بہت پرانے زمانے کی بات ہے ایک غلام تھا جس کا نام اینڈروکلیز تھا۔ وہ ایک نہایت ظالم مالک کے پاس رہتا تھا جو اس سے دن رات سخت مشقت کرواتا اور معمولی سی غلطی پر بھی سخت سزا دیتا۔
آخر ایک دن ظلم سے تنگ آ کر اینڈروکلیز وہاں سے بھاگ نکلا۔
وہ جنگلوں میں بھٹکتا رہا…
کبھی بھوک سے لڑتا…
کبھی خوف سے…
مگر کم از کم اب وہ آزاد تھا۔
ایک دن وہ ایک درخت کے نیچے تھکا ہارا بیٹھا تھا کہ اچانک اسے درد سے بھری ایک خوفناک دھاڑ سنائی دی۔
وہ گھبرا گیا۔
مگر اُس آواز میں ایسا درد تھا کہ وہ ہمت کر کے آہستہ آہستہ اُس طرف بڑھنے لگا۔
وہاں اس نے ایک شیر دیکھا…
بہت بڑا…
خوفناک…
لیکن شدید تکلیف میں مبتلا۔
اس کے پنجے میں ایک بڑا کانٹا چبھ گیا تھا اور وہ درد سے کراہ رہا تھا۔
اینڈروکلیز پہلے خوفزدہ ہوا، مگر پھر اس کے دل میں رحم جاگ اٹھا۔
وہ آہستہ آہستہ شیر کے قریب گیا۔
حیرت کی بات یہ تھی کہ شیر نے اسے نقصان نہیں پہنچایا، بلکہ اپنا زخمی پنجہ اس کی طرف بڑھا دیا… جیسے مدد مانگ رہا ہو۔
اینڈروکلیز نے ہمت کی، کانٹا نکالا اور زخم صاف کر دیا۔
چند لمحوں بعد شیر کو سکون مل گیا۔
وہ خوشی سے اینڈروکلیز کے گرد گھومنے لگا، جیسے اپنی زبان میں شکریہ ادا کر رہا ہو۔
کچھ دنوں تک وہ دونوں جنگل میں ساتھ رہے اور ایک عجیب سی دوستی قائم ہو گئی۔
مگر قسمت کو کچھ اور منظور تھا…
چند دن بعد رومی سپاہیوں نے اینڈروکلیز کو پکڑ لیا کیونکہ وہ ایک فرار غلام تھا۔
اسے واپس شہر لایا گیا اور سزا سنائی گئی کہ اسے بھوکے شیر کے سامنے میدان میں پھینک دیا جائے۔
وہ دن آ پہنچا…
ہزاروں لوگ تماشہ دیکھنے کے لیے جمع تھے۔
اینڈروکلیز کو میدان کے بیچ کھڑا کر دیا گیا۔
پھر ایک بڑا دروازہ کھولا گیا…
اور ایک خوفناک شیر دھاڑتا ہوا اندر داخل ہوا۔
لوگوں نے سانس روک لی۔
لیکن پھر ایسا منظر سامنے آیا جس نے سب کو حیران کر دیا۔
جیسے ہی شیر اینڈروکلیز کے قریب پہنچا…
وہ اچانک رک گیا…
غور سے اسے دیکھا…
اور پھر خوشی سے دم ہلانے لگا۔
یہ وہی شیر تھا…
جس کے پنجے سے اینڈروکلیز نے کانٹا نکالا تھا۔
شیر نے حملہ کرنے کے بجائے اُس کے ہاتھ چاٹنے شروع کر دیے اور اُس کے گرد ایسے گھومنے لگا جیسے برسوں بعد کسی دوست سے ملا ہو۔
پورا میدان حیرت سے خاموش ہو گیا۔
بادشاہ نے فوراً اینڈروکلیز کو بلایا اور ساری کہانی سنی۔
جب حقیقت معلوم ہوئی تو وہ اینڈروکلیز کی مہربانی اور انسانیت سے بے حد متاثر ہوا۔
اسی وقت حکم دیا گیا کہ:
اینڈروکلیز کو آزاد کر دیا جائے…
اور شیر کو بھی جنگل میں چھوڑ دیا جائے۔
یوں ایک چھوٹی سی نیکی نے ایک انسان کی جان بچا لی۔
اخلاقی سبق:
نیکی کبھی ضائع نہیں جاتی۔
رحم اور مہربانی کا بدلہ ضرور ملتا ہے۔
انسانیت اور ہمدردی دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔
اگر یہ کہانی آپ کے دل کو چھو گئی ہو تو ایک لائک ضرور کریں
اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں تاکہ محبت، رحم اور انسانیت کا یہ خوبصورت پیغام مزید لوگوں تک پہنچ سکے۔
اور اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں۔
