فرشتہ

فرشتہ

روس کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں، برف سے ڈھکی ہوئی ایک سخت سرد دنیا کے بیچ، ایک نہایت غریب مگر محنتی جوتا ساز، سیمیون، اپنی بیوی مترونا اور ننھے بچوں کے ساتھ ایک بوسیدہ، تنگ و تاریک کرائے کے کمرے میں زندگی گزار رہا تھا۔ اس کے پاس نہ کھیت تھے، نہ مویشی، نہ کوئی جمع پونجی۔ اس کی کل دولت اس کے محنت کش ہاتھ، چند اوزار اور اپنے پیشے سے وابستہ عزت تھی۔ دن بھر جوتے سی کر جو چند سکے ملتے، انہی سے چولہا جلتا، اور کئی راتیں ایسی بھی آتیں جب بچوں کو آدھی روٹی پر ہی سونا پڑتا۔

سردیوں کی ایک بےحد یخ بستہ شام، جب برفانی ہوا ہڈیوں تک اتر رہی تھی، سیمیون کے پاس اتنی ہی رقم تھی کہ یا تو وہ اپنے پرانے، جگہ جگہ سے پھٹے کوٹ کے لیے نیا چمڑا خرید لیتا، یا پھر گھر کے لیے چند دن کا آٹا لے آتا۔ اس نے دل پر پتھر رکھ کر سوچا کہ اگر آج چمڑا خرید لیا جائے تو کل محنت کر کے مزید کمایا جا سکتا ہے، مگر اگر ہنر ہی رک گیا تو فاقے بڑھ جائیں گے۔ اسی امید کے ساتھ وہ اس کسان کے گھر روانہ ہوا جس کے ذمے اس کی کچھ مزدوری باقی تھی۔

لیکن قسمت جیسے اس دن اس کی آزمائش پر تلی بیٹھی تھی۔

کسان نے طرح طرح کے بہانے بنا کر اسے ایک بھی سکہ دینے سے انکار کر دیا۔ سیمیون مایوسی، تھکن اور سردی کے بوجھ تلے دبا، خالی ہاتھ واپس چل پڑا۔ شام ڈھل چکی تھی، برف کے سفید ذرے خاموشی سے زمین پر اتر رہے تھے اور یخ ہوا اس کے چہرے کو چیرتی ہوئی گزر رہی تھی۔ وہ دل ہی دل میں اپنی غربت، اپنی بےبسی اور اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں سوچتا جا رہا تھا۔

راستے میں ایک پرانے چرچ کے قریب اس کی نظر اچانک ایک عجیب منظر پر پڑی۔

چرچ کی دیوار کے سائے میں ایک نوجوان، تقریباً برہنہ حالت میں، برف پر بیٹھا تھا۔ اس کے جسم پر کپڑوں کا نام و نشان نہ تھا، چہرہ زرد، ہونٹ نیلے اور آنکھیں خاموش تھیں۔ وہ نہ مانگ رہا تھا، نہ فریاد کر رہا تھا، بس خاموشی سے موت کا انتظار کرتا محسوس ہوتا تھا۔

سیمیون کے دل میں پہلے خوف پیدا ہوا۔

“کون جانے یہ کوئی ڈاکو ہو… یا کوئی پاگل… یا شاید کوئی بدروح!”

وہ تیزی سے آگے بڑھ گیا، مگر چند ہی قدم چلنے کے بعد اس کے ضمیر نے جیسے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔

“اگر یہی حالت میری ہوتی… تو کیا میں بھی کسی اجنبی کی رحمت کا محتاج نہ ہوتا؟”

یہ خیال آتے ہی وہ واپس پلٹا۔ اس نے اپنے جسم سے آدھا پھٹا ہوا کوٹ اتارا، اس اجنبی کے کندھوں پر ڈال دیا، اسے سہارا دے کر کھڑا کیا اور آہستہ آہستہ اپنے ساتھ گھر لے آیا۔

گھر پہنچتے ہی اس کی بیوی مترونا کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔

“ہمارے اپنے بچے بھوکے ہیں، گھر میں آٹے کا ایک مٹھی بھی نہیں، اور تم ایک اجنبی کو لے آئے ہو؟ کیا اب ہم خود بھوکے مریں گے اور دوسروں کو کھلائیں گے؟”

مگر جب اس نے اس خاموش، بےبس نوجوان کے چہرے پر نظر ڈالی، تو اس کے دل کی سختی لمحہ بھر میں پگھل گئی۔ اس نے بغیر کچھ کہے اپنی آخری روٹی کے ٹکڑے نکالے، گرم سوپ کا بچا ہوا پیالہ اس کے سامنے رکھا اور اسے اپنے گھر کے فرد کی طرح کھانا کھلایا۔

اسی لمحے پہلی بار اس اجنبی کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔

اس کا نام میخائیل تھا۔

اگلے دنوں میں میخائیل نے سیمیون کے ساتھ جوتے بنانے کا کام سیکھنا شروع کیا۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ وہ نہایت خاموش طبع، انتہائی محنتی اور غیر معمولی مہارت رکھنے والا شخص تھا۔ چند ہی مہینوں میں وہ ایسے نفیس جوتے تیار کرنے لگا کہ دور دور سے لوگ انہی کے پاس آنے لگے۔

لیکن ایک عجیب بات سب کو حیران کرتی تھی۔

میخائیل کبھی ہنستا نہیں تھا۔

پورے ایک سال میں کسی نے اس کے چہرے پر مسکراہٹ تک نہ دیکھی، سوائے تین ایسے مواقع کے، جن کا راز کوئی نہ جان سکا۔

پہلی بار وہ اس دن مسکرایا جب مترونا نے اپنی غربت، بھوک اور پریشانی کے باوجود ایک اجنبی پر رحم کیا اور اسے اپنے بچوں کی طرح کھانا کھلایا۔

دوسری بار ایک نہایت امیر رئیس ان کے پاس آیا۔ اس نے حکم دیا کہ اس کے لیے ایسے مضبوط جوتے بنائے جائیں جو کم از کم ایک سال تک نہ پھٹیں۔ وہ اپنے مال و دولت اور طاقت پر بہت مغرور تھا۔ مگر جب وہ چلا گیا تو میخائیل نے جوتوں کے بجائے ایسے نرم چمڑے کے موزے تیار کیے جو مرنے والے انسان کے کفن کے ساتھ پہنائے جاتے تھے۔

سیمیون حیران رہ گیا۔

“تم نے یہ کیا بنا دیا؟ اگر وہ رئیس واپس آیا تو ہم سب برباد ہو جائیں گے!”

لیکن شام ہونے سے پہلے ہی خبر آئی کہ وہ رئیس گھر پہنچنے سے پہلے ہی اچانک مر گیا، اور اس کے اہلِ خانہ نے انہی نرم جوتوں کا مطالبہ کیا جو مردے کو پہنائے جاتے تھے۔

اس لمحے میخائیل دوسری بار مسکرایا۔

کئی ماہ بعد ایک عورت دو ننھی جڑواں بچیوں کو ساتھ لے کر آئی تاکہ ان کے لیے جوتے بنوائے جا سکیں۔ باتوں باتوں میں معلوم ہوا کہ وہ دونوں بچیاں اس کی اپنی اولاد نہیں تھیں۔ ان کی حقیقی ماں پیدائش کے فوراً بعد دنیا سے چلی گئی تھی، مگر اس عورت نے محض اللہ کی رضا اور انسانی ہمدردی کے جذبے سے دونوں یتیم بچیوں کو اپنی اولاد بنا کر پال لیا تھا۔

یہ سنتے ہی میخائیل کے چہرے پر تیسری بار ایک ایسی نورانی مسکراہٹ پھیل گئی جسے دیکھ کر سیمیون اور مترونا حیران رہ گئے۔

اس رات میخائیل نے خاموشی توڑی۔

اس نے کہا:

“اب وہ وقت آ گیا ہے کہ میں تمہیں اپنی حقیقت بتا دوں۔”

اس کی آواز میں ایک عجیب نور تھا۔

“میں تم جیسا انسان نہیں… اللہ کا ایک فرشتہ ہوں۔ مجھے ایک عورت کی روح قبض کرنے کا حکم ملا تھا، مگر جب میں نے دیکھا کہ اس کے نومولود بچے یتیم ہو جائیں گے تو میں نے اللہ کی بارگاہ میں اس کے لیے مہلت کی التجا کی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے مجھے زمین پر بھیج دیا اور فرمایا کہ جب تک تم تین حقیقتیں نہ جان لو، واپس آسمان نہیں آ سکتے۔”

سیمیون اور مترونا خاموشی سے سنتے رہے۔

میخائیل نے کہا:

“پہلا سوال تھا: انسان کے اندر کیا ہے؟ اس کا جواب مجھے اس دن ملا جب تم دونوں نے اپنی غربت کے باوجود ایک اجنبی پر رحم کیا۔ میں نے جان لیا کہ انسان کے اندر سب سے بڑی چیز محبت ہے۔

دوسرا سوال تھا: انسان کو کیا چیز نہیں دی گئی؟ اس کا جواب مجھے اس مغرور رئیس سے ملا جو ایک سال کے جوتے بنوانے آیا تھا، مگر اسے یہ بھی معلوم نہ تھا کہ وہ شام تک زندہ نہیں رہے گا۔ تب میں نے جانا کہ انسان کو اپنی آنے والی ضرورتوں کا علم نہیں دیا گیا۔

اور تیسرا سوال تھا: انسان کس چیز سے زندہ رہتا ہے؟ اس کا جواب مجھے اس عورت سے ملا جس نے بغیر کسی رشتے کے دو یتیم بچیوں کو محبت سے پال لیا۔ تب میں نے جانا کہ انسان صرف اپنی محنت، اپنی طاقت یا اپنے منصوبوں سے زندہ نہیں رہتا، بلکہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے محبت ڈال دیتا ہے، اور یہی محبت پوری انسانیت کو زندہ رکھتی ہے۔”

یہ کہتے ہی کمرہ ایک عجیب نور سے بھر گیا۔

میخائیل کے چہرے پر آسمانی روشنی پھیل گئی، اس کی پشت سے نورانی پر نمودار ہوئے، اور وہ اللہ کی حمد بیان کرتا ہوا آسمان کی طرف بلند ہونے لگا۔

سیمیون اور مترونا دیر تک سجدے میں گرے روتے رہے۔ اس دن انہوں نے جان لیا کہ دنیا کی اصل دولت سونا، چاندی یا دولت نہیں، بلکہ وہ محبت ہے جو اللہ اپنے بندوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے پیدا کر دیتا ہے۔

اخلاقی سبق:
انسان نہ صرف اپنی تدبیر سے زندہ رہتا ہے، نہ صرف اپنی محنت سے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ محبت، رحمت اور ایک دوسرے کے لیے ایثار ہی وہ حقیقی قوت ہے جو انسانیت کو زندہ رکھتی ہے۔ محبت ہی انسان کے دل کی اصل دولت اور زندگی کا سب سے بڑا راز ہے۔

حوالہ/مصنف:
لیو ٹالسٹائی

Leave a Reply

NZ's Corner