سونے کی چڑیا اور پرانا درخت

سونے کی چڑیا اور پرانا درخت


کسی جنگل کے بیچوں بیچ ایک بہت پرانا اور گھنا درخت تھا۔ وہ درخت اتنا پرانا تھا کہ جنگل کے تمام جانور اور پرندے اس کا احترام کرتے تھے۔ اس پرانے درخت کی سب سے اونچی شاخ پر ایک سونے کی چڑیا رہا کرتی تھی، جس کے پر سونے کی طرح چمکتے تھے اور اس کی آواز میں عجیب سا جادو تھا۔
چڑیا اور وہ پرانا درخت آپس میں گہرے دوست تھے۔ چڑیا روزانہ صبح دور دراز سے گھوم پھر کر آتی اور پرانے درخت کو دنیا بھر کی باتیں اور کہانیاں سناتی۔ بدلے میں پرانا درخت اپنے گھنے پتوں سے چڑیا کو تیز دھوپ، بارش اور طوفانوں سے محفوظ رکھتا۔
ایک وقت ایسا آیا کہ علاقے میں سخت قحط پڑ گیا۔ بارشیں رک گئیں، ندی نالے سوکھ گئے اور جنگل کے تمام درخت مرجھانے لگے۔ وہ پرانا درخت بھی آہستہ آہستہ سوکھنے لگا، اس کے پتے جھڑ گئے اور اس کی شاخیں کمزور ہو گئیں۔ جنگل کے باقی تمام پرندے اپنے گھونسلے چھوڑ کر کسی دوسری سرسبز جگہ کی طرف اڑ گئے۔
چڑیا نے پرانے درخت سے کہا: “میرے دوست! چلو ہم بھی کسی سرسبز و شاداب جگہ چلے جاتے ہیں، ورنہ تم بالکل سوکھ جاؤ گے۔”
پرانے درخت نے اداس ہو کر جواب دیا: “نہیں چڑیا! میری جڑیں اس زمین میں بہت گہری ہیں، میں اپنی جگہ چھوڑ کر نہیں جا سکتا۔ تم اپنی جان بچاؤ اور کسی دوسری جگہ چلی جاؤ۔”
لیکن سونے کی چڑیا نے اپنے بوڑھے اور پرانے دوست کو اکیلا چھوڑنے سے صاف انکار کر دیا۔ اس نے سوچا کہ اگر سچی دوستی ہے تو مصیبت میں ساتھ نبھانا چاہیے۔
چڑیا روزانہ صبح ہوتے ہی اڑ جاتی اور دور کسی ندی سے اپنے ننھے سے تلاطم میں پانی کے قطرے اور زرخیز مٹی لا کر درخت کی جڑوں میں ڈالتی۔ وہ دن بھر محنت کرتی اور رات کو آ کر درخت کی کمزور شاخ پر بیٹھ کر اس کو حوصلہ دیتی اور میٹھے نغمے سناتی۔
چڑیا کا یہ خلوص، وفاداری اور محنت دیکھ کر قدرت کو اس پر رحم آ گیا۔ ایک دن اچانک آسمان پر کالے بادل چھا گئے اور زبردست بارش ہوئی۔ بارش کا پانی ملتے ہی اور چڑیا کی مسلسل دیکھ بھال کی وجہ سے اس پرانے درخت میں دوبارہ زندگی کی لہر دوڑ گئی۔ سوکھی ہوئی شاخوں سے ہری کونپلیں نکل آئیں اور درخت پہلے سے بھی زیادہ گھنا اور سرسبز ہو گیا۔
پرانے درخت نے خوش ہو کر چڑیا کو اپنے سائے میں سمیٹ لیا اور کہا: “تم نے سچی دوستی کا حق ادا کر دیا، اگر تم میرا ساتھ نہ دیتی تو میں ختم ہو چکا ہوتا۔”
اس کے بعد وہ دونوں ہمیشہ کے لیے خوشی خوشی اس پرانے درخت پر رہنے لگے، اور ان کی سچی دوستی کی مثال پورے جنگل میں دی جانے لگی۔
سبق: سچا دوست وہی ہے جو مصیبت اور مشکل وقت میں آپ کا ساتھ نہ چھوڑے۔ وفاداری اور محنت سے ناممکن کام بھی ممکن ہو جاتا ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner