سمندر کے نیلگوں پانیوں کے کنارے ایک بلند و بالا پہاڑی تھی، جس کی چوٹی پر چیونٹیوں کی ایک خوش حال سلطنت آباد تھی۔ پہاڑی کی ڈھلوانوں پر چھوٹے چھوٹے گھر ایسے ترتیب سے بنے تھے جیسے کسی ماہر معمار نے اپنی انگلیوں سے پتھر پر نقش و نگار تراش دیے ہوں۔ کہیں پھولوں کی خوشبو بکھری رہتی، کہیں سبزہ لہراتا اور کہیں پہاڑی کے دامن میں ٹکراتی سمندری لہریں ایسا نغمہ سناتیں کہ سننے والا دنیا کے تمام غم بھول جاتا۔ صبح سورج کی پہلی کرن جب سمندر کی سطح پر پڑتی تو پانی سونے کی چادر اوڑھ لیتا، اور شام کو ڈوبتا سورج آسمان پر سرخی بکھیرتا تو یوں معلوم ہوتا جیسے قدرت نے اپنے ہاتھوں سے افق پر کوئی شاہکار بنا دیا ہو۔ اسی پہاڑی کی بلند ترین جگہ پر چیونٹیوں کے بادشاہ کا محل تھا، جس کے گرد اس کی رعایا کے گھر آباد تھے۔ بادشاہ اپنی دانائی، انصاف اور رحم دلی کے باعث مشہور تھا۔ وہ اکثر اپنی رعایا سے کہا کرتا تھا کہ سلطنت کی عظمت محلوں کی بلندی سے نہیں، بلکہ اس انصاف سے پہچانی جاتی ہے جو اس کی حدود میں بسنے والی ہر مخلوق کو میسر ہو۔ بادشاہ کی ایک شہزادی تھی، جو حسن و ذہانت میں اپنی مثال آپ تھی، مگر اس کے مزاج میں ایک ایسی کمزوری تھی جس کا اسے خود بھی احساس نہ تھا؛ اسے اپنی سلطنت کی خوب صورتی سے اس قدر محبت تھی کہ وہ اس میں کسی معمولی سی بدصورتی کو بھی برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ ایک روز وہ محل کی بالکونی میں کھڑی سمندر کا نظارہ کر رہی تھی کہ اچانک اس کی نظر سامنے کی چٹان پر پڑی۔ وہاں ایک مکڑی نے اپنے باریک دھاگوں سے جالا تن رکھا تھا۔ جالا چٹان کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک پھیلا ہوا تھا اور اس میں صبح کی شبنم کے قطرے موتیوں کی طرح چمک رہے تھے، مگر شہزادی کی نگاہ میں اس کی خوب صورتی کی کوئی قدر نہ تھی۔ اسے وہ جالا اپنی دل کش سلطنت کے چہرے پر ایک بدنما داغ محسوس ہوا۔ اس نے فوراً اپنے محافظ کو بلایا اور کہا، ’’جاؤ، میرے والد کو اطلاع دو کہ میں ان سے ابھی ملنا چاہتی ہوں۔‘‘ کچھ ہی دیر بعد وہ شاہی دربار میں حاضر تھی۔ اس نے بادشاہ کے سامنے اپنا مدعا بیان کرتے ہوئے کہا، ’’ابا حضور! ہمارے محل کے سامنے ایک مکڑی نے جالا بنا لیا ہے۔ یہ ہماری سلطنت کی خوب صورتی کو خراب کر رہا ہے۔ میری درخواست ہے کہ آپ فوراً سپاہیوں کو حکم دیں کہ وہ اسے ختم کر دیں اور مکڑی کو یہاں سے نکال باہر کریں۔‘‘ بادشاہ نے بیٹی کی بات توجہ سے سنی، پھر نرمی سے پوچھا، ’’بیٹی، تمہیں اس جالے سے کیا تکلیف پہنچی ہے؟‘‘ شہزادی نے حیرت سے جواب دیا، ’’ابا حضور! کیا اس کے لیے کسی تکلیف کا پہنچنا ضروری ہے؟ یہ ہماری پہاڑی ہے، ہمارا محل ہے، ہماری سلطنت ہے۔ ہم جس جگہ چاہیں رہیں، جسے چاہیں رکھیں اور جسے چاہیں نکال دیں۔ پھر ایک معمولی مکڑی کو ہمارے سامنے جالا بنانے کی اجازت کیوں دی جائے؟‘‘ بادشاہ کے چہرے پر سنجیدگی اتر آئی۔ اس نے شہزادی کو اپنے قریب بلایا اور کہا، ’’بیٹی، تم جس جگہ کو اپنی سلطنت کہہ رہی ہو، کیا وہ تم نے پیدا کی ہے؟ کیا یہ پہاڑ تم نے بنایا ہے؟ کیا سمندر کی لہریں تمہارے حکم سے اٹھتی اور بیٹھتی ہیں؟ کیا سورج تمہاری اجازت سے طلوع ہوتا ہے؟‘‘ شہزادی خاموش ہو گئی۔ بادشاہ نے بات آگے بڑھائی، ’’ہم اس زمین پر رہتے ہیں، مگر اس کے مالک نہیں۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہے اور ہم بھی اسی کی مخلوق ہیں، جیسے وہ مکڑی ہے۔ جس طرح ہمیں یہاں زندگی گزارنے کا حق ملا ہے، اسی طرح دوسری مخلوقات بھی اپنے حصے کی جگہ میں زندگی گزارتی ہیں۔ ہماری طاقت ہمیں دوسروں کے حقوق چھیننے کا اختیار نہیں دیتی۔‘‘ شہزادی نے فوراً جواب دیا، ’’لیکن ابا حضور! ہم بادشاہ ہیں۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ اپنی سلطنت کو خوب صورت اور صاف ستھرا رکھیں۔ اگر ہر مخلوق جہاں چاہے اپنا گھر بنانے لگے تو ہماری سلطنت کا کیا بنے گا؟‘‘ بادشاہ مسکرایا اور بولا، ’’صفائی اور خوب صورتی اچھی چیزیں ہیں، بیٹی، مگر ہر اچھی چیز کو حاصل کرنے کا ایک درست طریقہ ہوتا ہے۔ اگر کسی کا گھر ہماری آنکھوں کو پسند نہ آئے تو کیا ہم اسے محض اس لیے اجاڑ دیں کہ وہ ہمارے ذوق کے مطابق نہیں؟ اگر وہ کسی کو نقصان نہیں پہنچا رہا، کسی کا حق نہیں مار رہا، تو اسے بے گھر کرنے کا جواز کیا ہے؟ یاد رکھو، ظلم ہمیشہ تلوار لے کر نہیں آتا؛ کبھی وہ اختیار کے لباس میں آتا ہے اور اپنے آپ کو انصاف کا نام دیتا ہے۔‘‘ شہزادی کو باپ کی بات پسند نہ آئی۔ اس نے آخری کوشش کرتے ہوئے کہا، ’’تو کیا آپ میری بات نہیں مانیں گے؟‘‘ بادشاہ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور جواب دیا، ’’بیٹی، تمہاری خواہش کا احترام اپنی جگہ، مگر میں اپنے اختیار کو کسی بے ضرر مخلوق پر ظلم کرنے کے لیے استعمال نہیں کر سکتا۔ وہ مکڑی وہیں رہے گی، جب تک وہ کسی کو نقصان نہیں پہنچاتی۔‘‘ شہزادی خاموشی سے دربار سے نکل آئی، لیکن اس کے دل میں باپ کا انکار ایک کانٹے کی طرح چبھتا رہا۔ اسے محسوس ہوا کہ اس کے والد نے ایک معمولی مکڑی کو اس کی خواہش پر ترجیح دی ہے۔ وقت گزرتا گیا۔ مکڑی اپنے جالے میں رہتی، کبھی اس کی مرمت کرتی، کبھی اس کے دھاگوں کو مزید مضبوط بناتی اور کبھی جالے کے ایک کونے میں خاموشی سے بیٹھی رہتی۔ شہزادی جب بھی بالکونی میں آتی، اس جالے کو دیکھ کر منہ بنا لیتی اور دل ہی دل میں سوچتی کہ اگر اس روز بادشاہ حکم دے دیتا تو یہ بدصورت منظر کب کا ختم ہو چکا ہوتا۔ پھر ایک روز موسم نے اچانک کروٹ بدلی۔ صبح آسمان صاف تھا، سمندر پُرسکون تھا اور پہاڑی پر زندگی معمول کے مطابق رواں دواں تھی، مگر دوپہر ڈھلتے ہی افق پر سیاہ بادل جمع ہونے لگے۔ ہوا نے پہلے آہستہ آہستہ چلنا شروع کیا، پھر اس کی رفتار بڑھنے لگی۔ درخت جھکنے لگے، ریت کے ذرات فضا میں اڑنے لگے اور سمندر کی لہریں غضب ناک ہو کر چٹانوں سے ٹکرانے لگیں۔ پہاڑی پر آباد چیونٹیاں اپنے گھروں میں دبک گئیں۔ بادشاہ نے محافظوں کو حکم دیا کہ محل کے دروازے بند رکھے جائیں اور سب کو محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت دی جائے۔ شام ہوتے ہوتے آندھی اس قدر شدید ہو گئی کہ پہاڑی کے اوپر موجود بڑے بڑے پتھر بھی لرزتے محسوس ہونے لگے۔ اسی دوران شہزادی اپنے کمرے سے نکل کر محل کی بالکونی کی طرف گئی۔ اسے دور سے اپنے گھر والوں کی خیریت معلوم کرنی تھی، مگر جونہی اس نے قدم بڑھایا، ہوا کا ایک تیز جھونکا اسے اپنی گرفت میں لے گیا۔ اس کے ننھے پاؤں پھسلے، وہ لڑکھڑائی اور اگلے ہی لمحے پہاڑی کے کنارے سے نیچے جا گری۔ اس کی چیخ آندھی کے شور میں دب کر رہ گئی۔ وہ ہوا میں ہاتھ پاؤں مارتی ہوئی نیچے کی طرف گر رہی تھی۔ اس کی آنکھوں کے سامنے محل، سمندر اور اپنے والد کا چہرہ گھومنے لگا۔ اسے محسوس ہوا کہ اب موت چند لمحوں کی دوری پر ہے۔ نیچے چٹانیں تھیں، نوکیلے پتھر تھے اور ان کے درمیان گہرا خلا تھا۔ اگر وہ ان پتھروں پر گرتی تو اس کا بچنا تقریباً ناممکن تھا۔ مگر قدرت نے اس کے لیے ایک ایسا انتظام کر رکھا تھا جس کا تصور بھی اس نے کبھی نہ کیا تھا۔ عین اسی مقام پر، جہاں مکڑی نے اپنا جالا بنایا ہوا تھا، شہزادی کا جسم جالے سے ٹکرایا۔ جالا اس کے وزن سے زور سے کھنچا، اس کے باریک دھاگے تن گئے اور شہزادی کا جسم ایک لمحے کے لیے ہوا میں معلق ہو گیا۔ مکڑی فوراً حرکت میں آئی۔ اس نے اپنے دھاگوں کو سنبھالا، جالے کے مضبوط حصوں کی طرف دوڑتی ہوئی پہنچی اور اپنی پوری قوت سے اس ننھی جان کو تھامنے کی کوشش کرنے لگی۔ شہزادی خوف سے کانپ رہی تھی۔ اسے یقین تھا کہ اب جالا ٹوٹ جائے گا، وہ نیچے جا گرے گی اور اس کی زندگی ختم ہو جائے گی۔ مگر مکڑی نے اسے گرنے نہ دیا۔ آندھی کے تھمنے تک وہ اپنے جالے میں پھنسی شہزادی کے گرد گھومتی رہی، اسے سنبھالتی رہی اور اسے چٹان سے ٹکرانے سے بچاتی رہی۔ جب ہوا کا زور کچھ کم ہوا تو مکڑی نے اپنے دھاگوں کی مدد سے شہزادی کو چٹان کے ایک محفوظ حصے تک پہنچا دیا۔ ادھر محل میں جب معلوم ہوا کہ شہزادی غائب ہے تو بادشاہ پر قیامت گزر گئی۔ سپاہیوں کو حکم دیا گیا کہ وہ پہاڑی کے ہر حصے میں اسے تلاش کریں۔ خود بادشاہ بھی آندھی کی شدت کی پروا کیے بغیر محل سے نکل پڑا۔ وہ اپنی بیٹی کو آوازیں دیتا، چٹانوں کے درمیان جھانکتا اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ زیادہ بے چین ہوتا جا رہا تھا۔ اچانک ایک سپاہی نے نیچے کی جانب سے آواز دی، ’’بادشاہ سلامت! شہزادی یہاں ہے!‘‘ بادشاہ تیزی سے اس سمت پہنچا۔ اس نے دیکھا کہ شہزادی چٹان کے ایک محفوظ حصے پر بیٹھی ہے، خوف سے اس کا جسم کانپ رہا ہے، مگر وہ زندہ ہے۔ بادشاہ نے اسے سینے سے لگا لیا اور بار بار اس کے سر کو چومنے لگا۔ کچھ دیر بعد جب شہزادی کی سانسیں معمول پر آئیں تو اس نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا، ’’ابا حضور! میں گر رہی تھی، مجھے یقین تھا کہ اب نہیں بچ سکوں گی، لیکن اس مکڑی کے جالے نے مجھے تھام لیا۔ اسی مکڑی نے مجھے بچایا جسے میں یہاں سے نکلوانا چاہتی تھی۔‘‘ بادشاہ نے ایک نظر اس جالے کی طرف دیکھا، پھر اپنی بیٹی کو سینے سے لگا کر کہا، ’’بیٹی، یاد ہے تم نے مجھ سے کیا کہا تھا؟ تم چاہتی تھیں کہ میں اس مکڑی کو یہاں سے نکال دوں، کیونکہ تمہیں اس کا وجود پسند نہیں تھا۔ اگر میں اس روز تمہاری خواہش پر سپاہیوں کو حکم دے دیتا تو آج شاید تم میرے سامنے زندہ نہ ہوتیں۔ جس مخلوق کو تم اپنی سلطنت کے حسن پر داغ سمجھ رہی تھیں، وہی آج تمہاری زندگی کی محافظ بن گئی۔‘‘ شہزادی کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس نے شرمندگی سے سر جھکا لیا اور دھیمی آواز میں کہا، ’’ابا حضور! میں نے اسے معمولی سمجھا تھا۔ میں نے یہ سوچا ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی ہر مخلوق کی کوئی نہ کوئی اہمیت ہوتی ہے۔‘‘ بادشاہ نے نرمی سے جواب دیا، ’’بیٹی، ہمیں اکثر اپنی نیکی کا پھل اسی وقت نہیں ملتا جب ہم اسے کرتے ہیں۔ کبھی وہ کسی اور صورت میں، کسی اور وقت اور کسی ایسے راستے سے واپس آتا ہے جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ اس روز ہم نے اپنی طاقت ہونے کے باوجود ایک بے ضرر مخلوق کو بے گھر نہیں کیا۔ آج قدرت نے اسی مخلوق کو تمہاری زندگی بچانے کا وسیلہ بنا دیا۔ اگر ہم اسے وہاں سے ہٹا دیتے تو شاید آج یہ جالا نہ ہوتا، اور اگر یہ جالا نہ ہوتا تو شاید تم بھی میرے سامنے نہ ہوتیں۔‘‘ شہزادی دیر تک خاموش رہی۔ اس کی نگاہیں اس مکڑی کے جالے پر جمی تھیں جسے وہ کبھی بدصورتی کی علامت سمجھتی تھی، مگر آج وہ اسے قدرت کے ایک عظیم راز کی صورت دکھائی دے رہا تھا۔ اس دن کے بعد اس نے اپنی سوچ بدل لی۔ اب وہ کسی مخلوق کو محض اس لیے نقصان پہنچانے کی اجازت نہ دیتی کہ وہ اسے پسند نہیں؛ وہ پہلے یہ دیکھتی کہ آیا اس کے وجود سے کسی کو واقعی نقصان تو نہیں پہنچ رہا۔ اس نے جان لیا کہ رحم، انصاف اور نیکی کبھی رائیگاں نہیں جاتے۔ ان کا صلہ ہمیشہ فوری طور پر نہیں ملتا، مگر انسان کا کوئی نیک عمل اللہ تعالیٰ کے علم سے باہر نہیں۔
حاصلِ سبق:
کسی بے ضرر مخلوق پر ظلم نہ کریں، کیونکہ جسے آج آپ معمولی سمجھ کر نظر انداز کر رہے ہیں، کل وہی آپ کے لیے رحمت اور نجات کا وسیلہ بن سکتی ہے۔ نیکی کا صلہ ہمیشہ اسی شکل میں اور اسی وقت نہیں ملتا جس وقت ہم اسے کرتے ہیں، مگر کوئی نیک عمل بے قدر نہیں ہوتا۔ اسی طرح ظلم سے بچ نکلنا اس بات کی ضمانت نہیں کہ اس کا انجام کبھی سامنے نہیں آئے گا۔ اختیار ملے تو اسے کمزور کو دبانے کے لیے نہیں، اس کے حق کی حفاظت کے لیے استعمال کریں؛ کیونکہ قدرت کے فیصلے ہماری توقعات سے کہیں زیادہ گہرے ہوتے ہیں۔

