پرانے زمانے کی بات ہے، جب مسافروں کے قافلے کئی کئی ہفتوں کا سفر طے کرکے ایک شہر سے دوسرے شہر پہنچتے تھے، جب شاہراہوں پر گھوڑوں کی ٹاپیں سنائی دیتی تھیں، بیل گاڑیوں کے پہیے گرد اڑاتے تھے اور دور دراز علاقوں سے آنے والے تاجر اپنی تجارت کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کی خبریں بھی اپنے ہمراہ لاتے تھے۔ انہی دنوں ایک قدیم شاہراہ پر ایک مشہور سرائے ہوا کرتی تھی۔ اس کی بلند دیواروں کے اندر مسافروں کے لیے کمرے، گھوڑوں کے لیے اصطبل، ایک کشادہ صحن اور درمیان میں پتھر کا بنا ہوا حوض تھا۔ شام ڈھلتے ہی سرائے میں زندگی جاگ اٹھتی۔ کہیں چولہے پر دیگچی چڑھی ہوتی، کہیں تاجر اپنے مال کا حساب کر رہے ہوتے، کہیں مسافر اپنے سفر کی داستانیں سناتے اور کہیں اجنبی لوگ چند گھنٹوں کی شناسائی میں ایک دوسرے سے یوں گھل مل جاتے جیسے برسوں کے واقف ہوں۔
ایک شام بھی سرائے میں خاصی رونق تھی۔ مختلف ملکوں اور شہروں سے آئے ہوئے لوگ صحن میں جمع تھے۔ کسی کا تعلق کپڑے کی تجارت سے تھا، کوئی گھوڑوں کا سوداگر تھا، کوئی مصالحے اور خشک میوہ جات بیچتا تھا، اور کوئی سمندر پار سے قیمتی سامان لے کر آیا تھا۔ باتوں ہی باتوں میں ذکر چھڑا کہ زندگی میں کس نے کتنی کامیابی حاصل کی، کون کہاں سے چلا تھا اور اب کہاں پہنچ چکا تھا۔ ہر شخص اپنی زندگی کے تجربات بیان کر رہا تھا۔ کسی نے اپنی محنت کے قصے سنائے، کسی نے اپنی دولت کا ذکر کیا اور کسی نے مستقبل کے منصوبوں پر روشنی ڈالی۔
ان سب سے کچھ فاصلے پر، سرائے کے ایک گوشے میں سفید داڑھی والا ایک بزرگ خاموش بیٹھا تھا۔ اس کے لباس میں کوئی خاص شان و شوکت نہ تھی، نہ اس کے پاس کوئی قیمتی سامان نظر آتا تھا۔ وہ کبھی کسی کی بات سنتا، کبھی اپنی نگاہیں زمین پر جما لیتا، اور کبھی یوں مسکراتا جیسے لوگوں کی گفتگو میں اسے کوئی ایسی حقیقت دکھائی دے رہی ہو جس سے خود گفتگو کرنے والے بے خبر ہوں۔
اسی محفل میں ایک ساٹھ برس سے کچھ زیادہ عمر کا تاجر بھی بیٹھا تھا۔ اس کے چہرے پر وقت کی لکیریں تھیں، داڑھی میں سفیدی اتر چکی تھی اور سفر کی تھکن اس کے انداز سے نمایاں تھی، مگر اس کی آواز میں اب بھی جوانی جیسا جوش تھا۔ جب گفتگو اس کی طرف آئی تو اس نے اپنا پیالہ ایک طرف رکھا، کمر سیدھی کی اور بڑے اعتماد سے کہنے لگا، ’’حضرات! آدمی کی زندگی میں اصل چیز منصوبہ بندی ہے۔ جو شخص سوچ سمجھ کر قدم اٹھاتا ہے، وہی دنیا میں کامیاب ہوتا ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں بہت کچھ حاصل کیا ہے، مگر ابھی میرا کام کہاں ختم ہوا ہے؟ اصل کام تو اب شروع ہونے والا ہے!‘‘
محفل میں بیٹھے لوگ اس کی طرف متوجہ ہو گئے۔ تاجر کو بھی اپنی بات سنانے کا موقع مل گیا تھا۔ اس نے ہاتھ کے اشارے سے گویا اپنے مستقبل کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا، ’’میں یہاں سے نکل کر پہلے اپنے ملک واپس جاؤں گا۔ وہاں پہنچتے ہی اپنے گوداموں کا حساب درست کروں گا، پھر شہر کے بڑے تاجروں سے ملاقاتیں کروں گا۔ ایک نیا کاروبار شروع کرنے کا ارادہ ہے، جس کے لیے مجھے دو نئے شریک درکار ہیں۔ ان سے معاملہ طے ہو گیا تو اگلے موسمِ بہار میں مشرق کی طرف روانہ ہوں گا۔ وہاں سے ریشم اور قیمتی کپڑا خریدوں گا، پھر جنوب کے بازاروں میں فروخت کروں گا۔ اس تجارت سے جو منافع حاصل ہو گا، اس سے ساحل کے قریب زمین خریدوں گا اور وہاں ایک بڑا تجارتی مرکز قائم کروں گا۔ اس کے بعد میری نظر مغربی شہروں پر ہے۔ وہاں میرے دو پرانے تعلق دار ہیں، ان کے ساتھ مل کر تجارت کو مزید وسعت دوں گا۔‘‘
وہ رکا، پانی پیا اور پھر پہلے سے زیادہ جوش کے ساتھ بولنے لگا، ’’اس کے بعد میں اپنے بیٹوں کو کاروبار کے مختلف شعبوں میں لگاؤں گا، چھوٹے بیٹے کو حساب کتاب سکھاؤں گا، بڑے کو دور دراز ملکوں کی تجارت پر بھیجوں گا اور ایک قابل اعتماد منشی مقرر کروں گا جو تمام کاروبار کا حساب رکھے۔ پھر میں ایک شاندار حویلی تعمیر کرواؤں گا، اس کے سامنے باغ ہو گا، باغ میں فوارے ہوں گے، اور شہر کے معزز لوگ وہاں محفلوں میں شریک ہوا کریں گے۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے خاندان کا نام آنے والی نسلوں تک زندہ رہے۔ ابھی تو بہت کچھ کرنا ہے!‘‘
محفل میں بیٹھے کئی لوگوں نے سر ہلایا۔ کسی نے اس کی منصوبہ بندی کی تعریف کی، کسی نے اس کے حوصلے کو سراہا، اور کسی نے اپنے کاروبار کو وسعت دینے کے لیے اس سے مشورہ بھی مانگ لیا۔ تاجر کی زبان کھل چکی تھی۔ اب وہ ایک منصوبے کے بعد دوسرا منصوبہ بیان کر رہا تھا۔ اس کی گفتگو میں آنے والے کئی برسوں کی مصروفیات، نئی تجارتیں، سفر، عمارتیں، زمینیں، شراکت داریاں اور خاندانی انتظامات سب شامل تھے۔ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے اس نے آنے والے بیس برس اپنی مٹھی میں بند کر رکھے ہوں اور اب ایک ایک کرکے انہیں محفل کے سامنے کھول رہا ہو۔
لیکن اس تمام گفتگو کے دوران سفید داڑھی والا بزرگ خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔ جب تاجر نے اپنے مستقبل کے منصوبوں کی فہرست ختم کی تو بزرگ کے لبوں پر ایک عجیب سی مسکراہٹ ابھری۔ پھر وہ بے اختیار ہنس پڑا۔ اس کی ہنسی نہ بلند تھی، نہ تمسخر سے بھری ہوئی؛ مگر اس میں ایسی پراسرار کیفیت تھی کہ چند لمحوں کے لیے محفل کی گفتگو رک گئی۔
تاجر نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔ ’’بابا جی! آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ کیا میری کسی بات میں کوئی غلطی ہے؟‘‘
بزرگ نے اپنی ہنسی روکی، سفید داڑھی پر ہاتھ پھیرا اور کہا، ’’نہیں بیٹا، تمہاری باتوں میں منصوبوں کی کوئی کمی نہیں۔ تم نے تو آنے والے برسوں کو بھی کام پر لگا رکھا ہے!‘‘
محفل میں چند لوگ مسکرا دیے، مگر تاجر کو یہ بات کچھ ناگوار گزری۔ اس نے کہا، ’’بابا جی، زندگی یونہی نہیں گزاری جاتی۔ آدمی اگر منصوبہ نہ بنائے تو آگے کیسے بڑھے؟ میں نے اپنی محنت سے یہ مقام حاصل کیا ہے اور آئندہ بھی محنت ہی سے ترقی کروں گا۔‘‘
بزرگ نے نہ اس کی مخالفت کی، نہ بحث کی۔ بس اتنا کہا، ’’بے شک، محنت کرو، منصوبے بناؤ اور اپنے مستقبل کے لیے کوشش کرو۔ مگر ایک بات کا خیال رکھنا: جس کل کو تم نے اپنے منصوبوں میں لکھ رکھا ہے، کیا تمہیں یقین ہے کہ وہ تمہارے حصے میں بھی آئے گا؟‘‘
تاجر نے بے نیازی سے جواب دیا، ’’بابا جی، آدمی اگر ہر وقت یہی سوچتا رہے کہ کل زندہ بھی رہے گا یا نہیں، تو پھر کاروبار کیسے کرے؟ دنیا اسی طرح چلتی ہے۔ ہم آج محنت کرتے ہیں تاکہ کل اس کا پھل کھائیں۔‘‘
بزرگ نے سر ہلایا۔ ’’تمہاری بات درست ہے۔ لیکن کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ انسان کل کے لیے اتنی محنت کرتا ہے، جیسے کل اس کا قرض دار ہو، حالانکہ کل نے کسی سے وعدہ نہیں کیا ہوتا؟‘‘
یہ سن کر چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔ تاجر نے کوئی جواب نہ دیا۔ اسے بزرگ کی بات فلسفے سے زیادہ ایک غیرضروری نصیحت محسوس ہوئی۔ وہ دوبارہ دوسرے تاجروں کی طرف متوجہ ہو گیا، اور محفل میں گفتگو کا سلسلہ پھر چل پڑا۔ کچھ دیر بعد رات گہری ہونے لگی۔ مسافر اپنے کمروں کی طرف جانے لگے، اصطبل میں گھوڑوں کو چارہ ڈالا گیا اور سرائے کے صحن میں جلتے چراغ ایک ایک کرکے بجھنے لگے۔
تاجر بھی اپنے کمرے میں چلا گیا۔ اس نے اگلے دن کے سفر کا سوچا، اپنے سامان کی ترتیب دیکھی اور ذہن ہی ذہن میں آنے والے کاموں کا حساب لگاتا رہا۔ اسے یقین تھا کہ اگلی صبح وہ حسبِ معمول اٹھے گا، اپنے گھوڑے پر سوار ہو گا اور اپنے وطن کی طرف روانہ ہو جائے گا۔ وہاں پہنچ کر وہ اپنے تمام منصوبوں پر عمل شروع کر دے گا۔ اس کے نزدیک زندگی ایک طویل سفر تھی، جس کے راستے پر ابھی بہت سے پڑاؤ باقی تھے۔
رات کے آخری پہر اسے پیاس محسوس ہوئی۔ وہ بستر سے اٹھا، دروازہ کھول کر باہر نکلا اور سیڑھیوں سے نیچے اترنے لگا۔ سرائے میں گہری خاموشی تھی۔ کہیں دور کسی گھوڑے کے ہنہنانے کی آواز سنائی دیتی، کہیں ہوا لکڑی کے پرانے دروازوں کو ہلکا سا ہلاتی۔ تاجر ابھی چند سیڑھیاں ہی اترا تھا کہ اچانک اس کا پاؤں پھسلا۔ اس نے دیوار کو پکڑنے کی کوشش کی، مگر ہاتھ خالی رہ گیا۔ وہ لڑھکتا ہوا سیڑھیوں سے نیچے جا گرا۔ اس کا سر پتھر کے فرش سے ٹکرایا اور ایک دردناک آواز سرائے کی خاموشی میں گونج اٹھی۔
آواز سن کر سرائے کے ملازم اور چند مسافر دوڑتے ہوئے آئے۔ کسی نے چراغ روشن کیا، کسی نے اس کے سر کے نیچے کپڑا رکھا، اور کسی نے پانی لانے کی کوشش کی۔ مگر تاجر کی آنکھیں بند ہو چکی تھیں۔ اس کے لبوں پر کوئی لفظ نہ تھا، ہاتھ بے حرکت ہو چکے تھے اور سینے میں سانس کی وہ آمدورفت رک چکی تھی جس کے سہارے اس نے آنے والے برسوں کی پوری دنیا آباد کر رکھی تھی۔
جس شخص نے چند گھنٹے پہلے اپنی زندگی کے بیسیوں منصوبے بیان کیے تھے، اس کی زندگی کا سفر چند سیڑھیوں پر ختم ہو گیا۔
صبح ہوئی تو سرائے میں ایک عجیب سی اداسی پھیلی ہوئی تھی۔ جو لوگ گزشتہ شام اس کی گفتگو سن کر اس کے منصوبوں کی تعریف کر رہے تھے، وہی اب خاموشی سے اس کے جسدِ خاکی کے قریب کھڑے تھے۔ کسی نے اس کے سامان کی حفاظت کی فکر کی، کسی نے اس کے اہلِ خانہ تک خبر پہنچانے کی بات کی اور کسی نے افسوس سے سر ہلا کر کہا، ’’بڑا محنتی آدمی تھا۔ ابھی تو اسے بہت کچھ کرنا تھا۔‘‘
سرائے کے مالک نے مقامی لوگوں کی مدد سے جنازے کا انتظام کیا۔ مسافروں نے مل کر اسے غسل و کفن دلوانے اور تدفین کے لیے ضروری انتظامات میں حصہ لیا۔ وہ تاجر جس نے کل اپنی آئندہ زندگی کے لیے ایک طویل فہرست تیار کی تھی، آج چند لوگوں کے کندھوں پر اپنی آخری منزل کی طرف روانہ ہونے والا تھا۔ نہ اس کے ساتھ اس کی تجارت جا رہی تھی، نہ اس کے منصوبے، نہ وہ حویلی جسے ابھی تعمیر ہونا تھا اور نہ وہ کاروبار جسے وہ آنے والے برسوں میں پھیلانا چاہتا تھا۔ اس کے پیچھے بس چند سامان کے صندوق، کچھ حساب کی کتابیں اور وہ باتیں رہ گئی تھیں جو اس نے گزشتہ شام اپنے مستقبل کے بارے میں کی تھیں۔
جنازے کے بعد جب لوگ واپس سرائے کی طرف لوٹے تو سفید داڑھی والا بزرگ ایک ستون کے پاس کھڑا تھا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ وہ کبھی آسمان کی طرف دیکھتا اور کبھی اس جگہ جہاں چند گھنٹے پہلے وہ تاجر اپنے مستقبل کے منصوبوں کی ایک طویل فہرست سنا رہا تھا۔
ایک نوجوان مسافر نے یہ منظر دیکھا تو اس کے دل میں عجیب سا خیال پیدا ہوا۔ یہ کیسا بزرگ ہے؟ کل رات جب وہ تاجر اپنی آنے والی زندگی کے منصوبے بیان کر رہا تھا تو یہ ہنس رہا تھا، اور آج اسی تاجر کی موت پر رو رہا ہے! آخر اس ہنسی اور اس رونے کا راز کیا ہے؟
نوجوان ابھی اپنے خیالوں میں گم تھا کہ اس کے پیچھے سے ایک پُرسکون آواز سنائی دی، ’’لوگ انہیں حضرت خضرؑ کہتے ہیں۔
نوجوان نے چونک کر پیچھے کی طرف دیکھا۔ ایک اجنبی کھڑا تھا۔ اس کے چہرے پر عجیب سنجیدگی تھی۔
اس نے نوجوان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، ’’شاید وہ رات ہنس اس لیے رہے تھے کہ وہ اس حقیقت کو دیکھ رہے تھے جس سے ہم سب غافل رہتے ہیں۔ وہ تاجر اپنے کل کے لیے اتنے منصوبے بنا رہا تھا کہ اسے یہ خیال ہی نہ رہا کہ اس کی آج کی سانس بھی اس کے اختیار میں نہیں۔ وہ آنے والے برسوں کی تجارت، زمینوں، عمارتوں اور کامیابیوں کی باتیں کر رہا تھا، مگر اسے معلوم نہ تھا کہ رات ختم ہونے سے پہلے اس کا اپنا سفر ختم ہو جائے گا۔‘‘
’’اور اب وہ اس لیے رو رہے ہیں کہ انسان اپنے انجام سے بے خبر ہو کر زندگی بھر کتنی امیدیں باندھتا ہے، کتنے خواب سجاتا ہے، کتنے وعدے خود سے کرتا ہے؛ مگر جب رخصتی کا وقت آتا ہے تو نہ اس کی فہرست مکمل ہوتی ہے، نہ اس کے منصوبے۔ بس اس کا وقت پورا ہو جاتا ہے۔‘‘
نوجوان نے بے اختیار پوچھا، ’’لیکن آپ کو کیسے معلوم ہے
کہ اس کا وقت ختم ہوچکا ہے اور اس سے بھی بڑھ کر کہ وہ بوڑھا شخص بھی یہ سب کچھ جانتا تھا؟‘‘
اجنبی نے جواب دینے کے بجائے ایک نظر اس جنازے کی طرف ڈالی جو اب نظروں سے اوجھل ہو چکا تھا۔ پھر بولا، ’’جس کی آمد کا وقت مقرر ہو، وہ نہ ایک لمحہ پہلے آتا ہے، نہ ایک لمحہ بعد۔ انسان اپنی زندگی کے دن گنتا نہیں، مگر اس کے دن گنے جا چکے ہوتے ہیں۔‘‘
یہ کہہ کر وہ اجنبی آہستہ آہستہ سرائے کے دروازے کی طرف بڑھنے لگا۔ نوجوان نے اس کے پیچھے آواز دی، ’’ٹھہریے! آپ کون ہیں؟‘‘
اجنبی نے پلٹ کر دیکھا۔ اس کی نگاہ میں ایسی گہرائی تھی کہ نوجوان کے لب خاموش ہو گئے۔ پھر اس نے کہا، ’’میں وہ ہوں جس کی آمد کے لیے کوئی دن مقرر نہیں کرتا، مگر جس کے آنے کا دن ہر شخص کے لیے مقرر ہے۔ میں کسی کے منصوبے مکمل ہونے کا انتظار نہیں کرتا، نہ کسی کے کاروبار، دولت یا خواہشات سے میرا کوئی معاملہ ہے۔ جب حکم ہوتا ہے تو میں آ جاتا ہوں۔‘‘
یہ کہہ کر وہ دروازے سے باہر نکل گیا۔
نوجوان چند لمحے وہیں کھڑا رہا۔ پھر اس نے سرائے کے ایک خادم سے پوچھا، ’’یہ اجنبی کون تھا؟‘‘
خادم نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا اور کہا، ’’کون اجنبی؟ یہاں تو تمہارے سوا کوئی اس طرف نہیں آیا۔‘‘
نوجوان کے جسم میں ایک سرد لہر دوڑ گئی۔ اس نے دروازے کے باہر جھانکا، مگر وہاں دور تک کوئی دکھائی نہ دیا۔ اسے اچانک اس اجنبی کے آخری الفاظ یاد آئے: میں وہ ہوں جس کی آمد کے لیے کوئی دن مقرر نہیں کرتا، مگر جس کے آنے کا دن ہر شخص کے لیے مقرر ہے۔
اس کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور دھیرے سے کہا، ’’کیا وہ ملک الموت، حضرت عزرائیل علیہ السلام تھے؟‘‘
اس کے پاس اس سوال کا کوئی قطعی جواب نہ تھا، مگر اس لمحے اسے ایک حقیقت ضرور سمجھ آ گئی تھی: انسان اپنی زندگی کے لیے ہزاروں منصوبے بناتا ہے، مگر اس کی زندگی کا آخری فیصلہ اس کے منصوبے نہیں، اللہ تعالیٰ کا حکم کرتا ہے۔
اس دن کے بعد جب بھی نوجوان مستقبل کے بڑے بڑے خواب دیکھتا، اسے وہ تاجر یاد آ جاتا جس کی فہرست ختم ہونے سے پہلے زندگی ختم ہو گئی تھی۔ وہ اپنے کام ضرور کرتا، منصوبے بھی بناتا، مگر نیکی کو کل پر نہ چھوڑتا، کسی کا دل دکھاتا تو معافی مانگ لیتا، کسی ضرورت مند کو دیکھتا تو حتی المقدور مدد کرتا اور اپنے اہلِ خانہ کے لیے وقت نکالتا۔ کیونکہ اب وہ جان چکا تھا کہ کل کی امید رکھنا زندگی ہے، مگر کل کی ضمانت سمجھ لینا سب سے بڑی بھول ہے۔


