ایک پُرسکون صبح تھی۔ خانقاہ کے صحن میں ہوا درختوں کے پتوں سے سرگوشیاں کر رہی تھی۔ ایک نوجوان شاگرد، جس کی آنکھوں میں جستجو کی چمک اور دل میں بے قراری کا طوفان تھا، استادِ دانا کے حضور حاضر ہوا۔
ادب سے سر جھکا کر بولا:
“استادِ محترم! مجھے روشنی چاہیے۔ میں حقیقت کی ایک کرن کا طالب ہوں۔”
استاد نے مسکرا کر کوئی جواب نہ دیا۔ خاموشی سے چائے کی کیتلی اٹھائی اور شاگرد کے سامنے رکھے کپ میں چائے انڈیلنے لگے۔
کپ بھرتا گیا… لبریز ہوا… مگر استاد کا ہاتھ نہ رکا۔
چائے کناروں سے چھلکنے لگی، میز پر پھیل گئی، پھر زمین کو بھی تر کرنے لگی۔
شاگرد بے اختیار چیخ اٹھا:
“حضور! کپ بھر چکا ہے، اب اس میں ایک قطرہ بھی نہیں سما سکتا!”
استاد نے کیتلی ایک طرف رکھی، شاگرد کی آنکھوں میں دیکھا اور دھیرے سے بولے:
“بیٹے! تمہارا ذہن بھی اسی کپ کی مانند ہے۔ اپنے خیالات، یقینوں، گمانوں اور پہلے سے بنے ہوئے تصورات سے اس قدر بھرا ہوا کہ نئی روشنی کے لیے جگہ ہی باقی نہیں رہی۔ جب میں علم انڈیلتا ہوں تو وہ بھی اسی چائے کی طرح بہہ جاتا ہے۔”
شاگرد کچھ دیر خاموش رہا، پھر عاجزی سے پوچھا:
“استاد! پھر میں اپنا کپ خالی کیسے کروں؟”
استاد نے مسکرا کر جواب دیا:
“جس لمحے تم یہ مان لو کہ تم سب کچھ نہیں جانتے، اسی لمحے خالی ہونے کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ سوال کرنا اچھا ہے، مگر جواب پہلے سے طے کر لینا جہالت ہے۔ اپنے ذہن کی کھڑکیاں کھولو، تعصب کی گرد جھاڑو، اور سیکھنے والے بن جاؤ۔”
شاگرد نے سر جھکا لیا اور خاموشی سے رخصت ہو گیا۔
تین دن گزرے۔
جب وہ دوبارہ آیا تو اس کے چہرے پر عجیب سی نرمی اور آنکھوں میں انکسار کی روشنی تھی۔
وہ بولا:
“استاد! میں نے اپنے کپ کو خالی کر لیا ہے۔ اب مجھے روشنی عطا فرمائیے۔”
استاد ہنسے، ایسی ہنسی جس میں شفقت بھی تھی اور حکمت بھی۔
فرمایا:
“اب تم خالی ہو چکے ہو، اس لیے روشنی تمہارے اندر خود اتر آئی ہے۔ روشنی کبھی باہر سے نہیں آتی، وہ تو ہمیشہ اندر موجود ہوتی ہے۔ صرف بھرا ہوا کپ اسے چھپا دیتا ہے۔”
شاگرد حیران ہوا اور پوچھ بیٹھا:
“اگر روشنی میرے اندر ہی تھی، تو پھر میں یہاں کیوں آیا تھا؟”
استاد نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی اور کہا:
“یہ جاننے کے لیے کہ تم جس خزانے کی تلاش میں تھے، وہ تمہارے اپنے دل میں موجود تھا۔ تمہیں روشنی نہیں چاہیے تھی، تمہیں صرف اپنے بھرے ہوئے کپ کو خالی کرنا تھا۔”
شاگرد خاموش ہو گیا۔
اس خاموشی میں اسے وہ جواب مل گیا جس کی تلاش میں وہ برسوں بھٹکتا رہا تھا۔
سبق
زندگی کا سب سے بڑا علم یہ جان لینا ہے کہ سیکھنے کے لیے پہلے خالی ہونا پڑتا ہے۔ جو شخص اپنے غرور، تعصب اور پہلے سے قائم تصورات سے لبریز ہو، اس میں حکمت کی کوئی نئی کرن جگہ نہیں پاتی۔ جب دل اور دماغ خالی ہوتے ہیں، تب معرفت خود راستہ ڈھونڈ کر اندر اتر آتی ہے۔
“بھرا ہوا کپ صرف چھلک سکتا ہے، مگر خالی کپ سمندر بھی سمو سکتا ہے۔”
