#فتوحات_شام

#فتوحات_شام

رومیوں کی صف سے ایک گھڑ سوار جو نہایت ڈیل ڈول کا مالک تھا، نکل کر میدان میں آیا اور چیخ چیخ کر کچھ کہنے لگا۔ مسلمانوں کو اس کی زبان تو سمجھ نہ آئی البتہ اس کے چہرے کے تاثرات سے سمجھ گئے کہ کسی کو مقابلے کے لیے بلا رہا ہے۔

اس کا مقابلہ کرنے کے لیے سابق والی بصرہ روماس نکل کر گئے۔ مقابل نے ان کو خوب لعن طعن کی کہ تم نے اپنا دین تبدیل کرلیا ہے۔ پھر اس نے روماس پر حملہ کردیا۔ دونوں برابر جوڑ کے تھے۔ کافی دیر تک تلواروں کی جھنکار اور بہادروں کی للکار سنائی دیتی رہی۔ آخر رومی سورما نے ایک کاری وار کیا۔ آپ نے وار کو اپنے اوپر محسوس کیا۔ اس ضرب سے آپ کا خون جاری ہوگیا۔ جب آپ کو تکلیف محسوس ہوئی تو آپ نے گھوڑا اپنے لشکر کی طرف موڑ دیا۔ رومی آپ کے تعاقب میں آیا مگر آپ ساتھیوں میں پہنچ گئے۔ جب وہ رومی تعاقب کرتا ہوا قریب آگیا تو مسلمانوں نے اسے للکارنا شروع کیا۔ یہ دیکھ کر وہ پیچھے ہٹ گیا۔ مسلمانوں نے روماس کی مرہم پٹی شروع کردی اور آپ کا شکریہ ادا کیا۔

رومی پیچھے ہٹ کر بیچ میدان میں کھڑا ہوگیا اور گھوڑے کو کودا کودا کر مسلمانوں کو للکارنے لگا۔ اب وہ مزید جوش میں آگیا تھا۔ رومی لشکر بھی اس کو خوب بھڑکا رہا تھا۔ یہ دیکھ کر حضرت میسرہ بن مسروق العبسی ؓ نے مقابلے میں جانے کی اجازت طلب کی۔ حضرت خالد بن ولید ؓ نے آپ کو منع کیا کہ وہ گبرو جوان ہے اور آپ بوڑھے ہوچکے ہیں۔ اس لیے مناسب یہی ہے کہ مقابلہ برابر سرابر کا ہو۔ حضرت میسرہ اپنی جگہ واپس چلے گئے۔

پھر عامر بن طفیل نے آپ سے اجازت طلب کی۔ آپ نے کہا:
“عامر تم کمسن ہو۔ مجھے ڈر ہے کہ تم اس کے مقابلے میں کمزور نہ پڑ جاؤ۔”

انھوں نے کہا:
“امیر محترم! آپ نے اس رومی کی اتنی بہادری بیان کردی کہ لوگوں کے دلوں میں خوف پیدا ہو رہا ہے۔ یہ اچھی بات نہیں۔”

آپ نے فرمایا:
“عامر! میدان کا شناسا مقابل کو پہچان لیتا ہے۔ میں اس کے چہرے اور اس کی حرکات سے اندازہ لگا چکا ہوں کہ یہ بڑا پہلوان شخص ہے۔ تمھیں اس کا مقابلہ کرتے ہوئے سخت مشکل پیش آئے گی۔ بہت ممکن ہے وہ غالب آ جائے۔ اور تمھیں تو معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مسلمان کا بال بھی کسی غیر مسلم سے زیادہ اہم ہے۔ یہ شخص رومیوں کا سب سے بہادر انسان ہے۔ اسی لیے وہ سب سے پہلے آیا ہے۔ فی الحال تم اپنی جگہ انتظار کرو۔”

عامر بن طفیل اپنی جگہ واپس پہنچ گئے۔ پھر حرث بن عبداللہ ازدی آپ کی طرف اجازت طلب کرنے کے لیے آئے۔ آپ نے فرمایا:

“حرث! تم واقعی اس کے مقابلے کے ہو۔ میں تمھیں چالاک اور پھرتیلا انسان سمجھتا ہوں۔ یہ بتاؤ پہلے کبھی تم نے کسی کا مقابلہ کیا ہے؟”

انھوں نے کہا:
“نہیں امیر محترم!”

آپ نے فرمایا:
“پھر مناسب نہیں کہ ایک تجربہ کار کے سامنے کسی ناتجربہ کار جوان کو بھیجوں۔ تم ابھی نئے نئے ہو اور یہ شخص نہایت تجربہ کار۔ اس کی الٹ پھیر بتا رہی ہے کہ یہ کوئی عام سپاہی نہیں۔”

جب یہ واپس چلے گئے تو آپ کی نظر قیس بن ہبیرہ المردی ؓ پر گئی۔ وہ دیکھ کر مسکرائے اور کہا:

“امیر محترم! مجھے اندازہ تھا کہ آپ میرے انتظار میں ہیں۔ آپ حکم کریں میں اس کے مقابلے میں نکلتا ہوں۔”

آپ نے یہ سن کر کہا:
“بے شک۔ میں یہی چاہ رہا تھا۔ آپ اللہ کا نام لے کر مقابلے پر جائیں۔ اللہ تعالیٰ تمھاری مدد کرے گا۔”

حضرت قیس بن ہبیرہ المردی ؓ گھوڑے کو دوڑاتے ہوئے پہنچے۔ میدان کا ایک چکر لگایا اور اس کے سامنے جا کھڑے ہوئے۔ وہ آپ کے گھوڑے کے دوڑانے سے سمجھ گیا کہ اب مقابلے میں تجربہ کار شخص آیا ہے۔

آپ کے پہنچتے ہی اس نے آپ پر حملہ کردیا۔ دونوں سواروں میں زبردست لڑائی شروع ہوگئی۔ قیس بن ہبیرہ نے تلوار کا ایک جچا تلا ہاتھ اس کے سر پر مارا، اس نے وار کو ڈھال پر روکا، وار شدت سے پڑا تھا۔ وہ ڈھال چیرتا ہوا خود (جنگی ٹوپی) تک پہنچ گیا اور تلوار اس کے لوہے میں پھنس گئی۔ آپ نے بہت کوشش کی کھینچنے کی مگر نہ نکلی۔ جب آپ کے ہاتھ خالی رہ گئے تو وہ اور شیر ہوگیا۔ اسی کھینچا تانی میں آپ اس کے بالکل قریب آگئے۔ اس نے فوراً آپ پر تلوار سے وار کیا جس سے آپ کو زخم آگیا۔ اس نے آپ کو قید کرنے کی کوشش کی۔ آپ اس سوچ میں لشکر کی طرف ہٹے کہ کسی ساتھی سے تلوار لے آؤں۔ دشمن نے سمجھا آپ بھاگ رہے رہیں، اس لیے وہ بھی چیختا چلاتا آپ کے پیچھے آیا۔ آپ نے یہ دیکھ کر کمر سے خنجر نکالا اور کھڑے ہوگئے۔ وہ بھی سنبھل کر آپ کے آس پاس چکر کاٹنے لگا۔ حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ اجازت طلب کرکے آپ کو تلوار دینے کے لیے میدان میں پہنچے تو ادھر رومیوں میں سے بھی ایک سردار نکل کر آگیا۔ اس نے سمجھا شاید یہ دوسرا اس کی مدد کرنے آیا ہے جو اصول کے خلاف ہے۔ اس پر اس نے رومی لشکر سے ایک ترجمان بلاکر اس کے ذریعے اعتراض کیا۔ تو عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ نے کہا:

“میں محض اپنے ساتھی کو تلوار دینے کے لیے آیا تھا اور اب واپس جانا چاہتا تھا۔” اسی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حضرت قیس بن ہبیرہ نے اپنے زخم پر کپڑے کی عارضی پٹی باندھ لی تھی۔ حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ نے فرمایا:

“قیس! تم واپس جاؤ اور آرام کرو۔ ان کو میں سنبھال لوں گا۔” یہ کہہ کر آپ نے نیزہ ایسی قوت سے مارا کہ ان تین میں سے ایک اچھل کر زمین پر گرا اور تڑپنے لگا۔ یہ دیکھ کر بقیہ دونوں رومی سردار آپ پر حملہ آور ہوگئے۔ حضرت قیس نے آپ کو چیخ کر کہا:

“عبدالرحمن! آپ کو خدا کا واسطہ اور آپ کے والد گرامی حضرت ابوبکر صدیق  ؓ  کا واسطہ تم واپس چلے جاؤ۔ مجھے تلوار دو میں ان سے خود نبٹ لوگوں گا، مگر وہ نہ مانے اور مقابلہ کرتے رہے۔

لڑتے لڑتے انھوں نے قیس سے کہا:
“تم فوراً واپس چلے جاؤ، تمھیں ثواب پورا پورا ملے گا۔ اگر میں جان سے چلا گیا تو عائشہ (سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ) سے کہنا تمھارا بھائی تمھارے شوہر (نبی کریم ﷺ) اور تمھارے ابا جان (حضرت ابوبکر صدیق ؓ ) کے پاس پہنچ گیا ہے۔ اب فوراً چلے جاؤ واپس۔”

قیس بن ہبیرہ یہ سن کر تعجب کرنے لگے۔ پھر وہ لشکر کی طرف واپس پلٹ آئے۔

عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ دونوں رومیوں کا برابر مقابلہ کر رہے تھے۔ آپ نے دوسرے رومی کو نیزہ مارا تو اس کا پھل زرہ میں پھنس گیا۔ آپ نے وہ چھوڑ کر تلوار نکال لی اور گھوڑے سے ذرا اونچا اٹھ کر اتنی زور سے مقابل پر وار کیا کہ تلوار اس کا دھڑ بیچ میں سے چیرتی ہوئی چلی گئی۔ تیسرے نے اپنے ساتھی کی یہ حالت دیکھی تو دم بخود رہ گیا۔ آپ نے تاڑ لیا کہ اس کی ہوا اکھڑ گئی ہے۔ آپ نے اس کے سنبھلنے سے پہلے ہی تیزی سے آگے بڑھ کر گردان پر وار کیا اور اس کا سر جنگی ٹوپی سمیت دور جا گرا۔

مسلمانوں نے یہ دیکھ کر زور دار آواز میں نعرہ تکبیر بلند کیا۔ رومی یہ خونی منظر دیکھ کر دہشت سے سہم گئے۔ ان کے پورے لشکر کو سانپ سونگھ گیا۔ انھوں نے ان تینوں کا سامان اتارا اور واپس لشکر میں پہنچ گئے۔ حضرت امین الامۃ ؓ نے فرمایا:

“اصول کے مطابق یہ سامان تمھارا اور قیس بن ہبیرہ کا ہی حق ہے۔ اس لیے اپنے استعمال میں لے آؤ۔”

اس کے بعد قیس بن ہبیرہ المردی ؓ کی مرہم پٹی کی گئی اور وہ واپس اس جگہ کھڑے ہوگئے جہاں حضرت خالد بن ولید ؓ نے ان کو مقرر کیا تھا۔

باہان نے اپنے لشکر کو مخاطب کرکے کہا:
“تم لوگوں میں ضرور بدعملی ہے جس کی وجہ سے وہ لوگ تمھیں شکست پر شکست دیتے جا رہے ہیں۔ ان کا ایک ایک سوار ہمارے تین تین کو کافی ہوجاتا ہے۔ تم لوگ اپنے اعمال درست نہیں کر رہے ہو۔ اب یہی ہے کہ تم سب مل کر ان پر حملہ کرو اور اپنی بڑی تعداد کی بدولت ان کو پیس کر رکھ دو۔ ورنہ یہ لوگ تم سے قابو نہیں ہوں گے۔”

حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ پھر میدان میں نکل آئے اور مقابلے کے لیے رومیوں کا بلانے لگے۔ جب کوئی نہ نکلا تو آپ گھوڑے کو دوڑاتے ہوئے میدان کا چکر لگانے لگے۔ اسی طرح چکر لگاتے لگاتے آپ نے رومی لشکر کے ایک بازو پر حملہ کیا اور صفوں میں ہلچل مچا دی۔ کچھ دیر بعد آپ اسی طرح مارتے کاٹتے باہر نکل کر آئے اور رومی لشکر کے درمیانی حصے کی طرف بڑھے۔ وہاں سے آپ کی طرف تیر آنے لگے تو آپ پیچھے ہٹ کر ایک فاصلے پر کھڑے ہوگئے۔ آپ اپنا نام لے لے کر رومیوں کو مقابلے کے لیے بلا رہے تھے کہ ایک اور سردار آپ کی طرف بڑھا اور حملہ آور ہوا۔ آپ نے اس کا دو تین وار میں ہی کام تمام کردیا۔ آپ کی بہترین لڑائی دیکھ کر حضرت خالد بن ولید ؓ نے بے ساختہ کہا:

“اے اللہ! عبدالرحمن پر اپنی رحمت کی نظر رکھیے۔ اس کی حفاظت فرمائیے۔ اس نے آج رومیوں میں آگ لگا دی ہے۔”

پھر آپ نے حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ کو آواز دے کر واپس بلایا۔ جب یہ واپس آئے تو باہان کو سخت غصہ آیا اور اس نے اپنی دس صفوں کو آگے بڑھ کر حملہ کرنے کا حکم دے دیا۔

دن اب ڈھل رہا تھا۔ سورج نیچے کی طرف لڑھکتا چلا جا رہا تھا۔ رومیوں کی دس صفیں مسلمانوں پر حملہ آور ہوئیں تو دونوں طرف سے گھمسان کی لڑائی شروع ہوگئی۔ تلواریں، بھالے، برچھے اور نیزے بلند ہو ہو کر گرنے لگے۔ چیخ و پکار سے علاقہ گونج اٹھا۔ مسلم خواتین بھی اپنے ہتھیار سنبھالے خیموں کے باہر کھڑی ہوگئیں کہ اگر خدا نخواستہ کوئی دستہ ان کی طرف آتا ہے تو اسے مار بھگایا جائے۔ یہ لڑائی برابر جاری تھی۔ حضرت امین الامۃ ؓ اور خالد بن ولید ؓ قرآن پڑھتے جاتے، نعرے لگاتے جاتے اور رومیوں کے سر اڑاتے جاتے۔ بہادر بڑھ بڑھ کر حملے کر رہے تھے۔ کافی دیر تک لڑائی ہوتی رہی۔ جب اندھیرا پھیل گیا تو دونوں لشکر پیچھے ہٹ گئے اور اپنے اپنے خیموں کا رخ کرلیا۔

راوی کہتے ہیں؛
“جب رات کی تاریکی نے دونوں لشکروں کو جدا کردیا تو سب اپنے خیموں کی طرف لوٹے۔ رات کو پہچاننا مشکل ہو رہا تھا اس لیے ہر قبیلہ اپنے لوگوں کے آباؤ اجداد کے نام یا جنگی شعار کے ذریعے بلا رہا تھا۔ جب یہ لوگ اپنے خیموں کی طرف پلٹے تو ان کی عورتوں نے ان کا استقبال کیا۔ ہر خاتون اپنے باپ، بھائی، بیٹے یا شوہر کے ہاتھ پاؤں اور چہرے کو کپڑوں سے صاف کر رہی تھی۔ جو زخمی تھے ان کے زخموں پر مرہم لگایا جا رہا تھا۔ جب ہر قبیلہ اپنی جگہوں پر پہنچ گیا تو انھوں نے نمازیں ادا کیں۔ خیموں کے سامنے آگ جلائی اور پہرہ مضبوط کیا۔ رات بالکل آرام سے گزاری۔”

اس لڑائی میں مسلمانوں کے دس اور رومی کم و بیش سو مارے گئے تھے۔ پہلے دن کی لڑائی میں فریقین کا کچھ زیادہ نقصان نہیں ہوا تھا۔ حضرت قیس بن ہبیرہ المردی کے بھتیجے جنگ میں شریک تھے، وہ ابھی تک واپس نہیں لوٹے تھے، آپ غم سے نڈھال تھے، اسی لیے آپ چند آدمیوں کے ساتھ بھتیجے کی تلاش میں نکلے، جب میدان میں نہیں ملے تو آپ نے سمجھ لیا کہ وہ شہـ ـید ہوچکا ہے۔ اسی تلاش کے دوران آپ نے دیکھا رومی لشکر کی جانب سے کچھ لوگ مشعلیں جلا کر ادھر آرہے ہیں۔ یہ لوگ اپنے سردار کی لاش تلاش کرنے آئے تھے۔ آپ نے ساتھیوں سے کہا:

“میں اپنے بھتیجے کا بدلہ ان سے لوں گا۔ سب لوگ یہاں لیٹ جائیں اور مشعل بجھا دیں۔”

انھوں نے جلدی سے مشعل بند کی اور لاشوں کے ڈھیر میں لیٹ گئے۔ رومی سو کے قریب تھے اور ہتھیاروں سے لیس تھے۔ ساتھیوں نے کہا:

“ہم صرف سات آدمی ہیں اور وہ بہت زیادہ۔”

آپ نے کہا:
“تم لوگ چلے جاؤ۔ میں اپنے بھتیجے کا بدلہ لے کر آؤں گا یا خود بھی مارا جاؤں گا۔”

یہ ساتھی ان کے ساتھ ہی رہے۔ جب رومی آئے تو انھوں نے کچھ لاشوں کو الٹا پلٹا کیا۔ پھر ایک بھاری بھرکم شخص کو لے کر جانے لگے تو انھوں نے نعرہ لگایا اور ان کو للکارا۔ وہ بدحواس ہوکر بھاگنے لگے تو انھوں نے ان کو تلواروں پر رکھ لیا۔ قیس بن ہبیرہ نے سولہ رومیوں کو جہنم رسید کیا۔ آپ کے ساتھیوں نے بھی بہت سے رومی مارے۔ جب باقی بھاگ گئے تو ان حضرات نے لاش کی دوبارہ تلاش شروع کی۔ احتیاط کے ساتھ تلاش کرتے کرتے یہ رومی لشکر کے قریب پہنچ گئے۔ وہاں ان کو ایک آدمی کے کراہنے کی آواز آئی تو یہ آواز پہچان گئے۔ چونکہ مشعل بند تھی، اس لیے کافی غور کرنے کے بعد پہچان ہوتی تھی۔ جب انھوں نے کراہنے والے کی آواز سنی تو یہ اس طرف دوڑے۔ وہاں دیکھا ان کے بھتیجے سوید شدید زخمی ہوئے پڑے ہیں۔ آپ نے اسے گود میں لیا تو اس نے کہا:

“چچا جان! جب رومی بھاگنے لگے تو میں ان کے تعاقب میں گیا۔ ایک رومی نے مجھے ایسا نیزہ مارا کہ وہ میرا جسم چیرتا ہوا نکل گیا۔ اب بس بچنے کی امید نہیں۔ خون کافی بہہ چکا اور زخم خراب ہوچکا۔ پیارے چچا جان! اب تو مجھے آخرت کے خوبصورت منظر کی جھلک بھی دکھائی دے رہی ہے۔ مجھے کوئی بلا رہا ہے۔ آپ کوشش کرکے مجھے اپنے لشکر میں لے چلیں۔”

ان کو پیٹھ پر لاد کر جلد از جلد لشکر میں پہنچایا گیا جہاں پر حضرت امین الامۃ ؓ سمیت دیگر حضرات بھی پہنچ گئے۔ اس وقت یہ آخری دموں پر تھے۔ جب تک ان کی مرہم پٹی کرنے کی کوشش کی گئی تو ان کی روح جنت کی طرف پرواز کرچکی تھی۔
إِنَّالِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رٰجِعونَ
مسلمانوں نے ان کی نماز جنازہ ادا کی اور وہیں ایک طرف دفن کردیا۔

پھر قیس بن ہبیرہ نے حضرت امین الامۃ اور حضرت خالد بن ولید ؓ کو رومیوں کے ساتھ لڑائی کا احوال بتایا۔ آپ نے قیس بن ہبیرہ کی خوب تعریف کی اور ان کا حوصلہ بڑھایا۔ اس کے بعد مسلمان اپنے خیموں میں لوٹ گئے۔ کوئی نماز کے لیے کھڑا ہوگیا تو کوئی تلاوت کرنے لگا۔ ان حضرات نے آرام بہت کم وقت کے لیے کیا۔

(جاری ہے)

ماخوذ از فتوح الشام للواقدی اُردو ترجمہ
تسہیل و تلخیص: محمد عثمان انصاری

Leave a Reply

NZ's Corner