شیخ چلی اور جادوئی تربوز

شیخ چلی اور جادوئی تربوز

ایک دن شیخ چلی بازار سے گزر رہا تھا کہ اس نے ایک بہت بڑا تربوز دیکھا۔ اتنا بڑا تربوز اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔

شیخ چلی نے دکاندار سے پوچھا: “بھائی، یہ تربوز اتنا بڑا کیسے ہو گیا؟”

دکاندار نے مذاق میں کہا: “یہ جادوئی تربوز ہے۔ جو اسے کھاتا ہے، اس کی ایک خواہش پوری ہو جاتی ہے!”

شیخ چلی نے فوراً تربوز خرید لیا اور گھر لے آیا۔

گھر پہنچ کر اس نے تربوز کے سامنے بیٹھ کر کہا: “میری خواہش ہے کہ میں دنیا کا سب سے امیر آدمی بن جاؤں!”

پھر اس نے تربوز کاٹنے کے لیے چھری اٹھائی، لیکن چھری پھسل گئی اور تربوز زمین پر گر کر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔

تربوز کے اندر سے صرف سرخ گودا نکلا، کوئی جادو نہیں!

شیخ چلی حیران ہو کر بولا: “ارے! میری دولت کہاں گئی؟”

اسی وقت اس کا دوست آ گیا اور ہنس کر بولا: “شیخ چلی! دولت محنت سے ملتی ہے، تربوز سے نہیں!”

شیخ چلی نے سر کھجاتے ہوئے کہا: “اچھا! تو مجھے پہلے محنت کی خواہش کرنی چاہیے تھی!”

سب لوگ ہنسنے لگے۔ 😄

سبق: شارٹ کٹ کے بجائے محنت اور صبر کامیابی کی اصل کنجی ہیں۔
منقول۔        

                   
‎        

Leave a Reply

NZ's Corner