کسی زمانے میں ایک شکاری رہا کرتا تھا، جس کا نام ھیلیبو تھا۔ وہ ہر وقت دوسروں کی مدد کرنے کے لئے تیار رہتا تھا۔ اپنے لئے کام کرنے کے بجائے وہ زیادہ تر پڑوسیوں کے کام میں مصروف رہتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ تمام لوگوں میں بہت زیادہ مقبول تھا۔
ایک دن ھیلیبو ایک پہاڑ میں شکار کرنے گیا۔ ایک گھنے جنگل کے کنارے اس نے ایک چھوٹا سا سفید سانپ دیکھا، جو ایک درخت کے نیچے کنڈلی مارے سو رہا تھا۔ وہ اس کی نیند میں خلل نہ ڈالنا چاہتا تھا، اس لئے پنجوں کے بل آہستہ آہستہ ادھر سے گزر گیا۔ ٹھیک اسی وقت ایک بھورے رنگ کا راج ہنس غوطہ لگا کر نیند میں مست سانپ کی طرف جھپٹا اور آناً فاناً اسے اپنے پنجوں میں دبا کر آسمان کی طرف اڑ گیا۔ چھوٹا سانپ جاگ گیا، اور دہشت زدہ ہو کر چلّانے لگا، مجھے بچاؤ! مجھے بچاؤ!
هیلیبو نے فوراً کمان پر تیر چڑھا کر راج ہنس کا نشانہ لگایا۔ تیر لگتے ہی راج بنس ایک طرف کو مڑا اور سانپ کو چونچ سے گرا کر آن کی آن میں غائب ہو گیا۔
هیلیبو نے سانپ سے کہا، اے ننھی سی جان! اب اپنے ماں باپ کے پاس جاؤ۔ سانپ نے از راہِ تشکر سر ہلایا اور گھنے پودوں کے درمیان چلتا ہوا نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ هیلیبو نے تیر اپنے ترکش میں ڈالا، کمان کندھے پر لٹکائی اور گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔ دوسرے دن اسی جنگل میں اسی جگہ ھیلیبو کو سفید رنگ کا ایک چھوٹا سا سانپ اپنی طرف آتا دکھائی دیا۔ اس کے ساتھ بے شمار دوسرے سانپ بھی تھے۔ ھیلیبو حیرت زدہ ہو کر ان کے راستے سے ہٹنے کا ارادہ کر رہا تھا کہ اس سانپ نے کہا، اے میرے محسن! تم کیسے ہو؟ شاید تم مجھے پہچان نہ سکو۔ میں ڈریگن بادشاہ کا بیٹا ہوں۔ کل تم نے میری جان بچائی تھی۔ میرے والدین نے مجھے اس تاکید کے ساتھ بھیجا ہے کہ میں یہاں آکر تم کو اپنے گھر آنے کی دعوت دوں، تاکہ وہ بہ ذاتِ خود تمہار شکریہ ادا کر سکیں۔
سانپ بولتا رہا، جب تم وہاں جاؤ میرے والدین جو کچھ بھی تم کو پیش کریں، ان میں سے کچھ بھی قبول نہ کرنا بلکہ تم صرف وہ موتی مانگنا جو میرے والد اپنے منہ میں رکھتے ہیں۔ اس موتی کو اپنے منہ میں رکھ کر تم دنیا کے تمام جانوروں کی زبان سمجھ سکو گے۔ لیکن ایک بات یاد رکھنا، تم کچھ بھی سنو کبھی کسی سے نہ کہنا۔ ورنہ سر سے پاؤں تک تمہارا سارا جسم پتھر کا ہو جائے گا، اور تم مر جاؤ گے۔ یہ سن کر نے ھیلیبو نے اثبات میں سر ہلا دیا اور سفید سانپ کے ساتھ چل پڑا۔
یہ راستہ ایک گہری وادی کو جاتا تھا۔ وہ جتنا آگے بڑھتے جاتے تھے، سردی اتنی ہی شدید ہوتی جاتی تھی ۔ آخر کار وہ ایک بڑے پھاٹک کے سامنے پہنچے۔ وہاں پہنچ کر چھوٹے سفید سانپ نے کہا، میرے والدین اپنے خزانے کے دروازے کے باہر کھڑے تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔ لو یہ لوگ آ گئے۔ اتنے میں ڈریگن بادشاہ اس کے استقبال کے لئے آ موجود ہوا۔ اس نے بڑے احترام سے کہا، تم نے میرے بیٹے کی جان بچائی ہے۔ میں تہ دل سے تمہارا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ یہ وہ کمرہ ہے جس میں میرا تمام خزانہ بھرا ہوا ہے۔ میرے ساتھ چلو تمہیں دکھاتا ہوں ۔ جو کچھ پسند آئے، لے لو۔ تکلف بالکل نہ کرنا۔ یہ کہتے ہوئے بادشاہ نے دروازہ کھول دیا اور ھیلیبو کا ہاتھ پکڑ کر اندر لے گیا۔ کمرہ چمک دار جواہرات اور موتیوں سے بھرا ہوا تھا۔ بوڑھا بادشاہ اس کو ایک کمرے کے بعد دوسرا کمرہ دکھاتا رہا۔ وہاں کل آٹھ سو کمرے تھے۔ وہ تمام کمروں کا چکر لگا آئے، لیکن ھیلیبو نے کہیں سے کوئی بھی چیز نہ اٹھائی۔ یہ دیکھ کر بادشاہ کو بہت خجالت محسوس ہوئی ، اور اس نے کہا، برخوردار کیا تم کو میرے خزانے کی کوئی بھی چیز پسند نہیں آئی؟ ھیلیبو نے جواب دیا، یہ چیزیں بہت خوب صورت ہیں، لیکن صرف سجاوٹ ہی کے کام آسکتی ہیں۔ میں ایک شکاری ہوں، اس لئے یہ چیزیں میرے کام کی نہیں ہیں۔ اگر حضور مجھے نشانی کے طور پر کچھ دینا چاہتے ہیں، تو براہِ مہربانی وہ موتی دے دیں جو آپ نے اپنے منہ میں رکھا ہوا ہے۔
یہ سن کر ڈریگن بادشاہ نے اپنا سر جھکا لیا، تھوڑی دیر سوچا اور پھر بادل نخواستہ وہ موتی
اپنے منہ سے نکال کر ھیلیبو کے حوالے کر دیا۔ یوں ھیلیبو اس موتی کا مالک ہو گیا۔ جب وہ بادشاہ سے رخصت لے کر جا رہا تھا، چھوٹے سفید سانپ نے اس کے پاس آ کر کہا، اس موتی کے ذریعے تم جانوروں کی تمام باتیں سمجھ سکو گے۔ لیکن تم کو جو کچھ بھی معلوم ہو، اس کا ایک لفظ بھی دوسروں کو مت بتانا۔ اگر تم نے اس ہدایت پر عمل نہ کیا تو تم پر آفت ٹوٹ پڑے گی۔ یہ بات ہمیشہ یاد رکھنا۔
اس واقعے کے بعد ھیلیبو کے لئے شکار کرنا بہت آسان ہو گیا، کیوں کہ وہ پرندوں اور جانوروں کی زبانیں سمجھ سکتا تھا، اور اسے یہ بات آسانی سے معلوم ہو جاتی تھی کہ پہاڑ کی دوسری طرف کون کون سے جانور مل سکتے تھے۔
اس طرح کئی سال گزر گئے۔ ایک دن وہ حسبِ معمول پہاڑوں پر شکار کرنے گیا۔ وہاں اسے آسمان پر اڑتے ہوئے پرندوں کا ایک جھنڈ نظر آیا، جو آپس میں باتیں کر رہے تھے، ہم لوگوں کو جلد از جلد جگہ چھوڑ دینی چاہیے۔ کل یہ سارے پہاڑ پھٹ پڑیں گے۔ کھیتوں میں سیلاب آجائے گا اور نہ جانے کتنے جانور ڈوب کر مر جائیں گے!
یہ خبر سنتے ہی ھیلیبو پریشان ہو گیا۔ اب اس کا دل شکار میں نہیں لگ سکتا تھا۔ وہ بھاگتا ہوا واپس آیا اور اپنے پڑوسیوں سے بولا: ہم لوگوں کو جلد از جلد کسی دوسری جگہ منتقل ہو جانا چاہیے۔ ہم اب یہاں ایک لمحہ بھی نہیں رہ سکتے! میری بات کا یقین کرو! وقت ضائع مت کرو، ایسا نہ ہو کہ بعد میں پچھتانا پڑے۔
سب لوگ اس کی بات سن کر حیران رہ گئے۔ انہوں نے سوچا، اس وقت تو کسی بھی آفت کے آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔ شاید ھیلیبو پاگل ہو گیا ہے۔ غرض یہ کہ اس کی بات کا کسی کو یقین نہ آیا۔ ھیلیبو کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے، اس نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا، کیا مجھے اس بات کا یقین دلانے کے لئے اپنی جان دینی ہو گی؟
چند بزرگ لوگوں نے اس سے کہا ہم سب جانتے ہیں کہ تم نے کبھی ہم سے جھوٹ نہیں بولا، تم یہ کہتے ہو کہ پہاڑ پھٹ پڑیں گے اور سارا علاقہ سیلاب میں گھر جائے گا۔ یہ بتاؤ کہ تمہیں اس بات پر اس قدر یقین کیوں ہے؟
هیلیبو نے دل میں سوچا، آفت سر پر کھڑی ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تنہا یہاں سے چلوں اور تمام گاؤں والوں کو تباہ ہو جانے دوں؟ اگر ضرورت پڑی تو میں انہیں بچانے کے لئے اپنی جان بھی قربان کر سکتا ہوں۔ چنانچہ اس نے اپنے گاؤں والوں کو پوری کہانی سنا ڈالی کہ اس
نے کس طرح وہ موتی حاصل کیا تھا، کس طرح اس کی مدد سے شکار کیا کرتا تھا اور کس طرح اس نے پرندوں کی باتیں سنی تھیں، جو اس آفت کی پیش گوئی کر رہے تھے۔ اس نے ان لوگوں کو یہ بھی بتایا کہ دوسروں کو یہ باتیں بتانے کی قطعی اجازت نہیں ہے، ورنہ اس کا بدن پتھر کا ہو جائے گا اور وہ مر جائے گا۔ ابھی وہ یہ بات کر ہی رہا تھا کہ آہستہ آہستہ اس کا جسم پتھر میں تبدیل ہونے لگا۔ یہ منظر دیکھ کر گاؤں والوں کو بہت افسوس ہوا۔
وہ لوگ اپنے مال و اسباب اور مویشیوں کے ساتھ فوراً دوسری جگہ منتقل ہو گئے۔ وہ جوں ہی وہاں پہنچے، اچانک آسمان پر گہرے بادل چھا گئے اور موسلادھار بارش ہونے لگی جو تمام رات جاری رہی۔ دوسرے دن صبح سویرے ایک زور دار دھماکہ ہوا اور خوف ناک گھڑگھڑاہٹ کے ساتھ زمین ہلنے لگی۔ پہاڑ پھٹ پڑے، پانی کا ایک زبردست ریلا آیا اور سارا علاقہ اس کے نیچے آکر ڈوب گیا۔
یہ منظر دیکھ کر گاؤں والوں کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور انہوں نے کہا اگر ھیلیبو نے ہمیں بچانے کے لئے اپنی جان قربان نہ کی ہوتی تو اس وقت ہم سب سیلاب میں ڈوب گئے ہوتے۔
بعد میں گاؤں والوں کو وہ پتھر مل گیا جس میں ھیلیبو منتقل ہوچکا تھا۔ ان لوگوں نے اس کو پہاڑ کی سب سے اونچی چوٹی پر نصب کردیا۔ وہ نسل در نسل اس پتھر کے سامنے جا کر اس جاں باز کی یاد میں قربانیاں دیتے رہے جس نے ان کے لئے اپنی جان قربان کر دی تھی۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ پتھر اب بھی وہاں موجود ہے۔ اور اس واقعے کی مناسبت سے اس کا نام سنگِ ھیلیبو رکھ دیا گیا ہے۔


