یہ قصہ ہے سینکڑوں ہزاروں سال پہلے کا۔ ایک زمیندار تھا، زمین جائیداد کا مالک، عیش و عشرت کی زندگی بسر کر رہا تھا۔ اس کے دو حسین و جمیل انگور کے باغ تھے جن کے چاروں طرف کھجور کے درختوں کی خوبصورت قطاریں تھیں۔ بیچ بیچ میں لہلہاتے کھیت تھے۔ دونوں باغوں کے درمیان میں ایک نہر بہہ رہی تھی
جس نے باغات کے حسن کو دوبالا کر دیا تھا۔ زمیندار کو اپنے مال و دولت پر ناز تھا، وہ سمجھتا تھا کہ یہ سب کچھ میں نے اپنے بل بوتے پر حاصل کیا ہے۔ وہ باغ کی سیر کو آتا تو پھولا نہ سماتا۔ اس کا ایک دوست تھا جو متوسط زندگی گزار رہا تھا۔ ایک مرتبہ وہ اپنے دوست کو لے کر اس خوبصورت باغ میں داخل ہوا اور اسے دیکھ کر کہنے لگا: “میرا تمہارا کیا جوڑ؟ میری دولت کی تہ نہیں، خدم و حشم ہاتھ باندھے کھڑے ہیں۔ یہ ایک لافانی دولت و عزت ہے جو مجھے حاصل ہے۔ قیامت، آخرت یہ سب فرضی خیالات ہیں، اور اگر میں اپنے رب کے حضور حاضر بھی ہوا تو اس سے بہتر عزت و دولت ملے گی۔”
اس کا دوست پہلے سے بھی اسے سمجھاتا رہا تھا۔ اس گفتگو کو سن کر اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے، وہ بولا: “تم کیا کہہ رہے ہو؟ اپنے مالک کا انکار کرتے ہو جس نے تمہیں مٹی سے پھر پانی کے ایک قطرے سے بنایا اور ایک توانا مرد کی شکل میں کھڑا کر دیا۔ اپنی حقیقت کو تم بھول گئے! تم نے اپنے ہاتھ پاؤں سے سب کچھ کیا، لیکن تمہیں اس کی طاقت کس نے دی، ہاتھ پاؤں کس نے بنائے؟ ذرا سوچو! وہی اللہ میرا رب ہے اور میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔
کاش یہ حقیقت تم نے سمجھی ہوتی! اپنے باغ میں داخل ہوتے تو اسے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمت سمجھ کر اس کا شکر کرتے۔ تم اگر دیکھ رہے تھے کہ میرے پاس دولت و عزت کم ہے اور تم اس میں بڑھے ہوئے ہو تو تمہیں اپنے مالک کے آگے سر جھکا دینا چاہیے تھا۔ تمہاری اس ناشکری کا نتیجہ اب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تم سے بہتر باغات اللہ تبارک و تعالیٰ مجھے عطا فرما دے، اور تمہارے باغ پر کوئی ایسی آفت آ جائے کہ پورا باغ چٹیل میدان ہو کر رہ جائے، یا اس کا پانی ہی اس طرح تہوں میں چلا جائے کہ ہزار کوشش کے باوجود تمہیں کچھ حاصل نہ ہو۔”
اللہ تبارک و تعالیٰ کا حکم یہی ہوا اور یہی ہوا۔ اس کا باغ تباہ ہو گیا۔ وہ شخص کفِ افسوس ملتا تھا اور کہتا تھا کہ کاش میں نے اپنے رب کو پہچانا ہوتا، اسے یکتا سمجھتا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا۔ نہ خدم و حشم اس کے کچھ کام آ سکے، نہ اس کی عزت و دولت نے اس کا ساتھ دیا، لمحوں میں کچھ کا کچھ ہو گیا، اور یہ بات کھل کر سامنے آ گئی کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہی ہر چیز کا مالک ہے، ہر چیز کا انجام اس کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جو چاہے کرتا ہے، اس کی مرضی و مشیت کے بغیر کوئی پتہ بھی ہل نہیں سکتا۔ خدائی طاقت و قوت کے سامنے انسانی تدابیر کچھ بھی کام نہیں آ سکتیں۔
