سبق آموز۔۔۔! ہدہد کی بینائی اور قضا اور تقدیرکا پردہ۔۔۔! Instructive: Limit vision and the veil of judgment and destiny

Once the greatest king Hazrat Salman (peace be upon him) ordered all the birds to be present in the court. And let all describe their own excellence that they possess.

So all the birds came, and all started to describe their own excellence. When hoopoe turn came, he said. “My Lord! It is a miracle in me that I fly very high on the heights of the sky. And even from such a distance, I can see all the things inside the earth and can tell which part of the earth has water and which part has water.

“I am not agreeing.” Hearing hoopoe statement, the crow said, “O Messenger of Allah! Hoopoe lies. If his eyes are so sharp, when he sees a grain lying in the net, he will be caught in the net.” Why doesn’t he see the net at that time? If it was true, he wouldn’t have been caught in the net.

The greatest king Hazrat Sulaiman (peace be upon him) asked Hoopoe, “What answer do you have to this objection of the crow?” Hoopoe said. “My lord! My sight is really as sharp as I said, but on my sight when snaring The veil of judgment and fate falls.”

Therefore, when we face any difficulty, we should consider it as a divine order or our own deeds and ask forgiveness from Allah sincerely. And one should pray for deliverance from this trouble. That prayer is the weapon of the believer. faith

ہد ہد کی بینائی
اور قضا اور تقدیرکا پردہ !!

ایک دفعہ بادشاہ حضرت سلمان علیہ السلام نے سارے پرندوں کو حکم دیا کہ وہ دربار میں حاضر ہوں۔ اور سب اپنا اپنا کمال جو وہ رکھتے ہیں بیان کریں*۔ چناچہ سارے پرندے حاضر ہو گئے اور سب نے اپنا اپنا کمال بیان کرنا شروع کیا۔ ہدہد کی باری آئی تو وہ کہنے لگا۔ “حضور! مجھ میں یہ کمال ہے کہ میں آسمان کی بلندیوں پر بہت اونچا اڑُتا ہوں۔اور اتنی دور سے بھی زمین کے اندر کی تمام چیزوں کو دیکھ لیتا ہوں* اور بتا سکتا ہوں کہ زمین کے کس حصے میں پانی ہے اور کس حصے میں نہیں “۔ہدہد کا بیان سن کر” کوا” بولا “اے اللہ کے پیغمبر ! ہدہد جھوٹ بولتا ہے۔ اگر اس کی نظر اتنی ہی تیز ہے تو جب یہ جال میں پڑے ہوئے دانے کو دیکھ کر لپکتے ہوئے جال میں پھنس جاتا ہے۔ اس وقت جال اسے نظر کیوں نہیں آتا۔اگر یہ سچا ہوتا تو یہ جال میں نہ پھنستا۔ “حضرت سلیمان علیہ اسلام نے ہدہد سے پوچھا “کوے کے اس اعتراض کا تمہارے پاس کیا جواب ہے ” ہدہد نے عرض کیا۔ “یانبی اللہ! نظر تو میری واقعی اتنی ہی تیز ہے جتنی میں نے بتائی مگر جال میں پھنستے وقت میرى نظر پر
قضا اور تقدیرکا پردہ پڑ جاتا ہے “۔(قصص الانبيأ سے اقتباس)


اس لئے ہمیں بھی جب کوئی مشکل پیش آئے تو اس کو حکم الہی ہی سمجھنا چاہیئے یا اپنی شامت اعمال سمجھنا چاہیئے اور اللہ سے صدق دل سے معافی مانگنی چاہئے۔ اور اس مصیبت سے نجات کی دعا کرنی چاہئے۔
کہ دعا مومن کا ہتھیا ر ہے۔