رات کے تقریباً بارہ بج رہے تھے۔ ایک آدمی ایک سنسان گلی سے گزر رہا تھا۔ گلی میں ایسی خاموشی تھی کہ اسے اپنے قدموں کی آواز بھی صاف سنائی دے رہی تھی۔
اچانک ایک مکان کے اندر سے کسی کی بلند آواز سنائی دی:
**”نہیں! پہلے بازو کاٹو… گلا بعد میں کاٹ لینا!”**
آدمی کے قدم وہیں رک گئے۔
اس کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ اس نے دل ہی دل میں کہا:
“یا اللہ! یہ تو کوئی خطرناک معاملہ لگتا ہے!”
وہ مزید کچھ سننے کے لیے دیوار کے قریب ہوا تو اندر سے پھر آواز آئی:
**”ذرا سیدھا پکڑو، ورنہ خراب ہو جائے گا!”**
اب تو اس کا شک یقین میں بدل گیا۔
وہ پوری طاقت سے وہاں سے بھاگا اور سیدھا قریبی پولیس چوکی پہنچ گیا۔
ہانپتے ہوئے پولیس والوں سے بولا:
“جلدی چلیں! ایک گھر میں کوئی آدمی دوسرے کو کاٹ رہا ہے۔ پہلے بازو کاٹنے کا کہہ رہا تھا، اب گلا کاٹنے کی بات کر رہا ہے!”
پولیس والے فوراً اس کے ساتھ مکان پر پہنچے۔ دروازہ کھٹکھٹایا، پھر اندر داخل ہوئے۔
لیکن اندر کا منظر دیکھ کر پولیس والے بھی ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔
وہاں کوئی قاتل نہیں تھا…
بلکہ دو درزی سکون سے بیٹھے ایک قمیص تیار کر رہے تھے۔
ایک درزی دوسرے سے کہہ رہا تھا:
**”پہلے بازو کاٹو، گلا بعد میں کاٹ لینا!”**
پولیس والوں نے زور دار قہقہہ لگایا، جبکہ وہ آدمی شرمندگی سے سر کھجانے لگا۔
اسے سمجھ آ گیا کہ اس نے **آدھی بات سنی اور پوری کہانی خود بنا لی!**
**سبق:**
کسی بات کا صرف ایک حصہ سن کر فوراً نتیجہ نہیں نکالنا چاہیے۔ مکمل حقیقت جانے بغیر بنائی گئی رائے اکثر غلط فہمی ثابت ہوتی ہے۔
