رات کی تاریکی میں، جب ہوا تھم جاتی ہے اور فضا میں ایک انجانی سنسنی پھیل جاتی ہے، تب کچھ آوازیں انسانی کانوں تک پہنچتی ہیں—ایسی آوازیں جو بظاہر کیڑوں کی لگتی ہیں، مگر جن کے بارے میں قدیم لوگ کہتے تھے کہ یہ جنّات کی سانسیں ہیں۔
انہی سرگوشیوں سے جنم لیتی ہے وہ بدنامِ زمانہ کتاب، جسے دنیا سب سے خطرناک کتاب کہہ کر یاد کرتی ہے…
“کتاب العزيف۔”
یہ کتاب تعویزات، نامعلوم زبانوں، پراسرار علامتوں اور خوفناک تصاویر سے بھری ہوئی ہے—ایسی تصاویر جن کے بارے میں اس کے مصنف نے دعویٰ کیا کہ یہ “جنّات” اور ان مخلوقات کی اصلی صورتیں ہیں جو انسانوں سے بہت پہلے زمین پر گھومتی پھرتی تھیں۔
صنعا کی دھول بھری گلیوں سے تعلق رکھنے والا ایک عرب شاعر،
ایک شخص جسے لوگ “العربی المجنون” کہتے تھے،
ایک ایسا انسان جو ایسی دنیا دیکھتا تھا جسے دوسرے صرف خواب سمجھتے تھے۔
یہ تھا عبداللہ الحظرد۔
کہا جاتا ہے کہ وہ جنّات سے باتیں کرتا تھا،
قدیم مخلوقات کے آثار دیکھتا تھا،
اور وہ راز جانتا تھا جو انسانوں کی عقل سے باہر ہیں۔
اس کا دعویٰ تھا کہ انسان اس دنیا کا پہلا باسی نہیں… بلکہ اس سے پہلے ایسی مخلوقات زمین پر حکمران تھیں جو دوبارہ واپس آنا چاہتی ہیں۔
شاید اسی لیے لوگ کہتے ہیں کہ الحظرد نے کتاب لکھتے وقت اپنی عقل بھی لکھ ڈال دی۔
“العزيف” عربی میں رات کے کیڑوں کی آواز کو کہتے ہیں۔
مگر قدیم عقیدہ یہ تھا کہ یہ آوازیں دراصل جنّات کی فریادیں ہیں،
ان کا چلنا، پھسلنا، اور اندھیروں میں اپنا وجود ظاہر کرنا۔
اسی لیے الحظرد نے اپنی کتاب کا نام “العزيف” رکھا—
رات کی وہ آوازیں، جو ہر کسی کے کان تو سنتے ہیں،
مگر جن کا مطلب صرف “چنیندہ لوگ” ہی سمجھتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ الحظرد بابل کے کھنڈرات تک گیا،
وہاں کے جادوگروں سے ملا،
قدیم تحریریں پڑھیں جنہیں چھونے سے لوگ ڈرتے تھے۔
اس نے ایسے انسان دیکھے جو چھوٹے گھروں میں رہتے تھے،
ایسی قوموں سے ملا جنہیں اس نے “صابئہ” کہا،
اور کئی زبانیں سیکھیں جو اب دنیا سے مٹ چکی ہیں۔
اس کا سب سے خوفناک دعویٰ یہ تھا کہ اس نے قومِ عاد کے شہر کا کھنڈر دیکھا۔
وہ شہر جس کا ذکر قرآن میں ہے۔۔۔
اور وہاں اسے جنّات ملے،
جنہوں نے اسے وہ راز سکھائے…
جو شاید کسی انسان کو کبھی نہیں سیکھنے چاہئیں تھے۔
اس کا یقین تھا کہ انسان اپنی حقیقت تبھی جان سکتا ہے
جب وہ ان مخلوقات سے رابطہ کرے جو انسانوں سے پہلے زمین پر تھیں۔
اس کے مطابق،
انسان صرف ان پوشیدہ قوموں کے راز پا کر ہی کائنات کی اصل صورت جان سکتا ہے۔
شاید اسی لیے آج بھی کہا جاتا ہے کہ
جو شخص کتاب العزيف کو پڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔۔۔
وہ یا تو کچھ پا لیتا ہے، یا سب کھو دیتا ہے۔
مستند حوالہ جات
- H.P. Lovecraft, “The History of the Necronomicon” – (کتاب العزيف اور الحظرد کے متعلق اصل ماخذ)
- Daniel Harms, “The Necronomicon Files” – (کتاب العزيف کی تاریخی حقیقت اور افسانوی پس منظر)
- S.T. Joshi, “I Am Providence” – (لووکرافٹ کی تحریروں، ان کے کرداروں اور الخظرد کے تصور پر تحقیق)
دلچسپ و عجیب تاریخ
