صابن اور موم بتی

صابن اور موم بتی

ایک شہر میں ایک بہت بڑا صابن کا تاجر رہتا تھا۔ اس کے صابن پورے علاقے میں مشہور تھے۔ ایک دن وہ ایک عالمِ دین کے ساتھ سڑک پر چہل قدمی کر رہا تھا۔
راستے میں تاجر نے طنزیہ انداز میں کہا:
“مولوی صاحب! ایک بات سمجھ نہیں آتی…
صدیوں سے مذہب، نصیحتیں، اخلاقیات اور اچھی باتیں لوگوں کو سکھائی جا رہی ہیں، لیکن پھر بھی دنیا میں جھوٹ، ظلم، نفرت اور برائیاں ختم نہیں ہوئیں۔
آخر اتنی تبلیغ کا فائدہ کیا ہوا؟”
عالمِ دین خاموشی سے اس کی بات سنتے رہے۔
انہوں نے فوراً کوئی جواب نہ دیا، بس ہلکا سا مسکرا دیے۔
دونوں چلتے چلتے ایک تنگ گلی میں پہنچے، جہاں کچھ بچے مٹی اور کیچڑ میں کھیل رہے تھے۔ ان کے کپڑے گندے تھے، چہرے مٹی سے بھرے ہوئے تھے، اور حالت بہت خراب تھی۔
عالمِ دین رکے… بچوں کی طرف دیکھا… پھر تاجر سے بولے:
“یہ دیکھو!
تم تو کہتے تھے تمہارا صابن بہترین ہے، جو لمحوں میں گندگی صاف کر دیتا ہے۔
پھر تمہارے صابن کے ہوتے ہوئے بھی یہ بچے اتنے گندے کیوں ہیں؟
لگتا ہے تمہارے صابن کا کوئی فائدہ ہی نہیں!”
تاجر ہنس پڑا اور بولا:
“مولوی صاحب! آپ بھی عجیب بات کرتے ہیں۔
صرف صابن کے بازار میں ہونے سے کوئی صاف نہیں ہو جاتا۔
جب تک انسان صابن کو استعمال نہ کرے، خود پر نہ ملے… گندگی کیسے صاف ہوگی؟”
عالمِ دین نے مسکرا کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا:
“بس یہی تمہارے سوال کا جواب ہے۔
مذہب، نصیحتیں اور اچھی باتیں بھی صابن کی طرح ہیں۔
صرف سن لینے یا کتابوں میں پڑھ لینے سے انسان نہیں بدلتا…
جب تک وہ ان باتوں پر خود عمل نہ کرے، اس کے دل کی گندگی صاف نہیں ہوتی۔”
تاجر خاموش ہو گیا…
کیونکہ آج اسے ایک ایسا جواب ملا تھا جو سیدھا دل میں اتر گیا۔
💡 سبق:
اچھی باتیں سننا کافی نہیں، ان پر عمل کرنا ضروری ہے۔
برائی اس لیے نہیں پھیلتی کہ اچھائی موجود نہیں…
بلکہ اس لیے کہ لوگ اچھائی کو اپنی زندگی میں اپناتے نہیں۔
نصیحت صابن کی طرح ہے…
اثر تبھی کرتی ہے جب اسے استعمال کیا جائے۔

Leave a Reply

NZ's Corner