جنگل کی دنیا میں ایک وسیع و عریض خطہ تھا جسے زمانے نے دو حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔ ایک حصہ مشرقی جنگل کہلاتا تھا اور دوسرا مغربی جنگل۔ دونوں کے درمیان ایک طویل سرحد حائل تھی، مگر اس سرحد کے باوجود دونوں جنگلوں کے باشندوں میں بہت سی باتیں مشترک تھیں۔ ان کی نسل ایک تھی، خون ایک تھا، زبان ایک تھی، رسم و رواج بھی ملتے جلتے تھے اور ان کے بزرگوں کی تاریخ بھی ایک ہی تھی۔ فرق صرف اتنا تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ان کے درمیان اختلافات نے ایسی جڑ پکڑی کہ ایک ہی نسل کے جانور ایک دوسرے کو اجنبی ہی نہیں، اپنا دشمن سمجھنے لگے۔
یہ دشمنی کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہ تھی۔ کبھی کسی چراگاہ کی تقسیم پر جھگڑا ہوا، کبھی کسی دریا کے پانی پر اختلاف پیدا ہوا اور کبھی کسی پرانے فیصلے کو لے کر ایک دوسرے پر الزام تراشی شروع ہو گئی۔ پھر رفتہ رفتہ یہ اختلافات دونوں جنگلوں کی سیاست کا حصہ بن گئے۔ وہاں کے بادشاہ اور ان کے مشیر بھی اس نفرت کو کم کرنے کے بجائے اسے ہوا دیتے رہتے۔ جب کبھی عوام اپنے مسائل پوچھتی تو انہیں سرحد پار کے دشمن کی کہانیاں سنا دی جاتیں۔ ایک طرف کے جانوروں کو بتایا جاتا کہ دوسری طرف والے ان کے سب سے بڑے مخالف ہیں، اور دوسری طرف بھی یہی سبق پڑھایا جاتا۔ یوں دونوں بادشاہ اپنی اپنی رعایا کو ایک دوسرے کے خوف میں مبتلا رکھ کر حکومت کرتے رہے۔
تاہم دونوں جنگلوں کے بزرگوں نے ایک زمانے میں اس بات کا ادراک کر لیا تھا کہ اگر یہ دشمنی کسی بڑی جنگ میں بدل گئی تو دونوں طرف ایک ہی نسل کے جانوروں کا خون بہے گا۔ چنانچہ دونوں جنگلوں کے معزز اور دانا جانوروں نے باہمی مشاورت سے ایک مشترکہ آئین مرتب کیا۔ اس آئین کی سب سے اہم شق یہ تھی کہ مشرقی جنگل کا بادشاہ مغربی جنگل پر قبضہ نہیں کر سکتا اور نہ مغربی جنگل کا بادشاہ مشرقی جنگل پر اپنا اقتدار قائم کر سکتا ہے۔ دونوں کو اپنی اپنی حدود میں آزاد رہنے کا حق حاصل تھا۔ اس قانون پر دونوں طرف کے بزرگوں نے اتفاق کیا اور اسے اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک مقدس عہد قرار دیا۔
مشرقی جنگل میں شیر کی حکومت تھی۔ وہ غیرمعمولی طاقت، دبدبے اور جنگی مہارت کا مالک تھا۔ اس کے جسم میں ایسی قوت تھی کہ اس کی دھاڑ سے دور دراز کے جانوروں کے دل دہل جاتے۔ اسے اپنی طاقت پر ناز تھا اور اپنی فتوحات کا بے حد شوق۔ وہ ہر وقت کسی نہ کسی مہم کی تیاری میں رہتا۔ چونکہ آئین کی پابندی اسے مغربی جنگل پر حملے سے روکتی تھی، اس لیے اس نے اپنی طاقت آزمانے کے لیے دوسرے جنگلوں اور ریاستوں کا رخ کر رکھا تھا۔ جہاں کوئی کمزور ریاست نظر آتی، وہ اپنی فوج لے کر وہاں پہنچ جاتا، جنگ کرتا، اسے فتح کرتا اور اس کے علاقے پر اپنا جھنڈا لہرا دیتا۔
اس کے برعکس مغربی جنگل کا بادشاہ ایک لومڑ تھا۔ وہ جسمانی طاقت میں شیر کے مقابلے کا نہیں تھا، مگر ذہانت، معاملہ فہمی اور دوراندیشی میں اپنی مثال آپ تھا۔ وہ جانتا تھا کہ ہر مسئلے کا حل پنجوں اور دانتوں سے نہیں نکلتا؛ بعض اوقات ایک درست چال وہ کام کر دکھاتی ہے جس کے لیے بڑی سے بڑی فوج بھی ناکافی ثابت ہوتی ہے۔ اس کے جنگل میں بھی شیر کی فتوحات کا چرچا رہتا اور اس کے درباری اکثر مشرقی جنگل کے بادشاہ کے رعب و دبدبے کا ذکر کرتے۔ لیکن لومڑ نہ اس کی طاقت سے مرعوب ہوتا اور نہ اس کی فتوحات سے متاثر ہو کر اپنی عقل کا دامن چھوڑتا۔
لومڑ کی ایک عجیب خواہش تھی۔ جنگل کی دنیا میں ایک بہت بڑی اور خوشحال سلطنت تھی، جس کے بادشاہ کے پاس ایک نایاب ہیرا تھا۔ کہا جاتا تھا کہ اس ہیرے کی چمک ایسی تھی کہ اندھیرے میں بھی اس کے گرد روشنی کا ہالہ دکھائی دیتا۔ اس کی قیمت کا اندازہ لگانا مشکل تھا، مگر اس سے بڑھ کر اس کی شہرت تھی۔ بڑے بڑے بادشاہ اسے حاصل کرنے کی آرزو رکھتے تھے۔
لومڑ نے بھی اس ہیرے کے قصے سن رکھے تھے اور دل ہی دل میں خواہش پال رکھی تھی کہ کاش کبھی وہ ہیرا اس کے ہاتھ آ جائے۔ مگر وہ ایک چھوٹے سے جنگل کا بادشاہ تھا؛ اس کے پاس نہ اتنی بڑی فوج تھی اور نہ اتنے وسائل کہ اس عظیم سلطنت سے ٹکر لے سکے۔ چنانچہ وہ اپنی خواہش کو دل میں لیے خاموش بیٹھا رہا۔
ادھر مشرقی جنگل کا شیر اپنی فتوحات کے نشے میں ایک کے بعد دوسری مہم سر کرتا جا رہا تھا۔ ایک دن اس نے جنگل کی دنیا کی اسی عظیم سلطنت پر حملہ کر دیا جس کے ہیرے کے قصے لومڑ نے سن رکھے تھے۔ جنگ طویل اور سخت تھی، مگر شیر کی فوج نے بالآخر سلطنت کو شکست دے دی۔ وہاں کا بادشاہ تخت و تاج سے محروم ہوا، ریاست شیر کے قبضے میں آ گئی اور فاتح شیر اپنے ساتھ وہ نایاب ہیرا بھی لے آیا۔ اس نے ہیرے کو اپنے تاج میں جڑوا دیا تاکہ ہر دربار اور ہر محفل میں اس کی فتح کا نشان اس کے سر پر جگمگاتا رہے۔
جب لومڑ تک یہ خبر پہنچی تو اس کی پرانی خواہش پھر سے جاگ اٹھی۔ وہ دیر تک خاموش بیٹھا اس خبر پر غور کرتا رہا۔ اب وہ ہیرا کسی دور دراز سلطنت کے خزانے میں نہیں تھا؛ وہ مشرقی جنگل کے شیر کے تاج میں سجا ہوا تھا۔ لومڑ جانتا تھا کہ شیر سے جنگ کر کے وہ یہ ہیرا حاصل نہیں کر سکتا۔ اس کی فوج کم تھی، وسائل محدود تھے اور طاقت کا مقابلہ کرنا اس کے بس کی بات نہ تھی۔
لومڑ نے ایک غیرمعمولی فیصلہ کیا۔ اس نے اپنے دربار میں اعلان کروا دیا کہ مغربی جنگل کا بادشاہ مشرقی جنگل کے ساتھ صلح کرنا چاہتا ہے۔
یہ خبر جب مشرقی جنگل کے شیر تک پہنچی تو اس نے اپنے درباریوں کی طرف دیکھا اور غرور سے مسکرایا۔
’’دیکھا تم نے! ہماری فتوحات کا رعب اب سرحد پار بھی پہنچ گیا ہے۔ مغربی جنگل کا بادشاہ آخرکار سمجھ گیا کہ شیر سے دشمنی مول لینا اس کے بس کی بات نہیں۔ وہ خود صلح کی درخواست لے کر آ رہا ہے۔‘‘
اس کے چیلے چپاٹے بھی کہاں پیچھے رہنے والے تھے۔ کسی نے کہا کہ لومڑ نے شیر کی دھاڑ سن کر ہتھیار ڈال دیے ہیں، کسی نے اسے بزدل قرار دیا اور کسی نے یہ دعویٰ کیا کہ مغربی جنگل کے جانور اب مشرقی جنگل کی طاقت کے سامنے سر جھکانے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ مشرقی جنگل میں جشن کا سماں پیدا ہو گیا۔ ہر طرف شیر کی عظمت کے قصیدے پڑھے جانے لگے۔
مگر مغربی جنگل میں صورتِ حال بالکل مختلف تھی۔ وہاں کے جانور اپنے بادشاہ کے فیصلے پر حیران اور افسردہ تھے۔ انہیں یہ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ جس بادشاہ نے ہمیشہ اپنی آزادی اور خودمختاری کی بات کی، وہ اچانک شیر کے سامنے صلح کی درخواست کیوں لے کر بیٹھ گیا ہے۔ کئی جانوروں نے دربار میں اس فیصلے پر سوال بھی اٹھائے، تو اس نے صرف اتنا کہا کہ صلح ضرور ہو گی، مگر اس کی ایک شرط وہ یہ کہ مغربی جنگل کے آئین کے مطابق طے ہوں گی۔
جب یہ شرط شیر تک پہنچی تو وہ پہلے تو کچھ دیر سوچتا رہا۔ پھر اس نے ہنستے ہوئے کہا:
’’یہ بھی کوئی بڑی شرط ہے؟ جب وہ خود صلح کی درخواست کر رہا ہے اور ہماری باقی تمام شرائط ماننے کو تیار ہے تو اس کی ایک بات ہم بھی مان لیتے ہیں۔ آخر صلح میں کچھ نہ کچھ رعایت تو دینی ہی پڑتی ہے۔‘‘
یوں شیر نے مغربی جنگل کے آئین کے مطابق صلح کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی۔
مقررہ دن دونوں جنگلوں کے درمیان واقع ایک وسیع میدان میں صلح کی تقریب منعقد ہوئی۔ دونوں طرف کے معزز اور بزرگ جانور جمع تھے۔ مشرقی جنگل کے درباری شیر کی فتح کے نشے میں سرشار تھے، جب کہ مغربی جنگل کے جانور خاموشی اور تشویش کے ساتھ اپنے بادشاہ کی طرف دیکھ رہے تھے۔ شیر اپنے شان دار لشکر اور درباریوں کے ساتھ میدان میں داخل ہوا۔ اس کے سر پر وہی قیمتی تاج سجا تھا جس کے درمیان نایاب ہیرا اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔
دونوں بادشاہ آمنے سامنے بیٹھے۔ صلح کی دستاویزات پڑھ کر سنائی گئیں اور پھر مغربی جنگل کے آئین کی وہ شق پیش کی گئی جس کے تحت صلح کے موقع پر دونوں بادشاہ اپنے تاج ایک دوسرے سے تبدیل کرتے تھے۔ یہ رسم دونوں جنگلوں کے قدیم دستور کا حصہ تھی، جوکہ اس کا علم شیر کو نہیں تھا اور اس شق کا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ صلح کے بعد دونوں بادشاہ ایک دوسرے کی خودمختاری اور عزت کو تسلیم کرتے ہیں۔
شیر نے یہ شق سنی تو اس کے پاؤں سے جیسے زمین نکل گئی ہو، مگر وہ کچھ کہہ نہ سکا۔ اس نے خود ہی تو مغربی جنگل کے آئین کے مطابق صلح کرنے کی رضامندی دی تھی۔ دونوں طرف کے بزرگ موجود تھے، معاہدے پر اس کی مہر ثبت ہو چکی تھی اور وہ اپنی زبان دے چکا تھا۔ اب انکار کرنا نہ صرف اس کی اپنی بات سے پھرنا تھا بلکہ تمام جانوروں کے سامنے اپنے وعدے کی خلاف ورزی بھی تھی۔
چنانچہ رسم کے مطابق پہلے شیر کے سر سے تاج اتارا گیا اور لومڑ کے سر پر رکھ دیا گیا۔ اس کے بعد لومڑ کا تاج شیر کے سر پر سجایا گیا۔
جیسے ہی شیر کا تاج لومڑ کے سر پر رکھا گیا، اس کی نگاہ فوراً اس قیمتی ہیرے پر جا ٹھہری۔ وہ ہیرا جس کی خواہش اس نے مدتوں اپنے دل میں پال رکھی تھی، اب اس کے سر پر تھا۔ اس کے چہرے پر ایک مدھم سی مسکراہٹ نمودار ہوئی، مگر اس نے اپنی خوشی کو ظاہر نہ ہونے دیا۔
دوسری طرف شیر کی حالت دیکھنے کے قابل تھی۔ وہ اپنے خالی سر کو دیکھ رہا تھا، پھر لومڑ کے سر پر سجے اپنے تاج کو۔ اس کی نگاہ بار بار اس ہیرے پر جا ٹھہرتی جسے حاصل کرنے کے لیے اس نے ایک عظیم سلطنت سے جنگ لڑی تھی، اپنی فوجوں کو میدان میں اتارا تھا اور بے شمار جانوروں کی جانیں قربان ہوئی تھیں اور خود کی ناصرف جان بلکہ سلطنت تک خطرے میں ڈالی تھی، اس نے کبھی تصور بھی نہ کیا تھا کہ جس تاج کو وہ اپنی فتوحات کی سب سے بڑی نشانی سمجھتا ہے، وہ ایک دن اس کے سر سے اتر کر اس جانور کے سر پر سج جائے گا جسے وہ اپنے برابر کا حریف بھی نہیں سمجھتا تھا۔
حاصل سبق:
لومڑ نے نہ کوئی جنگ لڑی، نہ تلوار اٹھائی، نہ اپنی فوج کو خطرے میں ڈالا اور نہ ہی کوئی قربانی دی؛ اس نے صرف عقل کی ایک چال چلی اور وہ خزانہ حاصل کر لیا جسے پانے کے لیے شیر نے اپنی جان، فوج اور سلطنت تک داؤ پر لگا دی تھی۔ عقل کی اصل طاقت یہی ہے کہ جہاں طاقتور اپنی پوری قوت صرف کر کے بھی سب کچھ حاصل نہیں کر پاتے، وہاں ایک عقل مند اپنی ایک درست چال سے بازی پلٹ دیتا ہے۔ اس لیے ہمیشہ طاقتور بننے کے بجائے عقلمند بننے کی کوشش کریں، کیونکہ جب عقل اپنا کھیل کھیلتی ہے تو بڑے سے بڑا طاقتور بھی مات کھا جاتا ہے۔

