ایک بار ملا نصیر الدین کی ملاقات دوسرے شہر سے آئے ایک امیر آدمی سے ہوئی۔
امیر آدمی نے افسردگی سے کہا:
“ملا صاحب! میرے پاس دولت کی کوئی کمی نہیں، لیکن پھر بھی میں ہر وقت اداس رہتا ہوں۔ خوشی کی تلاش میں دور دور تک سفر کیا، مگر خوشی کہیں نہیں ملی۔”
ملا نصیر الدین نے کچھ جواب نہ دیا۔ اچانک اس نے امیر آدمی کے ہاتھ سے پیسوں کا تھیلا چھینا اور دوڑ لگا دی!
امیر آدمی بھی چیختا ہوا اس کے پیچھے بھاگا:
“میرا تھیلا! پکڑو اسے!”
کافی دور دوڑنے کے بعد ملا نصیر الدین ایک درخت کے پیچھے چھپ گیا اور تھیلا راستے میں ایسی جگہ رکھ دیا جہاں وہ آسانی سے نظر آ سکے۔
کچھ دیر بعد امیر آدمی وہاں پہنچا۔ تھیلا دیکھتے ہی اس نے فوراً اسے اٹھایا، سینے سے لگایا اور خوشی سے اچھلنے لگا۔
ملا نصیر الدین درخت کے پیچھے سے مسکراتے ہوئے بولا:
“لو بھئی! خوشی کا راستہ تو تمہیں پہلے ہی معلوم تھا، بس کبھی کبھی اپنی نعمت کی قدر کرنے کے لیے اسے تھوڑی دیر کھونا پڑتا ہے!” 😄
سبق:
ہم اکثر خوشی کی تلاش دور دور تک کرتے ہیں، جبکہ ہماری بہت سی نعمتیں ہمارے پاس پہلے ہی موجود ہوتی ہے۔


