ظاہری تکلیف باطنی راحت کا سبب بن سکتی ہے

ظاہری تکلیف باطنی راحت کا سبب بن سکتی ہے

ایک عقل مند گھڑ سوار کہیں جا رہا تھا۔ راستے میں اس نے دیکھا کہ ایک شخص درخت کے نیچے سو رہا ہے اور ایک زہریلا سانپ اس کے کھلے منہ میں گھسنے والا ہے۔
گھڑ سوار نے بھانپ لیا کہ اگر یہ سانپ اندر چلا گیا تو اس شخص کی جان چلی جائے گی۔ اس کے پاس اس وقت تلوار یا کوئی اور ہتھیار نہیں تھا جس سے وہ سانپ کو مار سکتا۔ لہٰذا، اس نے حکمت عملی کے تحت سوئے ہوئے شخص کو کوڑے مارنا شروع کر دیے۔
وہ شخص درد سے اٹھ بیٹھا۔ گھڑ سوار نے اسے مارتے ہوئے ایک سیب کے باغ کی طرف بھگایا۔ وہاں پہنچ کر اس نے اسے زبردستی بہت سارے سیب کھلائے، یہاں تک کہ اس کا پیٹ بھر گیا اور سیب منہ کے راستے باہر آنے لگے۔ وہ شخص ڈر اور تکلیف کی وجہ سے چیختا رہا اور سمجھتا رہا کہ گھڑ سوار اس پر ظلم کر رہا ہے، لیکن سوار اسے مارتا رہا اور دوڑاتا رہا۔
زیادہ سیب کھانے اور مسلسل بھاگنے کی وجہ سے اس شخص کو قے (الٹی) آ گئی۔ قے کے ساتھ کھائے ہوئے تمام سیب تو باہر نکلے ہی، ساتھ ہی وہ سانپ بھی باہر آ گیا جو اس کے پیٹ میں گھس گیا تھا۔
جب اس شخص نے سانپ دیکھا تو اس کی جان میں جان آئی۔ اسے سمجھ آ گئی کہ گھڑ سوار اسے مار نہیں رہا تھا بلکہ اس کی جان بچا رہا تھا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور وہ شرمندہ ہو کر گھڑ سوار کے قدموں میں گر گیا اور اس کا شکر ادا کرنے لگا۔
سبق آموزی
اس حکایت سے ہمیں درج ذیل اہم اسباق ملتے ہیں:
ظاہری تکلیف باطنی راحت کا سبب بن سکتی ہے: کبھی کبھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہم پر کوئی مصیبت یا تکلیف آتی ہے جسے ہم برا سمجھتے ہیں، لیکن درحقیقت وہی تکلیف ہمیں کسی بڑی آفت یا روحانی بیماری سے بچانے کا ذریعہ ہوتی ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے کوڑے مارنا بظاہر ظلم تھا لیکن اس نے جان بچا لی۔
کمنٹ میں ضرور بتائیں کہ آپ کو یہ حکایت کیسی لگی 👇👇👇👇👇👇

Leave a Reply

NZ's Corner