سچی دوستی

سچی دوستی

😢 وہ روز اپنی دکان کے باہر ایک خالی کرسی رکھتا تھا… مرنے کے بعد لوگوں کو وجہ معلوم ہوئی!

کچھ عادتیں لوگوں کو عجیب لگتی ہیں…

مگر ان کے پیچھے ایک ایسی کہانی ہوتی ہے جو دل ہلا دیتی ہے۔ ❤️

📖 کہانی

ایک چھوٹے شہر کے بازار میں حسن چچا کی پرانی سی چائے کی دکان تھی۔

وہ تقریباً تیس سال سے وہی دکان چلا رہے تھے۔

ان کی ایک عجیب عادت تھی۔

ہر صبح دکان کھولتے وقت ایک کرسی باہر نکالتے اور اسے خالی چھوڑ دیتے۔

کسی کو اس پر بیٹھنے نہیں دیتے تھے۔

اگر کوئی گاہک اس کرسی پر بیٹھنے لگتا تو وہ بڑے ادب سے کہتے:

“بھائی، یہ کرسی کسی اور کے لیے ہے۔”

لوگ حیران ہوتے۔

کچھ مذاق اڑاتے۔

کچھ کہتے:

“شاید بوڑھے ہو گئے ہیں۔”

مگر حسن چچا صرف مسکرا دیتے۔

سال گزرتے گئے۔

کرسی ویسے ہی خالی رہتی۔

پھر ایک دن خبر آئی کہ حسن چچا انتقال کر گئے ہیں۔

پورا بازار افسردہ ہو گیا۔

ان کے سامان کو سمیٹتے وقت ایک پرانی ڈائری ملی۔

لوگوں نے کھولی تو پہلے صفحے پر لکھا تھا:

“اس خالی کرسی کی کہانی”

سب خاموش ہو گئے۔

ڈائری میں لکھا تھا:

“آج سے تیس سال پہلے میرا ایک دوست تھا، سلیم۔”

“ہم دونوں نے غربت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا۔”

“ہم نے وعدہ کیا تھا کہ زندگی میں چاہے کچھ بھی ہو، روز ایک کپ چائے ساتھ پئیں گے۔”

پھر ایک دن سلیم روزگار کے لیے دوسرے شہر چلا گیا۔

جاتے وقت اس نے کہا:

“واپس آ کر اسی کرسی پر بیٹھوں گا۔”

مگر وہ کبھی واپس نہ آیا۔

چند ماہ بعد خبر ملی کہ ایک حادثے میں اس کا انتقال ہو گیا ہے۔

ڈائری کے آخری الفاظ پڑھ کر کئی لوگوں کی آنکھیں بھر آئیں:

“مجھے معلوم ہے وہ واپس نہیں آئے گا، مگر میں نے اپنے وعدے کو زندہ رکھا ہے۔”

“یہ خالی کرسی میرے دوست کی یاد نہیں… میری وفاداری کی نشانی ہے۔”

بازار میں خاموشی چھا گئی۔

جن لوگوں نے برسوں اس کرسی کا مذاق اڑایا تھا، آج وہی آنسو پونچھ رہے تھے۔

اس دن سب نے سمجھا کہ…

سچے رشتے وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوتے، وہ یادوں میں زندہ رہتے ہیں۔

❤️ سبق

وفاداری صرف ساتھ نبھانے کا نام نہیں، بلکہ اُن لوگوں کو یاد رکھنے کا نام بھی ہے جو اب ہمارے ساتھ نہیں

Leave a Reply

NZ's Corner