قبول قربانی

قبول قربانی

“تم لوگ ہر سال لینے آ جاتے ہو… کبھی خود بھی قربانی کر لیا کرو۔”

محلے میں ہر سال اُس کے گھر سب سے بڑا جانور آتا تھا۔

لمبے سینگ…
قیمتی نسل…
گلے میں خوبصورت رنگین پٹہ…
اور دروازے کے باہر تصویریں بنانے والوں کا ہجوم۔

عید سے کئی دن پہلے ہی لوگ کہنا شروع کر دیتے:

“اس بار بھی اُن کی قربانی سب سے نمایاں ہوگی…”

اور شاید یہی بات اُسے سب سے زیادہ پسند تھی۔

وہ جانور سے زیادہ اُس تعریف کا انتظار کرتا تھا
جو قربانی کے بعد لوگوں کی زبانوں پر آتی تھی۔

عید کی صبح اُس کے گھر گوشت لینے والوں کی لمبی قطار لگ گئی۔

کوئی سفید شاپر لیے کھڑا تھا…
کوئی پرانا برتن…
اور کوئی اپنے بچوں کو ساتھ لایا تھا کہ شاید کچھ زیادہ گوشت مل جائے۔

اُسی بھیڑ میں ایک دبلا پتلا سا لڑکا بھی خاموش کھڑا تھا۔

عمر کوئی بارہ تیرہ سال…
پاؤں میں گھسے ہوئے چپل…
اور ہاتھ میں چھوٹا سا اسٹیل کا برتن۔

وہ کافی دیر تک کچھ نہ بول سکا۔
پھر دھیمی آواز میں کہنے لگا:

“انکل… اگر تھوڑا سا گوشت بچ جائے تو دے دیجیے گا… امّی نے بھیجا ہے…”

اُس وقت وہ اپنے دوستوں کے ساتھ کھڑا ہنس رہا تھا۔
لوگ موبائل سے ویڈیوز بنا رہے تھے۔

اُس نے لڑکے کی طرف دیکھا اور بےدلی سے مسکرا کر کہا:

“تم لوگ ہر سال لینے آ جاتے ہو…
کبھی خود بھی قربانی کر لیا کرو…”

چند لوگ زور سے ہنس پڑے۔

لڑکے نے کچھ نہیں کہا۔

بس اپنے برتن کو دونوں ہاتھوں سے مضبوطی سے پکڑا…
اور خاموشی سے واپس مُڑ گیا۔

بعض اوقات انسان کے قدم واپس نہیں جاتے…
اُس کی عزت واپس جا رہی ہوتی ہے۔

رات کو جب شور ختم ہو گیا…
مہمان رخصت ہو گئے…
فریزر بھر گئے…
اور سوشل میڈیا پر قربانی کی تصویریں اپلوڈ ہو چکیں…

تو اُس کی بیوی نے آہستہ سے پوچھا:

“آج ایک بچہ آیا تھا نا… اسٹیل کا چھوٹا برتن لے کر؟”

“ہاں… کیوں؟”

بیوی چند لمحے خاموش رہی… پھر بولی:

“میں اُسے جانتی ہوں۔
اُس کے والد پچھلے رمضان میں انتقال کر گئے تھے۔
اُس کی ماں لوگوں کے گھروں میں صفائی کرتی ہے…”

وہ خاموش ہو گیا۔

پھر بیوی نے دھیمی آواز میں کہا:

“گوشت نہ دیتے…
کم از کم اُس بچے کی غربت کو مجمع میں ذبح تو نہ کرتے…”

یہ جملہ سیدھا اُس کے دل میں اُتر گیا۔

اُس رات پہلی بار اُسے قربانی کے جانوروں کی آوازیں نہیں…
اُس لڑکے کی خاموشی سنائی دیتی رہی۔

فجر کے بعد وہ خود گوشت کا ایک بڑا تھیلا لے کر اُس بستی میں پہنچا جہاں وہ لڑکا رہتا تھا۔

چھوٹا سا کمرہ…
ٹپکتی ہوئی چھت…
اور دروازے کے پاس وہی اسٹیل کا برتن رکھا تھا۔

دروازہ اُس لڑکے نے کھولا۔

اُسے دیکھ کر چونک گیا۔

وہ چند لمحے خاموش کھڑا رہا…
پھر گوشت کا تھیلا اُس کی طرف بڑھاتے ہوئے آہستہ سے بولا:

“بیٹا…
کل شاید میری قربانی قبول نہیں ہوئی تھی…”

Leave a Reply

NZ's Corner