ففتھ جنریشن مچھر۔۔۔!

ففتھ جنریشن مچھر۔۔۔!

ایک زمانہ تھا کہ مچھر گراؤنڈ فلور تک محدود رہتے تھے، لیکن جوں جوں انسان ترقی کرکے بلندیوں پر جاتا گیا،مچھروں نے بھی اپنی دور تک مار کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرلیا۔۔
آج کا مچھر ، مچھر دانیوں ، کوائل اور لیکوئیڈ جیسے مچھر شکن ہتھیاروں سے ماورا ہوچکا ہے ،یہ آپ کو کپڑوں میں بھی کاٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے گویا ڈیفنس شیلڈ کو بھی مات دے دیتا ہے۔۔اور یہ اب تعاقب کرکے بھی کاٹ سکتا ہے۔یعنی گائڈڈ ہتھیار کی طرح ہدف کا تعاقب کرکے نشانہ بناتا ہے ۔۔
کچھ عرصہ پہلے کسی نے بتایا کہ آپریشن تھیٹر فرسٹ فلور پر رکھے جانے کا ایک مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ کیڑے مکوڑوں خاص طور پر مچھروں کی پرواز محدود رہے۔۔لیکن پچھلے دنوں نویں فلور پر رہنے والے ایک بندے کو مچھروں سے بچاؤ کے خصوصی انتظامات کرتے دیکھ کر اندازہ ہوا کہ اب پروازِ ‘انسیکٹاں’ کہیں آگے جاچکی ہے ۔
یہ ففتھ جنریشن مچھر انتہائی بلندی پر پرواز کر کے بندے کے ریڈار کو دھوکہ دیتے ہیں اور دشمن کو چونکا کر کاٹتےہیں۔۔اور جتنی دیر میں انسان اپنی جوابی کارروائی کا سوچتا ہے وہ مشن کامیابی سے انجام دے کر اپنے محفوظ ٹھکانوں پر لوٹ چکے ہوتے ہیں۔۔۔
بہت سے پرانے ماڈل کے مچھر اپنی بھنبھناہٹ کی بنا پر ٹریس ہو جاتے ہیں۔۔لیکن چونکہ وقت اور ضرورت ارتقاء کے عمل کو بھی تیز کر دیتے ہیں،لہذا آج ایسے مچھر بھی وجود میں آچکے ہیں جو بغیر بھنبھنائے، اسٹیلتھ مشن سر انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اور دشمن کو چبھن کا احساس تب ہی ہوتا ہے جب وہ اسے کاٹ کر بہت دور جا چکے ہوتے ہیں۔۔
مچھروں کو عموماً فضائی حرب کا ماہر سمجھا جاتا ہے ۔ لیکن یہ بات بھی بہت سے لوگوں کیلئے دلچسپی سے خالی نہیں ہوگی کہ مچھر اصل میں بحریہ سے تعلق رکھتا ہے، جس کا جنم ہی پانی میں ہوتا ہے۔ یہ کیڑا بچپن سے ہی ایک بہترین تیراک ہوتا ہے۔اور سانس روک کر کئی گھنٹوں تک زیر آب رہ سکتا ہے۔۔یہ اس کے لاروا پن کا زمانہ ہوتا ہے، جب وہ پانی میں مسلسل الٹ پلٹ ہوتے دیکھا جاتا ہے۔ تاہم پر نکل آنے پر وہ فضاؤں کا مسافر بن جاتا ہے۔۔
مچھروں کو زمین پر بہت کم دیکھا جاتا ہے۔۔تاہم کبھی کبھی انہیں کمر پر ہاتھ رکھ کر پیدل جاتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔۔ایسا تب ہوتا ہے جب کوئی مچھر دوران مشن کسی کے دفاعی نظام کا نشانہ بن گیا ہو۔
جوں جوں وقت گزر رہا ہے مچھر اپنے آپ کو نئے جدید ڈنکوں اور ہائی ٹیک نظام سے لیس کرتے جارہے ہیں ۔ بہت سے مچھر اب روایتی ملیریا کے بجائے ڈینگی ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔۔جو کہیں زیادہ مہلک اور دشمن کےچودہ طبق روشن کر دیتا ہے۔۔۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جس طرح وقت کے ساتھ مچھروں کے ہتھیار اور ان کی بلند پرواز کی صلاحیت انسان کے لیے بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ اسی طرح سے انسان کا دفاعی نظام بھی دشمن سے مقابلے کے لیے جدید سے جدید خطوط پر استوار ہوتا جا رہا ہے۔۔اور جلد ہی انسانوں اور مچھروں کے درمیان ایک فیصلہ کن معرکہ ہوتا،قریب نظر آرہا ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner