دنیا کے بہت سے علاقوں میں پراسرار مخلوقات کی کہانیاں عام پائی جاتی ہیں۔ دنیا میں کہیں بالوں سے بھرے ایک طویل قامت آدمی کو دیکھنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے تو کہیں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ برفانی علاقوں میں بڑی جسامت کے دیوہیکل انسان رہتے ہیں۔ ایسی کہانیاں دنیا کے مختلف خطوں میں پائی جاتی ہیں لیکن کیا واقعی ان کہانیوں میں کوئی سچائی بھی موجود ہے یا یہ صرف کہانیاں ہی ہیں۔ آج ہم دنیا کی ان پراسرار مخلوقات میں سے چند ایک کے بارے میں جاننے کی کوشش کریں گے۔
دنیا میں پراسرار مخلوقات کی کہانیوں میں سے ایک مشہور کہانی بعض ممالک کے دور افتادہ پہاڑوں اور جنگلوں میں پایا جانے والا ایک ایسا جانور ہے جو جسامت میں بہت بڑا ہے اور دیکھنے میں ریچھ اور انسان کا امتزاج نظر آتا ہے۔ اسے اس کے بڑے بڑے پیروں کی وجہ سے مغربی ممالک میں ”بگ فٹ“ بھی کہا جاتا ہے۔ ایسا ہی ایک جانور نما انسان پاکستان سمیت ایشیائی ممالک خصوصاً ہمالیہ کے پہاڑوں میں بھی دیکھنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے جسے یہاں کی مقامی زبان میں ”یٹی“ کہا جاتا ہے۔
اب تک ہزاروں لوگ یہ دعویٰ کرچکے ہیں کہ انہوں نے پہاڑوں کی بلندیوں پر یا جنگلوں کی گہرائی میں اس دیوہیکل جانور کو دیکھا ہے۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اس کا جسم ریچھ کی طرح بالوں سے بھرا ہوتا ہے لیکن یہ انسانوں کی طرح سیدھا کھڑا ہو کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا چلتا ہے۔ لوگوں نے اس کے انتہائی بڑے پیروں کے نشانات بھی دیکھے ہیں اور بعض تصاویر اور ویڈیو میں بھی اسے جنگلوں پہاڑوں میں گھومتے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس ہیبت ناک جانور سے منسوب بالوں کے نمونے بھی دنیا کے مختلف ممالک میں محفوظ ہیں۔
لیکن چونکہ آج تک اس کی موجودگی کا کوئی ثبوت موجود نہیں تھا اس لئے امریکہ، برطانیہ ، فرانس اور جرمنی کے سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے اس جانور سے منسوب بالوں کو مختلف ممالک سے اکٹھا کیا اور ان کے ڈی این اے کا تجزیہ کیا تاکہ سائنسی بنیادوں پر فیصلہ ہوجائے کہ یہ جانور آخر ہے کیا، ان میں سے اکثر نمونے تو جھوٹے نکلے، یعنی بگ فوٹ کے بجاے کالے ریچھ،گائے، گھوڑے ، کتے اور انسان کے بال نکلے. البتہ ایک نمونہ سائنسدانوں کی حیرت اور دلچسپی کا محور بن گیا ہے.یہ نمونہ 40000 ہزار سال پرانے قطبی ریچھ سے ملتا جلتا ہے اور سائنسدان یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یہ نمونہ آج کے دور میں کہاں سے آ گیا۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ شائد یہی جانور ‘یٹی’ یا ‘بگ فوٹ’ ہے.
کہا جا رہا ہے کہ یہ 40000 سال پرانا قطبی ریچھ کی نسل سے تعلق رکھنے والا جانور شائد آج بھی زندہ ہے اور برفانی پہاڑوں میں چھپ کر رہتا ہے. سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ نئے ثبوتوں کی روشنی میں اس پرسرار جانور کو ڈھونڈنے کے لئے مہم جوئی کی جا سکتی ہے۔
ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں قدآور بن مانس سے مشابہہ مخلوق بگ فٹ کی داستانیں عام ہیں- بہت سی امریکی ریاستوں سے مقامی افراد کا یہ دعویٰ سامنے آتا رہا ہے کہ انہوں نے بگ فٹ کا مشاہدہ کیا ہے۔ ایسے افراد کی جانب سے پیش کردہ بگ فوٹ کی ان گنت تصاویر اور ویڈیو فوٹیج بھی موجود ہیں، لیکن ان میں دھندلا پن ہے اور انہیں مصدقہ ثبوت قرار نہیں دیا گیا ہے۔
بعض افراد نے تو بگ فٹ کی جانب سے انھیں اغوا کئے جانے تک کا دعویٰ کیا ہے۔ لیکن سائنسدانوں کی اکثریت کو یہ یقین ہے کہ بگ فٹ صرف اور صرف امریکہ کی لوک داستانوں کا کردار ہے جو افراد اسے دیکھے جانے کا دعویٰ کرتے ہیں، وہ محض غلط شناخت یا دھوکے کا شکار ہوئے ہیں۔
ماہرین کا اسرار ہے کہ اگر یہ مخلوق موجود ہے تو اس کے بارے میں اب تک کوئی جسمانی ثبوت کیوں نہیں ملا۔ لیکن بگ فٹ پر یقین رکھنے والے مایوس نہیں ہیں۔ وہ اب بھی اس کی تلاش پر تلے ہوئے ہیں۔
امریکی مہم جو افراد کی اس جستجو سے مالی فائدہ اٹھانے کے لئے امریکہ کی ریاست اوکلاہاما کی ایوان نمائندگان کے رکن جسٹن ہمفرے نے کچھ عرصہ قبل بگ فٹ شکار کے لائسنس کا بل متعارف کرا دیا ہے تاکہ ان کے اس عمل سے ریاست کے جنوب مشرقی جنگلات کا دورہ کرنے کیلئے سیاحوں کو ترغیب دی جاسکے اور سیاحت کے فروغ سے ریاست کی آمدنی میں اضافہ ہوسکے۔ بگ فٹ تھیوری پر یقین رکھنے والوں کا خیال ہے کہ بگ فٹ یقیناً امریکہ کی سرزمین پر موجود ہے اور حکومت اس حقیقت کو مخفی رکھنا چاہتی ہے۔
2012 میں، ایک محقق ڈاکٹر میلبا ایس کیچم نے یہ دعویٰ کر کے دنیا کو حیران کردیا تھا کہ بگ فٹ صرف مرد نہیں، اس کی جنس مادہ بھی ہے۔ اس نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے امریکی ریاست مشی گن میں بگ فٹ کے ایک کنبے کے کھائے گئے پھلوں کے شواہد اکٹھے کیے ہیں۔ لیکن اس پر اس کی مزید تحقیق سامنے نہیں آئی۔
حیران کن بات یہ ہے کہ اسے دیکھنے کا دعویٰ کرنے والے یہ تسلیم کرتے ہیں کہ بگ فٹ کو دیکھنے کے وقت پراسرار لائٹس دیکھی ہیں۔ ان کے خیال میں اس پر ریسرچ کرنے والے محققین کو بھی اکثر ایسی ہی روشنیوں کی وجہ سے مشکلات درپیش آتی ہیں اور ان روشنیوں کی وجہ سے بگ فوٹ کی کھینچی گئیں تصاویر ہمیشہ دھندلی آتی ہیں۔ امریکہ میں خلائی مخلوق پر یقین رکھنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، ان کا خیال ہے کہ بگ فٹ ایک ایلین ہے جو خود کو پوشیدہ کرلینے کی صلاحیتوں کا حامل ہے۔
بگ فٹ سے ملتے جلتے ایک انسان نما جانور کو پاکستان سمیت کوہ ہمالیہ کے آس پاس رہنے والے بہت سے لوگوں نے بھی دیکھنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اسے اس کے بڑے بڑے پیروں کی وجہ سے مغربی ممالک میں جہاں بگ فٹ کہتے ہیں وہیں ایشیائی ممالک میں اسے،، ییرن ، میچی،، لاما ،، بربانڈو ،”یٹی اور مم “ کہا جاتا ہے۔
یٹی کو برفانی انسان بھی کہا جاتا ہے اور اس کے بارے میں خیال ہے کہ اس کا وطن تبت، نیپال، انڈیا، پاکستان، برما ، چین اور روس کا وہ علاقہ ہے جہاں بلندو بالا برفانی پہاڑ موجود ہیں۔
یٹی تبتی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے جادوئی مخلوق۔ نیپال کے دیہاتیوں کے مطابق تبت کے لاما اور یٹی ایسی مخلوقات ہیں جو پرے برفانی ویرانوں میں رہتی ہیں۔ یہ ویرانے ہمالیہ کے ڈھلوانی جنگلات سے پرے سطح سمندر سے بارہ سے بیس ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہیں۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ان مخلوقات کے ٹھکانے پہاڑی غاروں میں ہوتے ہیں اور یہ رات کے وقت ہی اپنے ٹھکانوں سے نکلتی ہیں۔
پاکستان میں بھی بہت سی ایسے مقامات ہیں جہاں سے کبھی نہ کبھی ان کی موجودگی کی اطلاعت موصول ہوتی رہی ہیں ۔۔ان میں ہزارہ، کشمیر ،کویٹہ ،چمن ، بولان ، زیارت دیامیر اور بلتستان کے دور دراز علاقے شامل ہیں ۔۔
پاکستان کے شمالی اور پہاڑی علاقوں کے لوگ بھی ایسی مخلوق کی موجودگی پر یقین رکھتے ہیں۔ چند بڑے بوڑھے اپنی آنکھوں سے اس مخلوق کو دیکھنے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔ بعض غیرملکی سیاحوں نے سنو لیک (بیافو اور ہسپر گلیشئیرواقع ضلع نگر ) کے آس پاس بڑے بڑے قدموں کے نشانات کی گواہی بھی دی ہے۔ ضلع دیامر میں نانگا پربت سے ملحقہ نہایت گھنے جنگلات پر مشتمل علاقے فیری میڈوز میں بھی لوگ‘‘بربانڈو’’ نام کی کسی ایسی ہی مخلوق کی داستانیں سناتے ہیں۔ ایک مرتبہ کیلاش کی وادیوں میں اسی قسم کی ایک مخلوق دیکھی گئی جس کے متعلق بعض خبریں اخبارات میں بھی شائع ہوئیں۔کچھ عرصہ قبل بھارت کی سرحد پر واقع برما کے علاقے میں بھی ایسا ہی سنا گیا۔
حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ اگر یہ مخلوق موجود نہیں تو مختلف مقامات کے بہت سے لوگ ایک جیسی داستانوں پر کیوں یقین رکھتے ہیں اور اگر موجود ہے توہر طرح کی ٹیکنالوجی اور انسانی کوششوں کے باوجود اب تک کوئی ٹھوس ثبوت سامنے کیوں نہیں آسکا….
یٹی کے بارے میں یہ تصور عام ہے کہ اس کا قد دو سے ڈھائی میٹر کے درمیان ہے۔ شکل انسان نما بندوں جیسی ہے اور پورا جسم بڑے بڑے بالوں سے ڈھکا ہواہے۔اس کا جسم طاقت وَر اور ریچھ کی طرح بالوں سے بھرا ہوتا ہے۔ مبینہ طور پر یہ مخلوق برفانی علاقوں میں پائی جاتی ہے۔ کئی علاقوں میں اس کے پاؤں کے نشانات دیکھنے کے دعوے کیے گئے۔ یہ نشانات انسانی قدموں جیسے مگر سائز میں کئی گنا بڑے تھے۔
پاکستانی دیہاتیوں میں سے جنہوں نے اس دیو کو دیکھا ہے ‘ وہ بتاتے ہیں کہ یہ قریباً بارہ فٹ اونچے جانور ہیں۔ یہ بالکل سیدھے کھڑے ہو کر چلتے ہیں اور بڑی جسامت والے انسان معلوم ہوتے ہیں۔ ان کے چوڑے جسموں پر ان کے لمبے بازو دائیں بائیں جھولتے معلوم ہوتے ہیں۔ ان کے لمبے اور بڑے سر ہوتے ہیں اور یہ نیم انسان اور نیم بندر معلوم ہوتے ہیں۔ ان کی کھال بال دار ہوتی ہے ۔ یہ زیادہ تر پہاڑی چھچھوندر وغیرہ کھاتے ہیں اور کھانے سے پہلے اپنے شکار کو ٹکڑے ٹکڑے کرتے ہیں جیسے انسان گوشت کو پہلے کاٹ لیتاہے۔
پہاڑی علاقوں میں یہ مخلوقات عجیب نہیں سمجھی جاتی تھیں۔ کیونکہ وہاں آپ کو ایسے افراد کی بڑی تعداد مل جاتی ہے جنہوں نے اس مخلوق کو دیکھا ہو۔ تبت کی لاما سے منسوب خانقاہوں میں اس مخلوق کی ممیاں موجود ہیں‘ اور ان کی کھالوں سے بنا سامان بھی موجود ہے لیکن وہ کسی کو اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ وہ اس سامان کو خانقاہ سے لے جائے کیونکہ ان کے خیال میں لیبارٹری میں لے جا کر سائنسدان ان چیزوں کی بے حرمتی کرتے ہیں۔ ان خانقاہوں تک عام لوگوں کی رسائی بھی نہیں ہے۔
برفانی انسان ایک افسانوی مخلوق ہے۔ اگرچہ اسے دیکھنے کا دعویٰ بہت سے لوگوں نے کیا ہے مگر اس کے وجود کا حتمی ثبوت اب تک کوئی پیش نہیں کرسکا۔
یٹی یا بگ فٹ کی تلاش کے لیے اجتماعی سطح پر بھی متعدد کوشش ہوچکی ہیں۔ کئی اداروں نے اس کا کھوج لگانے کے لیے مہمات روانہ کیں جو ناکامی سے دوچار ہوئیں۔ کئی مہم جُو انفرادی طور پر اس کی تلاش میں روانہ ہوئے مگر یٹی یا بگ فٹ انھیں بھی دکھائی نہیں دیا۔ اگرچہ انھوں نے دعوے ضرور کیے مگر وہ اپنے دعووں کی سچائی کا کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکے۔ بگ فٹ کے وجود کا ثبوت حاصل کرنے کے لیے برفانی علاقوں اور جنگلات میں جدید کیمرے لگائے گئے مگر یہ اس مخلوق کی ایک جھلک قید نہیں کرسکے۔
بگ فٹ یا یٹی قلم کاروں اور ہدایت کاروں کا پسندیدہ موضوع رہا ہے۔ اس پر متعدد ناول لکھے گئے ہیں، درجنوں ڈرامے اور فلمیں بنائی جاچکی ہیں۔ ان کی موجودگی کے کوئی شواہد نہ ہونے کے باوجود لوگ اس کے سحر میں مبتلا ہیں۔ بہت سے لوگوں کو یقین ہے کہ یہ مخلوق موجود ہے۔ گاہے بگاہے یٹی یا بگ فٹ کو دیکھنے کے دعوے سامنے آتے رہتے ہیں۔ عام طور پر یہ دعوے مغربی ممالک میں رہنے والے کرتے ہیں۔ بگ فٹ دیکھنے کا تازہ ترین دعویٰ امریکی ریاست کیرولائنا میں سامنے آیا ہے۔ ریاست کے جنوبی حصے میں واقع میک ڈوول کاؤنٹی میں بگ فٹ دیکھے جانے کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ مقامی لوگوں نے اس مخلوق کی تلاش کے لیے ’ بگ فٹ نائن ون ون ‘ کے نام سے ایک گروپ تشکیل دے رکھا ہے۔ گروپ کے قیام کے بعد مقامی لوگوں سے اپیل کی گئی تھی کہ بگ فٹ کے دیکھے جانے کی اطلاع اسے دی جائے۔
یہ تو باتیں ہوگئیں بڑی جسامت کے انسانوں کی لیکن کیا دنیا میں بونے بھی پائے جاتے ہیں یا نہیں؟ کچھ عرصہ قبل سائنسدانوں کو بونے انسانوں کا پتہ چلا ہے جو آج سے صرف بارہ ہزار سال پہلے تک انڈونیشیا میں بستے تھے۔اس نئی دریافت کے بعد سائنسدان نے ’ بگ فُٹ‘ اور’ یٹی‘ جیسے انسانوں کے بارے میں کہانیوں پر زیادہ سنجیدگی سے غور کرنا شروع کر دیا ہے۔
اس نئے انسان کو سائنسدانوں نے ہوبِٹ کا نام دیا ہے اور اس کا قد صرف ایک میٹر تھا لیکن اس کے بازو اس کی جسم کے تناسب سے بڑے تھے اور اس کی کھوپڑی کا سائز ایک بڑے سنگترے جتنا تھا۔
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ لمبے بازوؤں کی ایک وجہ شاید یہ ہے کہ یہ انسان درختوں کے اوپر رہتا تھا۔ اس انسان کے بارے میں معلومات ’نیچر‘ میگزین میں شائع ہوئی ہیں۔
اس دریافت سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا میں بونوں کا وجود تھا اور شاید دنیا کے اب بھی کچھ علاقوں میں بونے رہتے ہوں۔ ماہرین کے مطابق انڈونیشیاء کے جزیرے فلورس پر رہنے والے یہ بونے یا ہوبٹ شاید یہاں آتش فشاں پھٹنے کی وجہ سے ختم ہوگئے۔
بونوں یا ہوبٹس کی سائنسی دریافت کے بعد بگ فٹ اور یٹی کے بارے میں بھی کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ صرف خیالی چیزیں نہیں ہیں بلکہ ان کا حقیقت میں وجود ممکن ہوسکتا ہے۔ اس حوالے سے تحقیق کے میدان کھلے ہیں۔ مستقبل میں اس تحقیق میں کیا بات سامنے آتی ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
دوستو اگر آپ نے یا آپ کے کسی جاننے والے نے بھی ایسی ہی عجیب مخلوق کو دیکھا ہے تو آپ کمنٹ سیکشن میں بتا سکتے ہیں۔
