سانپ کی دوستی

سانپ کی دوستی

کہتے ہیں ایک سرسبز تالاب کے کنارے، جہاں کنول کے پھول صبح کی دھوپ میں مسکراتے تھے اور ہوا سرکنڈوں سے سرگوشیاں کرتی پھرتی تھی، ایک مینڈک اپنے خاندان کے ساتھ خوش و خرم زندگی گزارتا تھا۔
اس کے کئی ننھے ننھے بچے تھے، جو پانی میں تیرتے، اچھلتے اور شام کو اپنے باپ کے گرد جمع ہو کر قصے سنتے تھے۔
زندگی پُرسکون تھی۔
پھر ایک دن تالاب کے کنارے ایک سانپ آ گیا۔
عجیب دوستی
سانپ خاموش مزاج تھا۔
وہ نہ پھن پھیلاتا تھا، نہ کسی پر حملہ کرتا تھا۔
ایک دن اس نے مینڈک سے کہا:
“دوست بنو گے؟”
مینڈک حیران ہوا۔
“سانپ اور مینڈک؟”
“کیوں نہیں؟”
“لوگ کہتے ہیں تم ہمیں کھا جاتے ہو۔”
سانپ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا:
“لوگ بہت کچھ کہتے ہیں۔”
مینڈک کو بات اچھی لگی۔
چند ہی دنوں میں دونوں میں دوستی ہو گئی۔
وہ اکٹھے بیٹھتے، باتیں کرتے، اور شام کے وقت تالاب کے کنارے لمبی گفتگو کرتے۔
دوسروں کی تنبیہ
تالاب کے دوسرے مینڈک پریشان تھے۔
ایک بوڑھے مینڈک نے کہا:
“یہ مناسب نہیں۔”
“کیوں؟” ہمارے مینڈک نے پوچھا۔
“کیونکہ سانپ کی فطرت سانپ والی ہی ہوتی ہے۔”
مینڈک ہنس پڑا۔
“تم لوگ پرانی باتوں میں یقین رکھتے ہو۔”
دوسرے نے کہا:
“ہم تجربے میں یقین رکھتے ہیں۔”
مگر محبت اور اعتماد میں ڈوبا ہوا مینڈک کسی کی سننے کو تیار نہ تھا۔
پہلی درخواست
ایک دن سانپ اداس چہرے کے ساتھ آیا۔
“دوست، مجھے بہت بھوک لگی ہے۔”
مینڈک کو افسوس ہوا۔
“تو شکار کر لو۔”
سانپ نے آہ بھری۔
“آج قسمت ساتھ نہیں دے رہی۔”
“پھر؟”
سانپ نے نظریں جھکا لیں۔
“اگر تم اجازت دو تو اپنے بچوں میں سے ایک مجھے دے دو۔”
مینڈک چونک گیا۔
“میرا بچہ؟”
“صرف ایک۔”
“مگر…”
سانپ نے فوراً کہا:
“میں تمہارا دوست ہوں۔”
یہ جملہ اکثر خطرناک ثابت ہوتا ہے جب دلیل کم پڑ جائے۔
قربانی کا آغاز
مینڈک نے دل پر پتھر رکھ کر ایک بچہ سانپ کے حوالے کر دیا۔
سانپ نے شکریہ ادا کیا۔
اور بچہ کھا گیا۔
مینڈک کا دل دکھا، مگر اس نے خود کو تسلی دی:
“دوستی قربانی مانگتی ہے۔”
پھر دوسرا… پھر تیسرا
چند دن بعد سانپ دوبارہ آیا۔
“دوست، پھر بھوک لگی ہے۔”
پھر ایک بچہ گیا۔
پھر ایک اور۔
پھر ایک اور۔
ہر بار سانپ نرم لہجے میں بات کرتا۔
ہر بار مینڈک خود کو سمجھاتا۔
ہر بار تالاب کے دوسرے مینڈک سر پکڑ لیتے۔
خالی آشیانہ
وقت گزرتا گیا۔
ایک دن مینڈک نے اپنے گھر کی طرف دیکھا۔
وہ خاموش تھا۔
جہاں کبھی بچوں کی آوازیں گونجتی تھیں، وہاں اب سناٹا تھا۔
جہاں کبھی کھیل کود تھی، وہاں اب صرف یادیں تھیں۔
اور تب اسے پہلی بار احساس ہوا کہ اس نے دوستی کی قیمت بہت مہنگی ادا کی ہے۔
آخری گفتگو
اگلے دن سانپ آیا۔
ہمیشہ کی طرح پرسکون
ہمیشہ کی طرح بھوکا
مگر اس بار مینڈک نے پہلے ہی کہا:
“میرے پاس اب کوئی بچہ نہیں بچا۔”
سانپ خاموش رہا۔
مینڈک نے تلخی سے مسکرا کر کہا:
“اگر بھوک لگی ہے تو مجھے کھا لو۔”
سانپ کا منطق
سانپ نے فوراً سر ہلایا۔
“ہرگز نہیں!”
“کیوں؟”
“کیونکہ تم میرے دوست ہو۔”
مینڈک کی آنکھوں میں حیرت اور درد ایک ساتھ ابھر آیا۔
“اور میرے بچے؟”
سانپ نے نہایت سادگی سے جواب دیا:
“وہ میرے دوست نہیں تھے۔”
“پھر کیا تھے؟”
“کھانا۔”
حقیقت کا زہر
یہ سن کر مینڈک پر ایسی خاموشی طاری ہوئی جیسے کسی نے اس کے دل پر پتھر رکھ دیا ہو۔
اب اسے وہ تمام باتیں یاد آنے لگیں جو دوسرے مینڈکوں نے کہی تھیں۔
وہ تمام انتباہات
وہ تمام مشورے
اور اپنی تمام خوش فہمیاں۔
دیر سے آنے والی عقل
مینڈک نے آہستہ سے کہا:
“میں نے تمہیں دوست سمجھا۔”
“میں دوست ہی ہوں۔”
“نہیں۔”
سانپ نے حیرت سے پوچھا:
“کیوں؟”
مینڈک بولا:
“دوست وہ نہیں جو مجھے بچا لے اور میری دنیا کھا جائے۔”
سانپ کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہ تھا۔
خاموش جدائی
اس دن مینڈک نے دوستی ختم کر دی۔
سانپ خاموشی سے چلا گیا۔
مگر جو جا چکا تھا، وہ واپس نہیں آ سکتا تھا۔
تالاب دوبارہ ویسا نہ بن سکا۔
بچے لوٹ کر نہ آئے۔
اور مینڈک نے سیکھ لیا کہ بعض غلطیوں کی سزا معافی سے نہیں، محرومی سے ختم ہوتی ہے۔
سبق
ہر نرم لہجہ خیرخواہی کی علامت نہیں ہوتا، اور ہر دوستی محفوظ نہیں ہوتی۔
بعض لوگ آپ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں، مگر آپ کی زندگی کی قیمتی چیزوں کو آہستہ آہستہ نگلتے رہتے ہیں۔
بدھ داناؤں کا قول ہے:
“عقل یہ نہیں کہ تم جان لو کون تمہارا دوست ہے؛ عقل یہ ہے کہ تم پہچان لو کون سی دوستی تمہاری زندگی کو خالی کر رہی ہے۔”
#منقول

Leave a Reply

NZ's Corner