برصغیر پر انگریزوں کے قبضے کے دوران۔۔۔۔۔۔۔
ہر انگریز افسر کا ہر، تین برس بعد واپس برطانیہ بلا لیا جاتا، مبادہ یہ مقامی رسم و رواج کے عادی نہ ہو جائیں یا اس کی ریٹائرمنٹ تک، کسی دوسرے ملک بھجوا دیا جاتا۔ یا، جو اپنی ملازمت مکمل کرنے کے بعد واپس برطانیہ آتا، اسے کوئی عوامی عہدہ نہ دیا جاتا، دلیل دی جاتی تھی:
” آپ غلام قوم پر حکومت کر کے أۓ ہو، جس سے تمہارے اطوار اور رویے میں تبدیلی آ گی ہے۔ یہاں اگر اس طرح کی کوئی ذمہ داری تمہیں سونپی جاے، تو آپ ہم آزاد قوم کے ساتھ بھی اسی طرح کا برتاو کرو گے”
برطانیہ کی ایک انگریز خاتون کا شوہر سول سروس آفیسر تھا،
اس خاتون نے زندگی کے کئی سال ہندوستان کے مختلف علاقوں میں گزارے۔ واپسی پر اس نے اپنی یاداشتوں پر مبنی کتاب لکھی:
” میرا شوہر، ضلع کا ڈپٹی کمشنر تھا، تب میرا بیٹا چار سال کا، بیٹی ایک سال کی تھی۔ انہیں ملنے والی ایک سو ایکڑ پر محیط رہائش گاہ میں ہم رہتے تھے۔ ہماریے گھر اور خاندان کی خدمت گزاری پر دو سو افراد معمور تھے۔ روز محفلیں ہوتیں، شکار کے پرواگرام بنتے، بڑے بڑے زمین دار ہمیں اپنے ہاں مدعو کرنا باعث فخر سمجھتے۔ جہاں ہم چلے جاتے، اسے وہ اپنی عزت افزائی سمجھتا۔ ہمارے ٹھاٹھ ایسے تھے کہ برطانیہ میں ملکہ اور شاہی خاندان کو بھی بممشکل ہی میسر تھے۔
ریل کے سفر کے دوران نوابی ٹھاٹھ سے آراستہ ایک عالیشان ڈبہ ہمارے لیے مخصوص ہوتا۔ ہم ریل میں سوار ہوتے، سفید وردی میں ملبوس ڈرائیور ہمارے سامنے اپنے ہاتھ باندھے کھڑا، سفر کے آغاز کی اجازت طلب کرتا۔ ہماری اجازت ملنے پر ہی ریل چلنا شروع ہوتی۔
ایک مرتبہ ہم سفر کے لیے ریل میں بیٹھے۔ روایت کے مطابق ڈرائیور نے ہمارے روبرو حاضر ہو کر، ہم سے ریل چلنے کی اجازت طلب کی۔
اس سے پہلے کہ کچھ بولتی، میرا بیٹا بول اٹھا۔ اُس نے ڈرائیور سے کہا:
” ریل نہیں چلے گی”
اس نے کہا:
” جو حکم چھوٹے سرکار”
اس سے کچھ دیر بعد ہی، اسٹیشن ماسٹر سمیت پورا عملہ جمع ہو کر میرے چار سالہ بیٹے سے ریل چلانے کی اجازت ظلب کر رہا تھا مگر، بیٹا اجازت دینے کو تیار نہ تھا۔ بالآخر بڑی مشکل سے میں نے چاکلیٹس دینے کے لالچ پر ریل چلانے کی انہین اجازت دلائی، تب سفر کا آغاز ہوا۔
چند ماہ بعد میں دوستوں اور رشتہ داروں سے ملنے واپس برطانیہ آئی۔ ہم بذریعہ بحری جہاز لندن پہنچے۔ ہماری منزل ویلز کی ایک کاونٹی تھی، جس کے لیے ہم نے ٹرین کا سفر کرنا تھا۔ بیٹی اور بیٹے کو اسٹیشن کے ایک بینچ پر بٹھا کر میں ٹکٹ لینے چلی گئی۔ قطار طویل ہونے کی وجہ سے خاصی دیر ہو گئی، جس پر میرا بیٹا بگڑ گیا۔ ہم ریل میں بیٹھے، عالیشان کمپاونڈ کے بجاے فرسٹ کلاس کی سیٹیں دیکھ کر بیٹا ایک بار پھر ناراضگی کا اظہار کرنے لگا۔
اپنے مقررہ وقت پر ریل نے سیٹی ماری، سفر شروع کیا تو بیٹے نے بچیخنا شروع کر دیا۔ وہ زور زور سے کہہ رہا تھا:
” یہ کیسا الو کا پٹھہ ڈرائیور ہے۔
ہم سے اجازت لیے بغیر ہی اس نے ریل چلانا شروع کر دی۔ میں پاپا سے کہہ کر اسے جوتے لگواؤں گا”
میرے لیے اُسے سمجھانا مشکل ہو گیا، بیٹے سے کہا
” یہ تمہارے باپ کا ضلع نہیں، ایک آزاد ملک ہے۔ یہاں ڈپٹی کمشنر جیسے تیسرے درجہ کے سرکاری ملازم تو کیا وزیر اعظم اور بادشاہ کو بھی یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ اپنی انا کی تسکین کے لیے عوام کو خوار کر سکے”
