ایک وسیع و عریض سلطنت میں جب ایک نوجوان بادشاہ تخت نشین ہوا تو اسے اندازہ نہ تھا کہ تاج کے ساتھ اسے کتنے کانٹوں کا وارث بھی بننا پڑا ہے۔ سلطنت بظاہر خوش حال تھی، بازار آباد تھے، شاہراہیں مصروف تھیں اور محل کے میناروں پر شاہی پرچم لہراتے تھے، مگر اس خوب صورت منظر کے پیچھے جرائم کی ایک خوف ناک دنیا آباد تھی۔ کہیں قتل کی واردات ہوتی، کہیں ڈاکو قافلوں کو لوٹ لیتے، کہیں شراب کی محفلیں سجتیں، کہیں جوئے میں گھر اجڑتے اور کہیں طاقت ور لوگ کمزوروں کی عزت و آبرو پامال کرتے۔ بادشاہ نے تخت سنبھالتے ہی عہد کیا کہ وہ اپنی سلطنت کو ان برائیوں سے پاک کرکے دم لے گا۔ اس نے سپاہیوں کی تعداد بڑھائی، کوتوالوں کو سخت احکامات دیے، سزاؤں میں اضافہ کیا، مخبروں کا جال بچھایا اور مجرموں کی گرفتاری کے لیے انعامات مقرر کیے، مگر عجیب بات تھی کہ ایک جرم ختم ہوتا تو چند روز بعد کسی دوسرے گوشے سے سر اٹھا لیتا۔ وہ ایک شہر میں ڈاکوؤں کا خاتمہ کرنے پہنچتا تو دوسرے شہر میں قتل کی وارداتیں بڑھ جاتیں؛ وہاں سختی کرتا تو کسی اور علاقے میں شراب اور جوئے کے اڈے پھیل جاتے۔ اسے یوں محسوس ہوتا جیسے وہ اندھیرے میں تلوار چلا رہا ہو؛ ایک سایہ مٹتا تو دوسرا نمودار ہو جاتا۔ کئی برس بیت گئے، خزانہ خرچ ہوا، سپاہی تھک گئے اور بادشاہ کی پیشانی پر فکر کی لکیریں گہری ہوتی چلی گئیں، لیکن سلطنت کی حالت میں وہ تبدیلی نہ آئی جس کا اس نے خواب دیکھا تھا۔ انہی دنوں اسے ایک دور دراز مملکت کے بارے میں معلوم ہوا، جس کی شہرت چاروں سمت پھیلی ہوئی تھی۔ وہاں عدل و انصاف کا ایسا چرچا تھا کہ مسافر اپنا مال و اسباب بے خوف چھوڑ کر سو جاتے، بازاروں میں کسی کو ناپ تول میں خیانت کی جرأت نہ ہوتی، طاقت ور کمزور کا حق نہ چھین سکتا اور جرائم کی خبریں سننے والوں کے لیے حیرت کا باعث بنتی تھیں۔ اس مملکت کا بادشاہ بھی برسوں سے حکمرانی کر رہا تھا، مگر اس کے چہرے پر نہ خوف کا سایہ تھا، نہ ہر وقت سزاؤں کے اعلان کی سختی۔ نوجوان بادشاہ کے لیے یہ بات ناقابلِ فہم تھی۔ اس نے سوچا، آخر وہ کون سا راز ہے جو میرے پاس نہیں؟ چنانچہ ایک روز اس نے اپنے چند منتخب وزیروں کے ساتھ اس مملکت کا سفر اختیار کیا تاکہ اپنی آنکھوں سے اس نظام کو دیکھ سکے جس نے برائیوں کو اس قدر محدود کر رکھا تھا۔ وہاں پہنچ کر اس نے کئی دن شہر کے گلی کوچوں، بازاروں، عدالتوں اور سرکاری دفاتر کا معائنہ کیا۔ اس نے دیکھا کہ قاضی لوگوں کے مقدمات سن رہے ہیں، اہل کار اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں، محافظ راستوں کی نگرانی کر رہے ہیں اور شہری اپنے کاموں میں مصروف ہیں۔ بظاہر سب کچھ ویسا ہی تھا جیسا اس کی اپنی سلطنت میں ہونا چاہیے تھا۔ وہاں بھی سپاہی تھے، کوتوال تھے، قاضی تھے، قوانین تھے اور سزائیں بھی؛ لیکن پھر یہ فرق کیوں تھا؟ کئی دن کی جستجو کے باوجود اسے کوئی غیر معمولی بات دکھائی نہ دی۔ آخر ایک شام اسے اس مملکت کے شاہی دربار میں حاضری کا موقع ملا۔ دونوں بادشاہ ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے تھے کہ اسی دوران ایک سپاہی اجازت لے کر اندر داخل ہوا اور دوسرے بادشاہ کے کان میں کچھ عرض کیا۔ بات چند لفظوں سے زیادہ نہ تھی، مگر یہ سنتے ہی اس بادشاہ کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ اس نے فوراً اپنے وزیر کو بلایا، متعلقہ افسر کو طلب کرنے کا حکم دیا اور تفصیلات معلوم کرنے لگا۔ اس کے لہجے میں ایسی سنجیدگی تھی جیسے سلطنت پر کوئی بڑی آفت نازل ہو گئی ہو۔ نوجوان بادشاہ چونک اٹھا۔ اس نے دل ہی دل میں سوچا کہ آخر ایسی کون سی خبر تھی جس نے ایک تجربہ کار بادشاہ کو یوں مضطرب کر دیا؟ مگر ابھی وہ اس خیال میں گم تھا کہ ایک اور اہل کار حاضر ہوا اور ایک معمولی سی شکایت پیش کی۔ دوسرے بادشاہ نے اس پر بھی فوراً کارروائی کا حکم دے دیا۔ نوجوان بادشاہ کے لیے یہ سب کچھ ناقابلِ یقین تھا۔ کچھ دیر بعد جب دونوں تنہائی میں بیٹھے تو وہ خود کو روک نہ سکا۔ اس نے پوچھا، ’’عالی جاہ! میں کئی دن سے آپ کے نظام کا مشاہدہ کر رہا ہوں۔ آپ کی سلطنت میں نہ میری طرح ہر طرف سخت پہرے دکھائی دیتے ہیں، نہ ہر روز سزاؤں کے اعلانات ہوتے ہیں، مگر یہاں جرائم بھی کم ہیں۔ آج میں نے دیکھا کہ ایک معمولی سی خبر پر آپ اس قدر پریشان ہو گئے کہ گویا کوئی بڑا سانحہ ہو گیا ہو۔ آخر وہ کون سی بات تھی؟‘‘ دوسرے بادشاہ نے اس کی طرف دیکھا اور مسکرا کر پوچھا، ’’تمہارے خیال میں بادشاہ کو کن باتوں پر توجہ دینی چاہیے؟‘‘ نوجوان بادشاہ نے جواب دیا، ’’قتل، ڈاکے، شراب، جوا اور ایسے بڑے جرائم پر۔ یہی تو ریاست کو تباہ کرتے ہیں۔‘‘ دوسرے بادشاہ نے سر ہلایا، ’’اور تمہارے خیال میں قتل سے پہلے کیا ہوتا ہے؟‘‘ نوجوان بادشاہ چند لمحے خاموش رہا۔ ’’کسی کا جھگڑا، دشمنی یا غصہ، شاید۔‘‘ ’’اور اس جھگڑے سے پہلے؟‘‘ اس نے پھر پوچھا۔ نوجوان بادشاہ نے کندھے اچکائے، ’’یہ تو بہت چھوٹی باتیں ہیں، عالی جاہ! ان کے لیے کوتوال اور سپاہی موجود ہیں۔ بادشاہ ہر معمولی معاملے میں پڑنے لگے تو سلطنت کیسے چلائے؟‘‘ دوسرے بادشاہ کے لبوں پر ایک معنی خیز مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ اس نے کہا، ’’تم نے اپنے سوال کا جواب خود دے دیا ہے۔‘‘ پھر اس نے اپنے وزیر کو اشارہ کیا۔ وزیر نے ایک رجسٹر کھولا اور اس دن دربار میں آنے والی پہلی خبر کی تفصیل بیان کی۔ شہر کے ایک محلے میں ایک دکان دار نے ترازو کے باٹ میں معمولی سی کمی کی تھی۔ کسی غریب خریدار نے شکایت کی تو دکان دار نے اسے جھڑک کر دکان سے نکال دیا۔ بادشاہ نے یہ سن کر حکم دیا کہ معاملے کی تحقیق کی جائے، خریدار کو سنا جائے اور اگر شکایت درست ہو تو دکان دار کو اس کی رقم واپس کرنے کے ساتھ باقاعدہ تنبیہ کی جائے؛ ساتھ ہی بازار کے نگران کو بھی طلب کیا جائے کہ اس کے ہوتے ہوئے یہ بے ضابطگی کیسے ہوئی۔ نوجوان بادشاہ بے اختیار ہنس پڑا۔ ’’صرف چند دانوں کے برابر کمی پر آپ نے اتنا بڑا دربار حرکت میں ڈال دیا؟ یہ تو بازار کے نگران کا کام ہے، بادشاہ کا نہیں!‘‘ دوسرے بادشاہ نے اس کی ہنسی کا برا نہ منایا۔ اس نے نہایت سکون سے کہا، ’’اور تمہاری سلطنت میں کیا ہوتا ہے؟‘‘ نوجوان بادشاہ نے فخر سے جواب دیا، ’’میرے ہاں ایسے چھوٹے معاملات کوتوالوں کے پاس بھیج دیے جاتے ہیں۔ میں انہیں اپنے دربار میں لانا وقت کا ضیاع سمجھتا ہوں۔‘‘ دوسرے بادشاہ نے پوچھا، ’’اور اگر کوتوال توجہ نہ دے؟‘‘ ’’تو شہری اوپر شکایت کرے۔‘‘ ’’اور اگر وہ بھی نہ سنے؟‘‘ نوجوان بادشاہ نے کچھ توقف کے بعد کہا، ’’تو معاملہ عدالت میں جائے۔‘‘ دوسرے بادشاہ نے پھر پوچھا، ’’اور اگر عدالت تک پہنچنے سے پہلے دکاندار کی خیانت عادت بن جائے، اس کے پڑوسی بھی یہی کرنے لگیں، بازار کے نگران اس سے فائدہ اٹھانے لگیں اور لوگوں کے دلوں سے انصاف کی امید اٹھ جائے، تو پھر؟‘‘ نوجوان بادشاہ کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہو گئی۔ دوسرے بادشاہ نے گفتگو جاری رکھی، ’’تم اسے چند دانوں کا معاملہ سمجھتے ہو، مگر میرے نزدیک یہ اعتماد کا معاملہ ہے۔ آج ترازو میں چند دانے کم ہوئے ہیں، کل کسی مزدور کی مزدوری کم ہو گی، پرسوں کسی یتیم کا حق مارا جائے گا اور پھر ایک دن کوئی طاقت ور شخص کسی کمزور کی پوری زمین ہڑپ کر لے گا۔ ہر بڑی خیانت پہلے کسی چھوٹی بے ایمانی کے لیے دل میں جگہ بناتی ہے۔ اگر ہم پہلی لغزش پر آنکھ بند کر لیں تو دوسری لغزش کرنے والے کو حوصلہ ملتا ہے، اور جب یہی رویہ عام ہو جائے تو پھر تمہارے محل تک پہنچنے والی فریادیں بھی ختم نہیں ہوتیں؛ کیونکہ لوگوں کو یقین ہی نہیں رہتا کہ ان کی آواز کہیں سنی جائے گی۔‘‘ نوجوان بادشاہ نے دھیمی آواز میں کہا، ’’لیکن عالی جاہ! کیا آپ ہر چھوٹی بات خود دیکھتے ہیں؟ کیا آپ کے پاس اتنا وقت ہے؟‘‘ دوسرے بادشاہ نے جواب دیا، ’’نہیں، میں ہر چھوٹا معاملہ خود نہیں دیکھتا، مگر میں نے ایسا نظام بنایا ہے کہ چھوٹا معاملہ چھوٹا رہتے ہوئے ہی سنبھال لیا جائے۔ میرے افسر جانتے ہیں کہ کسی مظلوم کی پہلی فریاد کو نظر انداز کرنا معمولی غلطی نہیں۔ میں ان سے جواب طلب کرتا ہوں، ان کی نگرانی کرتا ہوں اور جہاں ضرورت ہو، خود مداخلت کرتا ہوں۔ میں ہر پودا اپنے ہاتھ سے نہیں لگاتا، لیکن یہ ضرور دیکھتا ہوں کہ باغ کے مالی جڑوں میں زہر تو نہیں اترنے دے رہے۔‘‘ پھر وہ اپنی نشست سے اٹھا، کھڑکی کے قریب گیا اور محل کے باغ میں لگے ایک ننھے پودے کی طرف اشارہ کیا۔ ’’اس پودے کو دیکھو۔ آج یہ چند انچ کا ہے۔ اگر اس کی جڑ میں کیڑا لگ جائے تو مالی اسے معمولی سمجھ کر چھوڑ دے، اگر اسے پانی کے بجائے زہریلا محلول ملتا رہے، اگر اس کے گرد اگنے والی خراب جڑی بوٹیوں کو کوئی نہ نکالے، تو کیا یہ ہمیشہ ننھا ہی رہے گا؟ نہیں! ایک دن یہ پودا بڑا ہو گا، اس کی شاخیں پھیلیں گی اور پھر تم اسے کاٹنے کے لیے کلہاڑی لے کر آؤ گے۔ ممکن ہے شاخیں کٹ جائیں، تنا بھی گرا دیا جائے، لیکن اگر جڑیں زمین میں زندہ رہیں تو پہلی بارش کے بعد نئی کونپلیں پھوٹ نکلیں گی۔‘‘ وہ پلٹا اور نوجوان بادشاہ کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا، ’’جرم بھی اچانک تناور درخت بن کر نہیں گرتا۔ پہلے دل میں ایک خیال جنم لیتا ہے، پھر آدمی اسے معمولی سمجھ کر قبول کرتا ہے، پھر وہی معمول بن جاتا ہے، پھر عادت بنتی ہے اور آخرکار وہ عادت کسی بڑے جرم کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ تم اس وقت حرکت میں آتے ہو جب درخت کی شاخیں تمہارے محل کی دیواروں سے ٹکرانے لگتی ہیں۔ تم اسے کاٹتے ہو، چند دن سکون ملتا ہے، پھر وہی جڑیں نئی شاخیں نکال دیتی ہیں۔ میں اس وقت حرکت میں آتا ہوں جب زمین میں پہلی خراب جڑ پھیلنے لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میرے دربار تک بڑے جرائم کی خبریں کم پہنچتی ہیں۔‘‘ نوجوان بادشاہ دیر تک خاموش بیٹھا رہا۔ اسے پہلی مرتبہ محسوس ہوا کہ شاید اس کی برسوں کی محنت بے کار نہیں تھی، مگر اس کی محنت کا رخ غلط تھا۔ وہ آگ بھڑکنے کے بعد پانی لے کر پہنچتا رہا، جبکہ اس نے کبھی یہ جاننے کی کوشش ہی نہ کی کہ چنگاری بار بار کہاں سے اٹھتی ہے۔ واپسی پر اس نے اپنے وزیروں کو بلایا اور حکم دیا کہ سلطنت کے ہر محلے، بازار اور گاؤں میں لوگوں کی شکایات سننے کا مؤثر انتظام کیا جائے، چھوٹی بے ایمانی، معمولی ظلم، رشوت، دھوکے اور اختیارات کے غلط استعمال کو محض اس لیے نظر انداز نہ کیا جائے کہ ان سے ابھی کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔ اس نے یہ بھی واضح کر دیا کہ کسی شخص کو محض الزام پر سزا نہیں دی جائے گی؛ ہر شکایت کی تحقیق ہو گی، بے گناہ کو تحفظ ملے گا اور قصوروار کو اس کے جرم کے مطابق جواب دہ ہونا پڑے گا۔ رفتہ رفتہ اس کی سلطنت میں تبدیلی آنے لگی۔ لوگ اب صرف مجرم پکڑے جانے پر خوش نہیں ہوتے تھے، بلکہ انہیں یہ یقین بھی ہونے لگا تھا کہ ان کے ساتھ ہونے والی چھوٹی ناانصافی بھی سنی جائے گی۔ بادشاہ نے آخرکار جان لیا کہ سلطنت کی اصلاح صرف بڑی سزاؤں سے نہیں ہوتی؛ اس کے لیے ان چھوٹے راستوں کو بند کرنا پڑتا ہے جن سے برائی بڑی طاقت بن کر نکلتی ہے۔
حاصلِ سبق:
کوئی بڑا گناہ یا جرم عموماً ایک ہی لمحے میں اپنی آخری شکل اختیار نہیں کرتا؛ اس کے پیچھے چھوٹی لغزشیں، معمولی بے ایمانی، نظر انداز کیے گئے ظلم اور بار بار کی جانے والی کوتاہیاں ہوتی ہیں۔ برائی کو ابتدا ہی میں روک دیا جائے تو اسے جڑ پکڑنے کا موقع نہیں ملتا، لیکن جب اسے معمولی سمجھ کر بڑھنے دیا جائے تو بعد میں اس کی شاخیں کاٹنے سے مسئلہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا۔


