درخت جو سایہ نہیں دیتا تھا
جنگل کے کنارے ایک عجیب درخت کھڑا تھا۔
وہ سب سے اونچا تھا، سب سے گھنا بھی، مگر اس کے نیچے کبھی کوئی نہیں بیٹھتا تھا۔
پرندے اس پر گھونسلہ نہیں بناتے تھے۔
مسافر اس کے سائے سے گزر کر آگے چلے جاتے تھے۔
باقی درخت اس کا مذاق اڑاتے۔
“اتنا بڑا ہو کر بھی کسی کے کام نہیں آتا!”
وہ خاموش رہتا۔
ایک رات طوفان آیا۔ ایسا طوفان جس نے برسوں پرانے درخت جڑوں سمیت اکھاڑ دیے۔ صبح سورج نکلا تو جنگل کی شکل بدل چکی تھی۔
مگر وہ درخت اب بھی اپنی جگہ کھڑا تھا۔
لوگ حیران تھے۔
ایک بوڑھے لکڑہارے نے اس کے تنے پر ہاتھ پھیرا اور آہستہ سے کہا،
“میں جانتا ہوں لوگ تیرے نیچے کیوں نہیں بیٹھتے…”
سب نے پوچھا، “کیوں؟”
اس نے جواب دیا،
“کیونکہ یہ درخت باہر سے نہیں، اندر سے زخمی ہے۔ اس کا تنا برسوں پہلے بجلی گرنے سے کھوکھلا ہو گیا تھا۔ اسے ڈر تھا کہ اگر کوئی اس کے سائے میں بیٹھا اور یہ اچانک گر گیا تو کسی بےگناہ کی جان چلی جائے گی۔”
سب خاموش ہو گئے۔
“اس نے اپنی کمزوری کبھی کسی کو نہیں بتائی… اس نے بس لوگوں کو خود سے دور رکھا تاکہ کوئی اس کی وجہ سے زخمی نہ ہو۔”
لوگ پہلی بار اس درخت کو غور سے دیکھنے لگے۔
وہ واقعی کھوکھلا تھا…
لیکن اس نے اپنی آخری طاقت بھی دوسروں کی حفاظت میں لگا دی تھی۔
چند دن بعد وہ درخت خود ہی زمین پر آ گرا۔
اس کی لکڑی سے کسی نے فرنیچر نہیں بنایا۔
کسی نے اسے بازار میں نہیں بیچا۔
گاؤں والوں نے اس کی لکڑی سے ایک پل بنایا، جو دو خطرناک پہاڑوں کے درمیان تھا۔
اب ہر روز سینکڑوں لوگ اس پل سے گزرتے تھے۔
زندگی بھر وہ درخت کسی کو اپنا سایہ نہ دے سکا…
مگر مرنے کے بعد وہ ہزاروں لوگوں کا راستہ بن گیا۔
اس پل کے آغاز پر صرف ایک جملہ لکھا گیا تھا:
“کچھ لوگ اپنی زندگی میں سمجھے نہیں جاتے، کیونکہ ان کی اصل قیمت وقت اُن کے بعد بتاتا ہے۔”
سبق:
ہر خاموشی غرور نہیں ہوتی، ہر فاصلے کے پیچھے نفرت نہیں ہوتی، اور ہر تنہائی کمزوری نہیں ہوتی۔ بعض لوگ اپنی ٹوٹی ہوئی ذات کے ساتھ بھی دوسروں کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، اور یہی ان کی سب سے بڑی عظمت ہوتی ہے
