ظلم کا انجام — ایک لرزا دینے والا سچا واقعہ

ظلم کا انجام — ایک لرزا دینے والا سچا واقعہ

علامہ ابن حجر رحمہ اللہ ایک عبرتناک واقعہ نقل کرتے ہیں:

انہوں نے ایک شخص کو دیکھا جس کا پورا بازو کندھے سے کٹا ہوا تھا۔ وہ راستے میں لوگوں کو روک روک کر کہہ رہا تھا:

“مجھے دیکھو اور عبرت حاصل کرو… کبھی کسی پر ظلم مت کرنا!”

علامہ ابن حجر رحمہ اللہ اس کے قریب گئے اور پوچھا:

“بھائی! تمہارے ساتھ یہ سب کیسے ہوا؟”

یہ سن کر اس کی آنکھیں بھر آئیں، اور لرزتی آواز میں اس نے اپنی داستان سنانی شروع کی:

“میری کہانی بہت عجیب ہے… میں خود شاید بڑا ظالم نہ تھا، لیکن ظالموں کا ساتھ ضرور دیتا تھا۔”

ایک دن میں نے ایک غریب مچھیرے کو دیکھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک بڑی خوبصورت مچھلی تھی۔ مچھلی دیکھتے ہی میرے دل میں لالچ آ گیا۔

میں نے کہا:

“یہ مچھلی مجھے دے دو!”

مچھیرے نے عاجزی سے جواب دیا:

“یہ میرے بچوں کا رزق ہے۔ اسے بیچوں گا تو آج میرے گھر کا چولہا جلے گا۔”

لیکن میرے دل میں رحم نہ آیا۔

میں نے اسے مارا پیٹا… اور زبردستی مچھلی چھین لی۔

مگر جیسے ہی میں مچھلی لے کر پلٹا، اچانک اس نے میرے انگوٹھے کو بری طرح کاٹ لیا۔

شروع میں میں نے معمولی سمجھا… مگر کچھ ہی دیر میں شدید درد شروع ہو گیا۔ انگوٹھا سوجنے لگا، درد ناقابلِ برداشت ہو گیا۔

میں طبیب کے پاس گیا۔

اس نے ہاتھ دیکھ کر کہا:

“یہ انگوٹھا سڑ چکا ہے… جان بچانی ہے تو اسے فوراً کاٹنا پڑے گا!”

پہلے انگوٹھا کٹا…

پھر ہاتھ…

پھر کہنی…

اور آخرکار پورا بازو کندھے سے کاٹنا پڑ گیا۔

درد اتنا شدید تھا کہ چیخیں نکل جاتی تھیں۔ نہ نیند آتی تھی، نہ سکون باقی رہا تھا۔

پھر لوگوں نے کہا:

“جاؤ… اس مچھیرے سے معافی مانگو۔ شاید اسی کی دعا تمہارے لیے شفا بن جائے۔”

میں پورے شہر میں اسے ڈھونڈتا رہا۔

آخرکار جب وہ ملا، میں اس کے قدموں میں گر پڑا اور روتے ہوئے کہا:

“اللہ کے واسطے مجھے معاف کر دو!”

وہ حیران رہ گیا۔

پھر بولا:

“کیا تم وہی ہو جس نے میری مچھلی چھینی تھی؟”

میں نے اپنا کٹا ہوا بازو دکھایا اور ساری کہانی سنا دی۔

یہ سن کر وہ بھی رو پڑا۔

میں نے کانپتی آواز میں پوچھا:

“کیا تم نے اُس دن میرے لیے بددعا کی تھی؟”

اس نے جواب دیا:

“ہاں…”

پھر کہا:

“میں نے اللہ سے عرض کی تھی: یا اللہ! یہ شخص اپنی طاقت کے غرور میں میرا حق چھین کر چلا گیا… اے رب! تو بھی اپنی قدرت کا کرشمہ دکھا!”

پھر اس نے مجھے دیکھا اور کہا:

“میں نے تمہیں معاف کیا… اللہ بھی تمہیں معاف فرمائے۔”

میں نے سچے دل سے توبہ کی اور عہد کیا کہ نہ کبھی ظلم کروں گا، نہ کسی ظالم کا ساتھ دوں گا۔

سبق:
ظلم صرف کسی کو مارنے پیٹنے کا نام نہیں…
کسی کا حق چھین لینا، کمزور کو دبانا، یا ظالم کا ساتھ دینا بھی ظلم ہے۔

یاد رکھیے…
مظلوم کی آہ سیدھی عرش تک پہنچتی ہے۔
اور جب وہ دل سے نکلے، تو بڑے سے بڑا طاقتور بھی نہیں بچ سکتا۔

اگر یہ تحریر آپ کے دل کو چھو گئی ہو تو اسے ضرور شیئر کریں۔ ہوسکتا ہے آپ کا ایک شیئر کسی کو ظلم سے روک دے اور کسی کے دل میں توبہ جگا دے۔ 🤍

Leave a Reply

NZ's Corner