے اس کی طرف غصے سے دیکھا:
“تم پھر اپنی اسی مثبت سوچ کے نغموں میں پڑے ہو؟ یہی سوچ تمہیں لے آئی یہاں۔ اب ہم مر جائیں گے، اور تمہاری وہ سوچ تمہیں بچا نہ سکے گی۔”

بل نے جواب نہ دیا۔ اس نے آنکھیں بند کر کے سوچنا شروع کر دیا۔ جیسے وہ جیل کی دیواروں کو اپنی سوچ سے توڑ رہا ہو۔

اسی ریاست میں بادشاہ “قسمت” بیما ر تھا، موت کے قریب۔ اس کی عمر سو برس تھی، اور اسے معلوم تھا کہ اب بس چند دن باقی ہیں۔ اس نے اپنے وزیرِ اعظم کو بلایا اور کہا:

“میرے بعد اس ریاست کا نیا سلطان کون ہوگا؟ میرے کوئی بیٹا نہیں، میری ایک ہی بیٹی ہے، مسرت  اور وہ عورت ہے، وہ سلطنت نہیں سنبھال سکتی (یہ اس زمانے کی رسم تھی)۔”

وزیرِ اعظم نے کہا:
“یا بادشاہِ وقت، رسم ہے کہ جو شخص آپ کی آخری وصیت کے مطابق تین خوبیوں کا مالک ہو، وہی تخت کا حقدار ہے۔ آپ فرمائیں، وہ خوبیاں کون سی ہیں؟”

بادشاہ نے اپنی بے جان آنکھوں میں تھوڑی سی چمک لائی اور کہا:
“میں نے اپنی زندگی میں دیکھا ہے۔
اچھا بادشاہ وہی بن سکتا ہے جس کی آنکھوں میں امید ہو (تاکہ وہ دور کی خوشیاں دیکھ سکے)، جس کے ہاتھوں میں صبر ہو (تاکہ وہ مصیبت میں نہ گھبرائے)، اور جس کی ٹانگوں میں استقامت ہو (تاکہ وہ ایک بار فیصلہ کر لے تو پیچھے نہ ہٹے)۔

یہ وہ تین خوبیاں ہیں جو مجھ میں تھیں، جو میرے باپ میں تھیں، اور جو اب اس ریاست میں کہیں کھو گئی ہیں۔ جاؤ، میرے وزیر، پوری ریاست میں ڈھونڈو، بازاروں میں، گلیوں میں، فوج میں، مکتبوں میں، کوئی ایسا شخص جس کی آنکھوں میں امید، ہاتھوں میں صبر، اور ٹانگوں میں استقامت ہو۔ اسے میرے پاس لاؤ، میں اپنی آنکھوں سے دیکھوں گا۔”

وزیرِ اعظم نے پوری ریاست میں تلاش کرائی، ہزاروں افراد کو پرکھا گیا۔

· کسی کی آنکھوں میں امید تھی مگر ہاتھوں میں صبر نہ تھا، وہ بہت جلدی ہار مان جاتا تھا۔
· کسی کے ہاتھوں میں صبر تھا مگر آنکھیں مایوس تھیں، وہ صبر تو کر لیتا مگر آگے بڑھنے کا ارادہ نہ رکھتا۔
· کسی کی ٹانگوں میں استقامت تھی مگر آنکھوں میں اندھیرا تھا، وہ بہت ضدی تھا مگر غلط راہ پر۔

جب کوئی نہ ملا۔ وزیرِ اعظم پریشان ہو گیا۔

آخری دن اس نے کہا:
“یا بادشاہِ، ہمیں کوئی نہ ملا۔ لوگ یا تو مایوس ہیں، یا بے صبرے ہیں، یا بے استقامت ہیں۔”

بادشاہ نے آنکھیں بند کر لیں۔ اسے لگا کہ اب اس کی سلطنت بغیر بادشاہ کے رہ جائے گی۔

لیکن اسی وقت جیل کے داروغہ آیا اور کہا:
“حضور، ہمارے پاس دو قیدی ہیں، جاسوس کے شک میں پکڑے گئے۔ ایک ان کا نام چارلی ہے اور دوسرے کا بل۔ ان میں سے وہ شخص، بل، پچھلے تین دنوں سے جیل میں بیٹھا اسی ایک روشنی کی کرن کو دیکھ رہا ہے اور کبھی مایوس نہیں ہوا۔ اس کے ساتھی نے تو اسے چھوڑ دیا ہے۔ وہ الگ بیٹھا لعنت بھیج رہا ہے۔ لیکن بل ہم سے کھانا مانگتا ہے، پانی مانگتا ہے، اور اپنے ساتھی کو بھی دیتا ہے۔ اس نے ایک بار بھی ہمارے خلاف بدتمیزی نہیں کی۔”

وزیرِ اعظم نے کہا:
“اسے فوراً میرے پاس لاؤ!”

بل اور چارلی کو جیل سے نکال کر محل کے دربار میں لایا گیا۔ بادشاہ اپنے بسترِ مرگ پر لیٹا تھا، اس کے ارد گرد وزیر، منتر، اور شہزادی مسرت بیٹھی تھی۔

وزیرِ اعظم نے چارلی اور بل سے کہا:
“اے قیدی، بتاؤں تو صحیح، تم کون ہو؟ اور ان تین سوالوں کے جواب تو ذرہ دو۔”

پہلا سوال (آنکھوں کی امید کے لیے):
“اگر تمہاری آنکھوں کے سامنے کوئی دیوار ہو تو تو کیا دیکھوں گے؟”

چارلی بولا: “دیوار، جو مجھے روک رہی ہے۔”

بل نے کہا: “میں دیکھوں گا وہ راستہ جو دیوار کے اوپر سے، نیچے سے، یا ارد گرد سے جاتا ہے۔ اگر نہ ہو، تو میں بیٹھ کر انتظار کروں گا کہ کوئی دروازہ بن جائے۔ آنکھوں میں امید رکھنے والا دیوار کو منزل نہیں سمجھتا، وہ اسے ایک امتحان سمجھتا ہے۔”

بادشاہ نے ہلکی سی مسکراہٹ دی۔

دوسرا سوال (ہاتھوں کے صبر کے لیے):
“اگر تمہارے ہاتھوں میں چھری ہو اور سامنے دشمن، تو تم کیا کرو گے؟”

چارلی بولا: “وار کر دوں گا پہلے، بچاؤ کے لیے۔”

بل نے کہا: “میں پہلے دیکھوں گا کہ وہ دشمن ہے بھی یا نہیں۔ صبر یہ ہے کہ جلدی نہ کی جائے۔ ہاتھوں میں صبر رکھنے والا پہلے سوچتا ہے، پھر کرتا ہے  اور جب کرتا ہے تو پھر پیچھے نہیں ہٹتا۔ مگر بے جا تشدد نہیں کرتا۔”

بادشاہ نے آنکھیں کھول دیں۔

تیسرا سوال (ٹانگوں کی استقامت کے لیے):
“اگر تم پہاڑ پر چڑھ رہے ہو اور آدھے راستے میں سب کہیں کہ تو واپس آ جاؤ، تو کیا کروں گئے؟”

چارلی بولا: “واپس آ جاؤں گا  کیونکہ لوگ کہتے ہیں تو صحیح کہتے ہوں گے۔”

بل نے کہا: “میں اپنی منزل دیکھ چکا ہوتا ہوں۔ جب تک میرے ٹانگوں میں طاقت ہے، میں چڑھتا رہوں گا۔ اگر سب واپس بلا رہے ہیں تو میں رک کر سنوں گا  مگر اگر مجھے یقین ہے کہ میری راہ صحیح ہے تو میں آہستہ مگر لگاتار چڑھتا رہوں گا۔ استقامت یہ ہے کہ ہار نہ مانو  مگر اندھے بھی نہ بنو۔”

بادشاہ نے ہاتھ بڑھایا اور بل کو بلایا. اس نے بل کی آنکھوں میں دیکھا، وہاں امید تھی۔ اس کے ہاتھوں کو چھوا، وہ مضبوط مگر نرم تھے، صبر کا ثبوت۔ اس کی ٹانگوں کو دیکھا، وہ زمین پر مضبوطی سے جمی ہوئی تھیں۔

بادشاہ رونے لگا۔ اس نے کہا:
“یہ وہی ہے جسے میں ڈھونڈ رہا تھا۔ یہ وہ شخص ہے جس کی آنکھوں میں امید، ہاتھوں میں صبر، اور ٹانگوں میں استقامت ہے۔ تم نے جیل میں تین دن گزارے۔ چارلی نے لعنت بھیجی، تم نے روشنی کو دیکھا۔ تم نے صحرا میں اونٹ ذبح کر کے پانی نکالا، تم نے جنگل میں ہر درخت سے سبق سیکھا، تم نے جیل میں امید نہیں چھوڑی۔ یہی ہے وہ بادشاہ جو اس ریاست کا مستحق ہے۔” اور اس طرح وہ کامیاب ریاست کا بادشاہ ہونے کے ساتھ ساتھ بادشاہ قسمت کی بیٹی”مسرت” بطور ہمسفر اس کی ٹھری۔

حاصل سبق:

انسان کی سوچ ہی اس کی تقدیر کا راستہ بناتی ہے۔
ایک ہی صحرا، ایک ہی جنگل، ایک ہی جیل۔ مگر چارلی ہر جگہ موت، خوف اور ناکامی دیکھتا رہا، جبکہ بل ہر مشکل میں امید، سبق اور راستہ تلاش کرتا رہا۔ حالات دونوں کے لیے ایک جیسے تھے، مگر انجام مختلف اس لیے ہوا کیونکہ ان کی سوچ مختلف تھی۔

کہانی یہ سکھاتی ہے کہ:

منفی سوچ انسان کو موقعوں سے پہلے ہی ہرا دیتی ہے۔
وہ دیوار دیکھتی ہے مگر دروازہ نہیں، کانٹے دیکھتی ہے مگر پھول نہیں، اندھیرا دیکھتی ہے مگر روشنی نہیں۔

مثبت سوچ اندھی امید نہیں بلکہ مشکل میں بھی حل تلاش کرنے کی صلاحیت ہے۔
بل نے مرتے ہوئے اونٹ میں پانی دیکھا، جنگل میں سبق دیکھا، جیل میں روشنی دیکھی، اسی لیے وہ دوسروں سے آگے نکل گیا۔

صبر، امید اور استقامت وہ خوبیاں ہیں جو عام انسان کو غیر معمولی بنا دیتی ہیں۔
صرف ذہانت کافی نہیں، انسان کو مشکل وقت میں ثابت قدم رہنا بھی آنا چاہیے۔

انسان کی اصل پہچان آرام میں نہیں، بلکہ مصیبت میں ظاہر ہوتی ہے۔
صحرا، جنگل اور جیل نے دونوں کا اصل کردار دنیا کے سامنے کھول دیا۔

اور شاید کہانی کا سب سے گہرا پیغام یہ ہے:

“زندگی ہر انسان کو ایک جیسا راستہ دیتی ہے، مگر منزل اس کی سوچ طے کرتی ہے۔”


Leave a Reply

NZ's Corner