جنگل کی خاموشی اپنے عروج پر تھی۔
ہوا درختوں کے پتوں سے سرگوشیاں کر رہی تھی، کہیں دور کسی پرندے کی آواز شام کے دامن میں گم ہو رہی تھی، اور ایک قدیم برگد کے نیچے ملا نصرالدین آنکھیں موندے مراقبے میں بیٹھے تھے۔
ان کے چہرے پر ایسی طمانیت تھی جیسے کسی بےقرار دریا نے آخرکار سمندر کا راستہ پا لیا ہو۔
اسی اثنا میں ایک سایہ درختوں کے درمیان سے ابھرا۔
وہ شیطان تھا۔
اس کی آنکھوں میں تجسس بھی تھا اور شرارت بھی۔ وہ آہستہ آہستہ ملا کے قریب آیا اور طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ بولا:
“ملا نصرالدین! تم یہاں تنہائی میں بیٹھے کیا کر رہے ہو؟”
ملا نے آنکھیں کھولے بغیر جواب دیا:
“مراقبہ۔”
شیطان ہنس پڑا۔
“اچھا! تو پھر بتاؤ، خدا سے کیا مانگتے ہو؟ دولت؟ عزت؟ جنت؟”
ملا نے سکون سے کہا:
“میں کچھ نہیں مانگتا۔”
شیطان کی بھنویں حیرت سے بلند ہو گئیں۔
“کچھ نہیں مانگتے؟”
“نہیں۔”
“کیوں؟”
ملا نے آہستگی سے کہا:
“اس لیے کہ وہ مجھ سے بہتر جانتا ہے کہ مجھے کیا چاہیے۔”
شیطان نے قہقہہ لگایا۔
“اگر وہ جانتا ہے تو پھر تم یہاں بیٹھے وقت کیوں ضائع کرتے ہو؟”
اب ملا نے آنکھیں کھولیں۔
ان کی نگاہ میں ایسی گہرائی تھی جیسے کسی پرانے کنویں میں آسمان جھانک رہا ہو۔
وہ بولے:
“میں اس لیے مراقبہ کرتا ہوں کہ وہ مجھے بتائے کہ مجھے کیا چاہیے۔”
شیطان ایک لمحے کو خاموش ہوا، پھر بولا:
“یہ کیسی بات ہوئی؟ انسان اپنی خواہشیں بھی نہیں جانتا؟”
ملا مسکرائے۔
“اکثر انسان وہ مانگتا ہے جو اسے اچھا لگتا ہے، نہ کہ وہ جو اس کے لیے اچھا ہوتا ہے۔ میں اپنی خواہشوں کے شور سے نکل کر اس کی حکمت کی آواز سننے آیا ہوں۔”
شیطان نے تمسخر سے سر ہلایا۔
“تم پاگل ہو، ملا! جو شخص نہیں جانتا کہ اسے کیا چاہیے، وہ مراقبہ کیوں کرے؟”
ملا کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔
وہ بولے:
“اور تم؟”
“میں؟”
“تم تو دعویٰ کرتے ہو کہ بہت کچھ جانتے ہو۔ پھر تم سوال کیوں پوچھ رہے ہو؟”
یہ سننا تھا کہ جنگل کی ہوا یکایک ساکت ہو گئی۔
شیطان کے چہرے پر لمحہ بھر کے لیے خاموشی اتر آئی۔ جیسے کسی نے اس کے غرور کے آئینے پر سچائی کی ایک لکیر کھینچ دی ہو۔
اس نے کوئی جواب نہ دیا۔
اگلے ہی لمحے وہ دھند کی مانند فضا میں تحلیل ہو گیا۔
ملا نے دوبارہ آنکھیں بند کر لیں۔
جنگل پھر خاموش ہو گیا، مگر اس خاموشی میں ایک گہرا راز چھپا تھا:
مراقبہ مانگنے کا نام نہیں، سننے کا ہنر ہے۔
جو شخص ہر وقت اپنی آواز سنتا رہے، وہ حقیقت کی سرگوشی کبھی نہیں سن پاتا۔
اور جو سننا نہیں جانتا، وہ چاہے ساری دنیا کی کتابیں پڑھ لے، سمجھ کی دہلیز تک نہیں پہنچ سکتا۔
#منقول
