لالچ کا انجام

لالچ کا انجام

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کئی دنوں سے مسلسل جنگل میں بارش ہو رہی تھی۔ آسمان پر کالے بادل چھائے ہوئے تھے اور جنگل کی زمین جگہ جگہ پانی سے بھر چکی تھی۔
ایک مکوڑا بارش سے بچنے کے لیے اِدھر اُدھر پناہ ڈھونڈ رہا تھا۔ اچانک اسے زمین میں ایک سرنگ نظر آئی۔ وہ جلدی سے اس میں گھس گیا۔
کچھ دور جانے کے بعد اسے معلوم ہوا کہ یہ تو چیونٹیوں کی بستی ہے۔
چیونٹیاں پہلے تو چونکیں، مگر جب مکوڑے نے ادب سے کہا: “معاف کیجیے گا، میں آپ کی اجازت کے بغیر اندر آ گیا ہوں۔ باہر بارش بہت شدید ہے، اس لیے پناہ لینے پر مجبور ہو گیا۔” تو چیونٹیوں نے اسے مہمان سمجھ کر خوش آمدید کہا۔ اتفاق سے کھانے کا وقت تھا۔ انہوں نے اسے اپنے ساتھ بٹھایا، بہترین خوراک پیش کی اور اپنی بستی بھی دکھائی۔

مکوڑا حیران رہ گیا۔
جہاں تک اس کی نظر جاتی تھی، اناج کے دانے، خشک پھل، بیج اور مختلف غذائیں جمع تھیں۔ چیونٹیاں سال بھر محنت کرکے ہر موسم کے لیے خوراک ذخیرہ کرتی تھیں۔

بارش رکی تو مکوڑا واپس اپنی بستی چلا گیا۔ مگر وہاں جا کر اس نے شکرگزاری کے بجائے لالچ کا مظاہرہ کیا۔
اس نے اپنی برادری کو چیونٹیوں کی دولت کے قصے سنائے اور کہا:
“اگر ہم یہ سارا خزانہ حاصل کر لیں تو عمر بھر محنت کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔”
چند لالچی مکوڑے فوراً اس کی باتوں میں آ گئے۔

ایک منصوبہ بنایا گیا۔
چیونٹیوں کو شکریے کے نام پر دعوت دی جائے اور جب وہ اپنی بستی سے نکل جائیں تو ان کا سارا ذخیرہ لوٹ لیا جائے۔ اگلے دن چیونٹیوں کو دعوت دی گئی۔ سادہ دل چیونٹیاں خوشی خوشی مقررہ وقت پر مکوڑوں کی بستی پہنچ گئیں۔
ادھر مکوڑوں کا ایک گروہ چیونٹیوں کے گھر جا پہنچا اور اناج، بیج اور خوراک کے ڈھیر اٹھا کر اپنے ٹھکانوں میں منتقل کرنے لگا۔ جب چیونٹیاں واپس آئیں تو ان کا بیشتر ذخیرہ غائب تھا۔
وہ بہت افسردہ ہوئیں، مگر انہوں نے صبر کیا اور دوبارہ محنت شروع کر دی۔
دوسری طرف مکوڑے اپنی کامیابی پر جشن منا رہے تھے۔
انہوں نے چیونٹیوں کے ذخیرے پر خوب ہاتھ صاف کیا۔

مگر انہیں ایک بات معلوم نہ تھی۔ چیونٹیاں اپنے ذخیرے کو محفوظ رکھنے کے لیے بعض دانوں پر ایک خاص قسم کی جنگلی جڑی بوٹی کا رس لگاتی تھیں۔ وہ رس چیونٹیوں کے لیے نقصان دہ نہیں تھا، لیکن دوسرے تمام قسم کے جانداروں کے نظامِ ہاضمہ کے لیے زہر کا کام کرتا تھا۔
چند ہی دنوں بعد مکوڑے بیمار ہونے لگے۔ کسی کا پیٹ خراب ہو گیا، کسی کی قوت ختم ہو گئی، اور کچھ اتنے کمزور ہو گئے کہ چلنا پھرنا بھی دشوار ہو گیا۔ جو خوراک انہیں مفت کی نعمت لگ رہی تھی، وہی ان کی مصیبت بن گئی۔
کچھ ہی عرصے میں ان کی بستی تباہی کا شکار ہو گئی۔
ادھر چیونٹیاں اگرچہ وقتی نقصان اٹھا چکی تھیں، مگر اپنی محنت، صبر اور نظم و ضبط کی وجہ سے دوبارہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گئیں۔

اخلاقی سبق:

لالچ انسان کو وقتی فائدہ تو دے سکتی ہے، مگر انجام اکثر نقصان دہ ہوتا ہے۔ دوسروں کی محنت پر قبضہ کرنے والا آخرکار اپنی ہی چال کا شکار بن جاتا ہے، جبکہ محنت، دیانت داری اور صبر دیرپا کامیابی کی بنیاد ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

NZ's Corner