روزگار کی تلاش اور پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے شہر کے ایک شور شرابے والے چوراہے پر ایک غریب اور بدحال بھکارن بیٹھا کرتی تھی۔ اگرچہ اس کے تن پر میلے کچیلے اور بوسیدہ کپڑے تھے، اور اس کا چہرہ دھوپ اور گرد و غبار سے جھلس چکا تھا، لیکن قدرت نے اسے ایسی بلا کی خوبصورتی اور حسنِ دلکش عطا کیا تھا کہ دیکھنے والے دنگ رہ جاتے۔ وہ در بدر مارکیٹ اور گلی کوچوں میں ہاتھ پھیلاتی اور اپنا پیٹ بھرتی تھی۔
ایک روز اتفاقاً کسی ملک کا جاہ و جلال والا بادشاہ اپنی شاہی سواری اور لاؤ لشکر کے ساتھ اسی راستے سے گزرا۔ شاہی قافلے کی آمد پر لوگ راستے کے دونوں جانب ہجوم لگائے کھڑے تھے۔ بادشاہ کی نظر اچانک اس نادار اور خستہ حال بھکارن پر پڑی۔ اگرچہ اس کے کپڑے میلے تھے، مگر اس کا قدرتی حسن اور طبعی نفاست اتنی نمایاں تھی کہ بادشاہ کی تیز نگاہوں سے چھپ نہ سکی۔ پہلی ہی نظر میں اس کا دل اس حسین بھکارن پر آ گیا۔
بادشاہ نے فوراً اپنے خاص مصاحبوں اور ملازمین کو اشارہ کیا اور حکم دیا کہ اس عورت کو عزت کے ساتھ شاہی سواری میں سوار کر کے محل کے اندر لایا جائے۔ ساتھ ہی شاہی حکیموں اور مشاطاؤں کو ہدایت کی گئی کہ اسے اچھے طریقے سے غسل دیا جائے، عطر و غالیہ سے معطر کیا جائے، اور قیمتی شاہی لباس اور زیورات سے آراستہ کر کے دربار میں پیش کیا جائے۔
حکم کی تعمیل میں ذرا بھی تاخیر نہ ہوئی۔ جب وہ بھکارن عمدہ ترین ریشمی ملبوسات، جڑے ہوئے زیورات اور شاہی آرائش کے ساتھ بادشاہ کے سامنے لائی گئی تو اس کا حسن اور بھی نکھر کر سامنے آیا، جسے دیکھ کر بادشاہ دنگ رہ گیا۔ بادشاہ کی محبت اور چاہت اتنی بڑھ گئی کہ اس نے فوراً اسے اپنی ملکہ بنا لیا۔ اب وہ غریب بھکارن محل کے اندر پرتعیش محلات، کنیزوں، نوکروں اور عیش و آرام کی تمام آسائشوں کے ساتھ ملکہ بن کر رہنے لگی۔
کچھ عرصہ تک تو وہ محل کی پرتعیش فضا میں رچی بسی رہی، لیکن پرانی عادتیں اور جبلت انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتی ہیں۔ محل کے اندر رہتے ہوئے بھی اس کا اندرونی اضطراب ختم نہیں ہوا تھا۔
ایک دن جب ملکہ اپنے شاہی کمرے میں اکیلی دوپہر کے کھانے سے لطف اندوز ہو رہی تھی، تو بادشاہ کے دل میں خیال آیا کہ دیکھا جائے محل کی ملکہ بننے کے بعد اس کا معمول کیسا ہے اور وہ کس طرح کھانا کھاتی ہے۔ بادشاہ چپکے سے محل کے پردے کے پیچھے آیا اور ایک باریک جھروکے سے اندر کا نظارہ کرنے لگا۔
یہ دیکھ کر بادشاہ کے پاؤں تلے زمین نکل گئی کہ وہ ملکہ جو اب تخت و تاج کی مالک تھی، کھانے کے دوران باری باری محل کے ہر ایک طاق (دیوار کے طاقچے) کے سامنے جا رہی ہے۔ وہ ہر طاق کے پاس کھڑے ہو کر باقاعدہ آواز لگاتی تھی: “خدا کی راہ میں ایک ٹکڑا دو!” اور پھر اپنے ہی شاہی دسترخوان کے کھانے میں سے ایک لقمہ اٹھا کر منہ میں ڈال لیتی تھی۔ اس کے بعد وہ دوسرے طاق کے پاس جاتی اور وہاں بھی یہی دہراتی کہ “اللہ کے نام پر ایک نوالہ دو!” اور اس میں سے بھی ایک لقمہ کھا لیتی تھی۔
وہ اسی طرح محل کے کونے کونے میں بنے ہوئے تمام طاقوں کے پاس جاتی، بھیک مانگنے کے انداز میں پکارتی، اور ایک ایک لقمہ کھاتی رہی۔ جب اس کا پیٹ بھر جاتا اور کھانے کی خواہش ختم ہو جاتی تو وہ کنیزوں کو آواز دیتی کہ بچا ہوا کھانا اٹھا کر لے جائیں، اور خود اطمینان سے ہاتھ منہ دھو کر باہر آ جاتی۔
بادشاہ نے جب یہ سارا تماشا اپنی آنکھوں سے دیکھا تو اسے سخت حیرت بھی ہوئی اور شدید صدمہ بھی۔ وہ دل ہی دل میں سمجھ گیا کہ اس عورت کو محل میں لائے ہوئے عرصہ گزر گیا اور اسے ملکہ بنے ہوئے بھی کافی دن ہو گئے ہیں، لیکن اس کی پرانی عادت اور بھیک مانگنے کی جبلت جوں کی توں باقی ہے؛ کیونکہ جو عادت خون میں رچ بس جائے وہ اتنی آسانی سے نہیں جاتی۔
بادشاہ کا غصہ قابو سے باہر ہو گیا، اسے اس کی اس کمینگی اور فطرتی عادت پر سخت ندامت ہوئی۔ اس نے اسی وقت حکم دیا کہ اس عورت کو فوراً محل سے باہر نکال دیا جائے اور اسے اس کی پرانی بدحالی میں واپس پھینک دیا جائے۔ اس کے بعد بادشاہ نے زندگی بھر کبھی اس کا نام تک زبان پر نہ لایا۔


