ایک جنگل میں ایک بڑا زبردست اور طاقتور ہاتھی رہا کرتا تھا ۔ اور اُسی جنگل میں بہت سے گیدڑ بھی رہا کرتے تھے۔ ایک دن ایک گیدڑ نے کہا۔ خدا نے اس ہاتھی کو کتنا بڑا جسم دیا ہے ۔ اگر ہم بھی اتنے بڑے ہوتے ۔ تو جنگل پر ہمارا ہی راج ہوتا ۔ یہ سن کر ایک بڑھے گیدڑ نے جواب دیا ۔ میاں یہ کیا کہہ رہے ہو۔ خدا نے جسم موٹا تازہ ہاتھی کو دیا ہے مگر عقل کی دولت تو ہماری ہی قوم کو ملی ہے ۔ چاہیں تو اس ہاتھی کو ایک دن میں مار دیں ۔
نوجوان گیدڑ نے حیران ہوکر پوچھا ۔ بڑے میاں کیا یہ سچ مچ ہو سکتا ہے ۔ میرا تو خیال ہے ۔ کہ ہم جنگل کے سارے گیدڑ مل جائیں ۔ تب بھی ہاتھی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ۔ ذرا سوچھ تو سہی ہماری اوقات کیا ہے ۔ اگر پاؤں رکھدے تو چار گیدڑوں کی ہڈیاں ٹوٹ جائیں ۔
بڈھے گیدڑ نے کہا ۔ لو میں تمہیں آج ہی دکھا دیتا ہوں کہ ہاتھی ایک کمزور جانور ہے۔
یہ کہہ کر بڈھا گیدڑ ہاتھی کے پاس چلا گیا ۔ اور اُسے اس طرح سلام کیا۔ جیسے وہ ہاتھی کا نوکر ہے ۔ ہاتھی نے سلام کا جواب دیا اور پوچھا ۔ تم کون ہو اور ہمارے پاس کس غرض سے آئے ہو ۔
گیدڑ – مہاراج میں گیدڑ ہوں اور جنگل کے تمام کے تمام جانوروں کی طرف سے اک خاص پیغام لے کر آیا ہوں ۔ امید ہے ۔
آپ دھیان سے سنیں گے ۔
ہاتھی ۔ کہو کیا کہتے ہو؟
گیدڑ مہاراج! اس جنگل کا راجہ شیر بادشاہ پرسوں مر گیا ہے اور اب یہ جنگل بغیر راجہ کے ہے ۔ تمام جانور ڈر رہے ہیں۔ کہ اب کیا ہوگا ۔ ڈر کے مارے اُنہیں تو رات کو نیند بھی نہیں آتی.
ہا تھی ۔ پھر ہم کیا کریں ؟
گیدڑ سب جانوروں نے سوچ بچار کے بعد فیصلہ کیا ہے۔ کہ اس شیر بادشاہ کے بعد آپ ہی اس قابل ہیں۔ کہ اس جنگل کے بادشاہ ہوں ۔ ہاتھی۔ بڑی اچھی بات ہے ۔
گیدڑ ۔ تو حضور چلیے جنگل کے تمام جانور آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ اور ہم نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ تاج پوشی کی رسم بڑی دھوم دھام سے ادا ہو ۔ تاکہ آس پاس کے سب جنگل والوں کے دلوں پر دبدبہ بیٹھ جائے ۔
راج کا نام سن کر ہاتھی پاگل ہو گیا اور جھومتا جھامتا گیڈر کے پیچھے پیچھے چلنے لگا ۔ اب گیدڑ نے کیا اُستادی کی۔ کہ ایسے رستہ پر ہو لیا ۔ جہاں اُوپر سے تو صاف زمین نظر آتی تھی لیکن نیچے بڑی بھاری دلدل تھی ۔ گیدڑ ہلکا پھلکا جانور بڑے مزے سے گزر گیا ۔ لیکن ہاتھی کا وزن تو کئی من تھا۔ وہ کیسے گزر جاتا ۔ ادھر اُس نے اُس پر پاؤں رکھا ۔ اُدھر کیچڑ میں دھنس گیا ۔ یہ دیکھ کر گیدڑ بولا – راجہ صاحب ! جلدی آئیے کہیں تاج پوشی کا وقت نہ گزر جائے ۔
مگر ہا تھی آتا کیسے ۔ وہ تو دلدل میں پھنس چکا تھا۔ شر مندہ سا ہو کر بولا ۔ بھئی گیدڑ ہم تو پھنس گئے ۔ کسی طرح باہر نکالو۔ گیدڑ نے یہ سن کر بڑے زور سے قہقہہ لگایا اور کہا ۔ واہ راجہ صاحب ! آپ نے تو کمال کر دیا ۔ لیجئے میری دم پکڑ کر نکل آئیے۔
اب جا کہ ہاتھی کی آنکھیں کھلیں ۔ لیکن اب کیا ہوتا تھا۔ وہیں پڑے پڑے مر گیا ۔ اور گیدڑوں کو کئی دن کی خوراک ہاتھ لگ گئی ہے۔
urdustories #stories #funnystory #storytime #realstory #funnymoments
