ایک سرسبز درخت پر، دریا کے کنارے، ایک ذہین بندر رہتا تھا۔ اسی دریا میں ایک مگرمچھ بھی رہتا تھا۔ بندر روزانہ درخت کے میٹھے پھل توڑ کر اپنے دوست مگرمچھ کو کھلاتا، اور یوں دونوں کے درمیان گہری دوستی قائم ہو گئی۔
ایک دن مگرمچھ اپنی بیوی کے لیے بھی پھل لے گیا۔ پھل کھا کر اس نے کہا:
“جو بندر اتنے میٹھے پھل کھاتا ہے، اس کا دل بھی یقیناً بہت میٹھا ہوگا۔ میں اس کا دل کھانا چاہتی ہوں۔”
مگرمچھ اپنی بیوی کی ضد کے آگے بے بس ہوگیا۔ اس نے بندر کو دعوت کا بہانہ بنایا اور اپنی پیٹھ پر بٹھا کر دریا کے درمیان لے گیا۔ وہاں اس نے حقیقت بتائی کہ اس کی بیوی بندر کا دل کھانا چاہتی ہے۔
بندر لمحہ بھر کو گھبرایا، مگر فوراً عقل سے کام لیا اور بولا:
“دوست! ہم بندر اپنا دل درخت پر رکھتے ہیں۔ اگر پہلے بتاتے تو میں اسے ساتھ لے آتا۔ چلو واپس چلتے ہیں۔”
مگرمچھ بندر کی باتوں میں آ گیا اور واپس کنارے کی طرف مڑ گیا۔
جیسے ہی وہ درخت کے قریب پہنچا، بندر فوراً اچھل کر شاخ پر جا بیٹھا اور کہا:
“نادان! کیا کوئی اپنا دل جسم سے الگ رکھ سکتا ہے؟ تم نے دوستی کے نام پر دھوکہ دیا، مگر اللہ نے مجھے عقل دی جس نے میری جان بچا لی۔”
✨ سبق:
زندگی میں ہر مسکراتا چہرہ مخلص نہیں ہوتا۔
مشکل وقت میں گھبرانے کے بجائے اگر انسان صبر اور عقل سے کام لے، تو بڑے سے بڑا خطرہ بھی ٹل سکتا ہے۔
سچی دوستی اعتماد پر قائم ہوتی ہے، اور جہاں دھوکہ آ جائے وہاں فاصلے ہی بہتر ہوتے ہیں۔
