سبق آموز۔۔۔! بچھو کی فطرت instructive: Habit of scorpion

Once upon a time, in one place, due to rain, the river flooded, and a scorpion started drowning in the water.

There was also a turtle swimming around. The scorpion pleaded with the turtle to help me and bring me to the shore of the river.

The tortoise took the scorpion on top of him and floated on the surface of the water towards the land.

At the same time, the turtle heard a ticking sound every two seconds. On reflection, it was found that the scorpion was repeatedly stinging the turtle’s shell.

Turtle asked, “What are you doing?” The scorpion said, “What should I do? This is my habit.”

The tortoise was angry that the scorpion started stinging the one who helped him? That is not a fair.

So the turtle started diving in the water, due to which the scorpion also started diving. And the scorpion barely asked the turtle. What are you doing?


Tortoise replied, “What should I do? This is my habit, and I am forced by my habit. And so, after a few dips, the scorpion drowned.

This story refers to the nature of scorpions and advises the people to stay away from bad-natured people. A person who is not faithful to himself, how can he be someone else’s?


ایک دفعہ ایک جگہ بارش کی وجہ سے دریا میں طغیانی آ گئی تو ایک بچھو پانی میں ڈوبنے لگا، وہیں ایک کچھوا بھی تیرتا پھر رہا تھا، بچھو نے اس کچھوے سے التجا کی کہ میری مدد کرو اور مجھے دریا کنارے خشکی پر پہنچا دو۔


کچھوے نے اس بچھو کو اپنے اوپر سوار کر لیا اور پانی کی سطح پر تیرتا ہوا خشکی کی جانب جانے لگا۔ اسی دوران کچھوے کو ہر ایک دو لمحے بعد ٹک ٹک کی آواز آتی، غور کرنے پر پتا چلا کہ بچھو کچھوے کے خول پر بار بار ڈنگ مار رہا تھا۔ کچھوے نے پوچھا، یہ کیا کر رہے ہو؟ بچھو نے کہا، کیا کروں، یہ میری عادت ہے۔


کچھوے کو غصہ آیا کہ بچھو نے اپنے مدد کرنے والے کو ہی ڈنگ مارنا شروع کر دیے؟ یعنی بھلے کا زمانہ ہی نہیں۔ تو جناب، کچھوے نے پانی میں ڈبکیاں لگانی شروع کر دیں، اس کی وجہ سے بچھو کو بھی غوطے آنے لگے۔ اور بچھو نے کچھوے سے بمشکل یہ پوچھا کہ یہ تم کیا کر رہے ہو؟
کچھوے نے جواب دیا، کیا کروں، یہ میری عادت ہے اور میں عادت سے مجبور ہوں۔
اور یوں چند ڈبکیوں کے بعد بچھو غرق ہو گیا۔

یہ حکایت بچھو کی فطرت کا حوالہ دے کر بدفطرت لوگوں سے علحیدہ رہنے کا سبق دیتی ہے۔ کیونکہ جو شخص اپنوں سے وفا نہیں کر سکتا وہ کسی اور سے کیا تعلق نبھائے گا۔

For more blogs, visit our website https://nzeecollection.com/category/nzs-entertainment/