ایک دن آدمی اپنے محلے کے مشہور کنجوس سیٹھ کے پاس گیا اور بولا:
“سیٹھ جی! آج ھمارے گھر دعوت ھے، اپنی بڑی والی دیگ ذرا ادھار دے دیں۔”
سیٹھ نے دل پر پتھر رکھ کر دیگ دے دی۔ 😄
اگلے دن آدمی دیگ واپس لایا مگر اس کے اندر ایک چھوٹی سی کٹوری بھی رکھی ھوئی تھی۔
سیٹھ نے حیران ھو کر پوچھا:
“یہ کٹوری کس کی ھے؟”
آدمی نے مسکراتے ھوئے بولا:
“مبارک ھو سیٹھ جی! کل رات آپ کی دیگ نے اس ننھی سی کٹوری کو جنم دیا ھے۔ چونکہ دیگ آپ کی ھے، اس لیے بچہ بھی آپ ھی کا ھوا!” 😊
لالچ نے عقل پر پردہ ڈال دیا…
سیٹھ نے خوشی خوشی دیگ بھی رکھ لی اور کٹوری بھی۔ 😁
چند دن بعد آدمی پھر آیا:
“سیٹھ جی! آج پھر دعوت ھے، وھی دیگ چاہیے۔”
سیٹھ نے دل ھی دل میں سوچا:
“اس بار شاید پلیٹوں کا پورا خاندان پیدا ھو جائے!” 🤭
اس نے فوراً دیگ دے دی۔
ایک دن…
دو دن…
تین دن…
دیگ واپس نہ آئی تو سیٹھ غصے سے آدمی کے گھر پہنچ گیا۔
“میری دیگ کہاں ھے؟” 🤔
آدمی نے آنکھوں میں آنسو بھر کر کہا:
“سیٹھ جی…! صبر کریں، کل رات آپ کی دیگ انتقال کر گئی!” 😭
سیٹھ چیخ پڑا:
“ارے بیوقوف! لوھے کی دیگ بھی کبھی مرتی ھے؟”
شعیب نے بڑے سکون سے جواب دیا:
“سیٹھ جی! جب آپ نے یہ مان لیا تھا کہ دیگ بچہ دے سکتی ھے تو اب یہ کیوں نہیں مانتے کہ وہ مر بھی سکتی ھے؟” 🙂
“جو پیدا ھوتا ھے، اسے ایک دن مرنا بھی پڑتا ھے، سیٹھ جی فاتحہ پڑھیں اور گھر جائیں!” 😁😆
اگر لطیفہ اچھا لگا ھو تو ایک کمنٹ کریں، پوسٹ کو لائک کریں۔
