دیانتداری کا صلہ

دیانتداری کا صلہ

یہ ایک سچی اور دل کو چھو لینے والی ایمان افروز کہانی ہے جو توکل، دیانت داری اور اللہ کی غیبی مدد پر یقین کو تازہ کرتی ہے:ایک مرتبہ ایک غریب لکڑہارا جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر شہر کی طرف جا رہا تھا۔
شدید گرمی اور تپتی دھوپ کی وجہ سے وہ بہت تھک چکا تھا۔ راستے میں ایک گھنے درخت کے نیچے وہ آرام کرنے کے لیے رک گیا۔ اس نے لکڑیوں کا گٹھا ایک طرف رکھا اور وہیں بیٹھ گیا

ابھی وہ سستانے ہی لگا تھا کہ اس کی نظر درخت کی جڑ کے پاس مٹی میں دبے ہوئے ایک چمڑے کے تھیلے پر پڑی۔ لکڑہارے نے تجسس کے مارے مٹی ہٹائی اور تھیلا باہر نکالا۔ جب اس نے تھیلے کا منہ کھولا تو اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔

وہ تھیلا سونے کے قیمتی سکوں سے بھرا ہوا تھا۔لکڑہارا انتہائی غریب تھا، اس کے گھر میں کئی دن سے فاقے چل رہے تھے۔ ایک لمحے کے لیے اس کے ذہن میں خیال آیا کہ یہ سکے اس کی زندگی بدل سکتے ہیں۔
لیکن اگلے ہی پل اس کے دل میں اللہ کا خوف اور ایمان جاگ اٹھا۔ اس نے سوچا: “یہ مال میرا نہیں ہے، یہ کسی کی امانت ہے اور امانت میں خیانت کرنا ایک مومن کا شیوہ نہیں ہو سکتا۔

اس نے تھیلا ویسے ہی بند کیا اور سیدھا شہر کے قاضی (جج) کے پاس پہنچ گیا۔ قاضی کے سامنے تھیلا رکھتے ہوئے اس نے پورا واقعہ سنا دیا۔ قاضی لکڑہارے کی اس ایمانداری کو دیکھ کر بہت حیران ہوا،
کیونکہ تھیلے میں موجود رقم سے وہ لکڑہارا پوری زندگی عیش و عشرت سے گزار سکتا تھا۔ قاضی نے وہ تھیلا اپنے پاس رکھ لیا اور لکڑہارے کو دعائیں دے کر رخصت کر دیا۔
کچھ ہی دنوں بعد، شہر کا ایک بہت بڑا تاجر روتا ہوا قاضی کی عدالت میں آیا۔ اس نے بتایا کہ چند دن پہلے جنگل کے راستے سفر کرتے ہوئے اس کے سونے کے سکوں کا تھیلا کہیں گر گیا تھا، جس کی وجہ سے وہ دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔
قاضی نے اس سے تھیلے کی نشانیاں پوچھیں۔ تاجر نے بالکل صحیح نشانیاں بتائیں تو قاضی نے لکڑہارے کا لایا ہوا تھیلا اس کے سامنے رکھ دیا۔تاجر اپنے گم شدہ سکے پا کر خوشی سے نہال ہو گیا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔
قاضی نے تاجر کو بتایا: “یہ تھیلا تمہیں ایک غریب اور فاقہ کش لکڑہارے کی وجہ سے ملا ہے۔ اگر وہ چاہتا تو اسے چھپا سکتا تھا، لیکن اس کے ایمان نے اسے ایسا کرنے سے روک دیا۔”یہ سن کر تاجر کا دل بھر آیا۔
اس نے قاضی سے اس لکڑہارے کا پتہ پوچھا اور فوراً اس کے گھر پہنچ گیا۔ تاجر نے لکڑہارے کی دیانت داری اور تقویٰ سے متاثر ہو کر نہ صرف اس چمڑے کے تھیلے کے آدھے سکے اسے تحفے میں دے دیے، بلکہ اپنی تجارت میں اسے اپنا حصہ دار بھی بنا لیا۔
اس طرح اس غریب لکڑہارے کو اس کے ایمان اور حلال رزق پر سمجھوتہ نہ کرنے کے بدلے اللہ تعالیٰ نے دنیا میں بھی عزت اور غیب سے رزق عطا فرمایا، اور اس کا ایمان مزید پختہ ہو گیا۔

سبق: یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ جو انسان اللہ کے خوف سے حرام مال کو چھوڑ دیتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر اور حلال طریقے سے عطا فرما دیتا ہے۔ یقیناً ایمان کی طاقت ہی انسان کی سب سے بڑی دولت ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner