ایک جنگل میں ایک شیر خارش کے مرض میں مبتلا ہو گیا۔ علاج اور دواؤں کے باوجود اس کی بیماری دن بدن بڑھتی گئی اور وہ اتنا کمزور ہو گیا کہ اس میں شکار کرنے کی طاقت بالکل ختم ہو گئی۔ ایک لومڑی اس کی خدمتگار اور مصاحب تھی، جو شیر کے شکار کا بچا ہوا حصہ کھا کر اپنی گزر بسر کرتی تھی۔ جب شیر خود شکار کے قابل نہ رہا تو لومڑی بھی شدید پریشان ہوئی، کیونکہ اس کی روزی کا دارومدار بھی اسی پر تھا۔
ایک دن ایک لومڑی شیر کے پاس آ کر کہا: “اے جہاں پناہ! آپ کی بیماری نے جنگل کے تمام جانوروں کو پریشان اور اداس کر دیا ہے۔ تمام رعایا کو آپ کی کمزوری کا احساس ہے، کہیں کوئی دوسرا جانور اس کا غلط فائدہ نہ اٹھا لے۔ آپ اپنی بیماری کا کسی اچھے طبیب سے علاج کیوں نہیں کرواتے؟”
شیر نے آہ بھر کر جواب دیا: “میں خود ایک عرصے سے اس غم میں گھل رہا ہوں، مگر میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔ میں نے کئی حکیموں سے علاج کروایا مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ البتہ ایک طبیب پر مجھے بڑا اعتماد ہے، اس کا کہنا ہے کہ اگر کسی گدھے کا دل اور کان کھائے جائیں تو یہ خارش ہمیشہ کے لیے دور ہو سکتی ہے۔ میں اسی فکر میں ہوں کہ کسی طرح کوئی گدھا ہاتھ آئے تو اس مصیبت سے نجات پاؤں۔”
لومڑی نے موقع غنیمت جانا اور بولی: “اگر آپ اجازت دیں تو میں کوئی تدبیر کر کے کسی گدھے کو اس جنگل میں لے آؤں اور آپ اس کا شکار کریں۔” شیر نے خوش ہو کر اجازت دے دی۔
لومڑی فوراً ایک ندی کے پاس گئی جہاں ایک دھوبی کا گدھا روزانہ کپڑے دھونے آتا تھا اور اس کا گدھا بوجھ ڈھوتا رہتا تھا۔ لومڑی نے گدھے کے پاس جا کر بڑے مکارانہ انداز میں پوچھا: “بھائی جان! آپ اتنے غمگین کیوں نظر آ رہے ہیں؟”
گدھے نے آہ بھر کر کہا: “یہ دھوبی مجھ سے مسلسل کام لیتا ہے اور مجھے کھانے کے لیے گھاس بھی برابر نہیں دیتا۔ میں اس غم میں گھل رہا ہوں اور اسے میری ذرا بھی پروا نہیں۔ ممکن ہے کہ میں اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھوں۔”
لومڑی نے موقع پا کر کہا: “بھائی! آپ تو ماشاءاللہ اتنے عقل مند ہیں، پھر آپ یہ مصیبت کیوں اٹھا رہے ہیں؟ اس جنگل کے قریب ایک طلسمی اور خوبصورت جنگل ہے جو عقل مندوں نے جانوروں کی تفریح کے لیے بنایا ہے۔ وہاں نہ تو کوئی کام کا بوجھ ہے اور نہ ہی کسی قسم کی تکلیف۔ آپ میرے ساتھ چلیے اور وہاں آرام سے رہیے۔”
دھوبی کا گدھا لومڑی کی میٹھی اور چکنی چپڑی باتوں میں آ گیا اور اس کے ساتھ روانہ ہو گیا۔ لومڑی اسے سیدھا شیر کے پاس لے آئی۔ شیر نے جیسے ہی گدھے کو دیکھا، بے تاب ہو کر اس پر جھپٹا اور پنجہ مارا، مگر اپنی شدید کمزوری کے باعث وہ گدھا کو پکڑ نہ سکا. گدھا ڈر کر خوفناک آواز نکالتا ہوا بھاگ نکلا.
شیر کو اپنی کمزوری پر بہت غصہ آیا اور وہ لومڑی پر برس پڑا کہ اس نے اتنی جلد بازی کیوں کی۔ لومڑی نے ڈرتے ہوئے عذر پیش کیا اور کہا کہ بادشاہوں کو اس طرح غصہ نہیں کرنا چاہیے، میں دوبارہ کوئی تدبیر کر کے اس گدھے کو واپس لے آتی ہوں.
لومڑی دوسری بار پھر گدھے کے پاس گئی اور اسے دھوکا دیتے ہوئے کہا: “بھائی جان! آپ اتنے عقل مند ہو کر اس جادوئی شیر سے کیوں گھبرا کر بھاگ آئے؟ وہ تو ایک طلسم ہے جو عقل مندوں نے جانوروں کی تفریح کے لیے بنایا ہے۔ وہ شیر نہیں بلکہ صرف ایک سایا تھا، اور وہ تو مجھ سے پیار کرتا ہے، مگر کمزور اور ناواقف ہونے کی وجہ سے آپ ڈر گئے۔”
بے وقوف گدھا لومڑی کی فریب کاری میں دوبارہ آ گیا اور اس کے ساتھ واپس چل پڑا. لومڑی نے اسے شیر کے بالکل قریب پہنچا دیا اور ہدایت کی کہ اب کی بار بالکل خاموش کھڑے رہنا. گدھا وہاں گیا اور اطمینان سے گھاس کھانے لگا، کیونکہ وہ بھوکا بھی بہت تھا. تھوڑی دیر بعد وہیں گھاس کھاتے کھاتے سو گیا.
شیر نے موقع غنیمت جانا، سوتے ہوئے گدھے پر حملہ کر کے اس کا پیٹ پھاڑ ڈالا، اور لومڑی سے کہا کہ “میں ذرا نہا کر واپس آتا ہوں، تب تک تم یہیں اس کی نگبانی کرو، میں اس کے کان اور دل کھاؤں گا تاکہ اس بیماری سے ہمیشہ کے لیے نجات پا سکوں.”
جب شیر دریا پر نہا کر واپس لوٹا تو دیکھا کہ گدھے کے کان اور دل غائب ہیں (لومڑی پہلے ہی مزے سے وہ لذیذ حصے کھا چکی تھی). شیر نے غصے سے پوچھا: “اس گدھے کے کان اور دل کہاں ہیں؟”
چالاک لومڑی نے مسکرا کر کہا: “بادشاہ سلامت! اس گدھے کی عمر دراز ہو، اگر اس کا دل ہوتا تو یہ دوسری بار یہاں واپس نہ آتا، اور اگر اس کے کان ہوتے تو یہ میری باتوں میں آ کر دوبارہ اس مصیبت میں جان نہ دیتا!”
نتیجہ: یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ انسان یا جانور کو عقل اور تجربے سے کام لینا چاہیے اور چالاک اور مکار لوگوں کے فریب میں بار بار نہیں آنا چاہیے


