موچی کی شادی

موچی کی شادی

کسی گاؤں میں ایک بہت غریب موچی اپنے گھر میں اکیلا رہتا تھا۔یہاں اس کا کوئی بھی رشتے دار نہیں تھا۔وہ اتنا غریب تھا کہ اس نے کبھی شادی کے بارے میں نہیں سوچا تھا۔ایک دن اسے بہت بھوک لگی تھی اور چاول کھانے کا دل چاہ رہا تھا۔اتفاق سے اسی دن اس کے پاس بہت سے گاہک آئے۔
وہ بہت خوش تھا۔اس نے جلدی جلدی اپنا کام ختم کیا اور پیسوں سے چاول اور مسالے خرید کر لایا اور جلدی جلدی دال چاول پکانا شروع کیے۔چاول پکانے کے بعد ان کو ایک بڑی سی پلیٹ میں ڈال دیا۔چاول بہت گرم تھے، اس لئے وہ ان کو اس وقت نہیں کھا سکتا تھا۔اس نے سوچا کہ پہلے پڑوسی کا ٹھیک کیا ہوا جوتا ان کو واپس کر آتا ہوں پھر آ کر مزے سے کھاؤں گا۔



وہ جوتا واپس کرنے چلا گیا، لیکن جاتے وقت اپنے گھر کا دروازہ بند کرنا بھول گیا۔


اس کے گھر کے پاس سے ایک گیدڑ کا گزر ہوا۔اس کو اندر سے مزے دار دال چاول کی خوشبو آ رہی تھی۔وہ جلدی سے دروازے سے گھر کے اندر چلا گیا۔اس نے دیکھا کہ ایک بڑی سی پلیٹ کے اندر مزے دار دال چاول رکھے تھے۔اس نے نہ اِدھر دیکھا نہ اُدھر، جلدی جلدی چاول کھانا شروع کر دیے۔اس نے ابھی پورے چاول نہیں کھائے تھے کہ موچی واپس آ گیا۔موچی نے جب گیدڑ کو اپنے چاول کھاتے ہوئے دیکھا تو اس کو بہت غصہ آیا۔
اس نے پاس ہی رکھا ہوا ڈنڈا اُٹھایا اور گیدڑ کی پٹائی شروع کر دی۔گیدڑ زور زور سے چیخنے لگا، لیکن موچی نہ رکا اور اسے زور زور سے مارنے لگا۔موچی نے ایک رسی اُٹھائی اور اس سے گیدڑ کو باندھ دیا۔اب وہ چاول بھی نہیں کھا سکتا تھا، کیونکہ وہ پوری طرح سے خراب ہو چکے تھے۔موچی کو پھر غصہ آیا۔اس نے پھر گیدڑ کو مارنا شروع کر دیا۔جب تک اس کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوا، وہ گیدڑ کو مارتا رہا، پھر دوسرے چاول لینے چلا گیا۔

گیدڑ نے سوچا کہ اگر مجھے اسی طرح سے مارتا رہے گا تو میں مر جاؤں گا۔یہ سوچ کر گیدڑ نے بہت زور زور سے چیخنا شروع کر دیا۔اتفاق سے جنگل بالکل پاس ہی تھا۔اس کے ساتھیوں نے اس کی آواز سن لی۔ان ساتھیوں میں سے ایک اس کا دوست بھی تھا۔وہ اپنے دوست کی آواز سن کر موچی کے گھر پہنچ گیا۔وہاں پہنچ کر اس نے دیکھا کہ اس کا دوست بُری طرح سے رسیوں میں جکڑا ہوا تھا۔
موچی نے اس گیدڑ کی اتنی پٹائی کی تھی کہ اس کا جسم سُوج چکا تھا۔سوجن کی وجہ سے وہ کافی موٹا اور صحت مند نظر آ رہا تھا۔
گیدڑ کے دوست نے پوچھا:”خیر تو ہے دوست! تم تو بہت صحت مند لگ رہے ہو۔“
دوسرے گیدڑ نے اسے جواب دیا:”ہاں بس اب کیا بتاؤں یہاں پر بہت نیک آدمی رہتا ہے وہ میرا بہت خیال رکھتا ہے۔دیکھو اس نے مجھے کیسے رسیوں میں باندھ کر رکھا ہے، تاکہ میں اس کے پاس سے کہیں اور نہ جاؤں وہ روزانہ مجھے حلوہ پوری کھلاتا ہے جس کی وجہ سے میں اتنا صحت مند اور موٹا ہو گیا ہوں۔

یہ بات سن کر دوسرے گیدڑ کے منہ میں پانی آ گیا اور وہ بولا:”واہ بھائی! تمہارے تو مزے ہیں کاش مجھے بھی روزانہ حلوہ پوری کھانے کو ملتی۔“
کرسیوں میں جکڑا گیدڑ چالاکی سے بولا:”ایسا ہو سکتا ہے، اگر تم میری رسیاں کھول دو اور خود میری جگہ آ جاؤ تو وہ تمھیں بھی روزانہ حلوہ پوری کھلائے گا۔“
دوسرا گیدڑ بولا:”خوب، میں ابھی تمہاری جگہ آتا ہوں۔
“ پھر گیدڑ کے دوست نے دوسرے گیدڑ کی رسیاں کھولی اور خود اس کی جگہ بندھ گیا۔پہلے والا گیدڑ کُھلتے ہی ہوا سے بھی تیز رفتاری سے بھاگ گیا۔تھوڑی دیر میں موچی بھی وہاں پہنچ گیا۔گیدڑ نے موچی کو دیکھ کر اپنی زبان نکالی اور دُم ہلانا شروع کی کہ شاید اب اسے بھی حلوہ پوری کھانے کو ملے گی، لیکن موچی نے ڈنڈا اُٹھایا اور اسے خوب مارا۔گیدڑ زور سے بولا:”پاگل ہو گئے ہو! مجھے مار کیوں رہے ہو، میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے۔

گیدڑ کو انسانوں کی طرح بولتا دیکھ کر موچی بہت حیران ہوا اور بولا:”تم نے میرے چاول کھائے ہیں۔جب تک ان کا حساب پورا نہیں ہو گا، میں تمھیں مارتا رہوں گا۔“
گیدڑ فوراً بولا:”دیکھو بھائی! میں وہ گیدڑ نہیں ہوں، جس نے تمہارے چاول کھائے تھے۔وہ دوسرا گیدڑ تھا، جس نے مجھے یہاں پھنسایا ہے اور خود بھاگ گیا۔اگر تم مجھے آزاد کر دو تو پھر میں تمہاری شادی راجا کی بیٹی سے کرا دوں گا۔

گیدڑ کی یہ بات سن کر موچی بہت حیران ہوا اور بولا:”میری شادی اور وہ بھی راجا کی بیٹی سے! کیا تم پاگل ہو گئے ہو؟ ایسا کبھی بھی نہیں ہو سکتا۔“
گیدڑ بولا:”مجھے رسیوں سے کھول دو، کچھ دنوں بعد میں واپس آؤں گا اور تمہاری شادی دھوم دھام سے راجا کی بیٹی سے کراؤں گا۔“
موچی مان گیا اور اس نے گیدڑ کو جانے دیا۔اس کو بالکل یقین نہیں آ رہا تھا کہ میری شادی راجا کی بیٹی سے ہو گی۔
گیدڑ دوڑتا ہوا راجا کے محل کی طرف چلا گیا۔وہاں پہنچ کر اس نے انسان کا روپ دھار لیا اور محل کے اندر چلا گیا اور راجا کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا اور بولا:”میں ایک دور دراز ملک کا سفیر ہوں اور وہاں کا پیغام لے کر آیا ہوں۔“
راجا فوراً بولا:”بتاؤ تم کیا پیغام لے کر آئے ہو میرے لئے۔“
گیدڑ بولا:”دوسرے ملک کے راجا آپ کی بیٹی سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔

یہ سن کر راجا بہت خوش ہوا اور اس نے فوراً ہاں کہہ دی۔اس کے بعد اس نے تاریخ بھی طے کر لی۔گیدڑ دوڑتا ہوا واپس موچی کے گھر گیا اور بتا دیا کہ اس تاریخ کو تمہاری شادی راجا کی بیٹی سے طے کر دی ہے۔میں اس تاریخ کو تمھیں صبح صبح لینے آؤں گا۔موچی کو اب بھی یقین نہ آیا اور وہ چپ چاپ کام میں لگا رہا۔کافی دنوں بعد اسی تاریخ کو صبح صبح گیدڑ موچی کو لینے آ گیا۔
تب اسے یقین آیا کہ میری شادی واقعی میں راجا کی بیٹی سے ہونے والی ہے۔
گیدڑ بولا:”فوراً تیار ہو جاؤ، تمہاری شادی راجا کی بیٹی سے ہے۔“ پھر وہ دونوں تیار ہو کر جھیل کی طرف چلے گئے۔جھیل کے پاس ایک دھوبی اپنے کپڑے دھو رہا تھا۔
گیدڑ دھوبی سے بولا:”میں تمھیں 10 سونے کے سکے دوں گا، اگر تم اپنے سارے کے سارے کپڑے درختوں پر پھیلا دو۔“
دھوبی مان گیا اور اس نے اپنے سارے کپڑے وہاں پر پھیلا دیے۔
اس کے بعد اس نے کچھ بڑے بڑے روئی کے گولے رکھے اور موچی سے کہا کہ جب میں تمھیں اشارہ کروں تو تم یہ روئی کے گولے پانی میں پھینک دینا اور کپڑوں کو اُتار دینا۔اس کے بعد گیدڑ انسان کے روپ میں آ گیا اور راجا کے محل کی طرف چلا گیا۔راجا محل کی چھت کے اوپر بارات کا انتظار کر رہا تھا۔گیدڑ روتا ہوا آیا اور بولا:”راجا صاحب! میرے ملک کے سپاہی اور راجا آ رہے تھے کہ ایک زور دار ہوا کا طوفان آیا، جس کی وجہ سے وہ سارے کے سارے سمندر میں ڈوب گئے۔
“ اتنی دیر میں گیدڑ نے ہوشیاری سے موچی کو اشارہ کیا۔موچی نے جلدی سے سارے گولے پانی میں پھینک دیے۔دور سے دیکھنے میں وہ انسان لگ رہے تھے جس کی وجہ سے راجا کو دھوکا ہوا اور سمجھا کہ واقعی ایسا ہی ہوا ہے اور بولا:”میری بیٹی کا ہونے والا شوہر کہاں ہے؟“
گیدڑ بولا:”راجا صاحب! وہ بالکل ٹھیک ہیں۔طوفان کی وجہ سے ان کے کپڑے پھٹ گئے تھے، اس لئے ایک غریب سے کپڑے لے کر انھیں پہنائے گئے ہیں۔
راجا نے فوراً سپاہیوں کو حکم دیا:”جاؤ، جا کر شہزادے کو یہاں پر عزت اور احترام سے لے کر آؤ۔“ اس کے سپاہی موچی کو محل میں لے کر آ گئے۔موچی کی سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ کیا ہو رہا ہے۔پھر موچی کی شادی راجا کی بیٹی سے ہو گئی۔
گیدڑ نے کہا:”راجا صاحب! ان کے ڈوبنے کی خبر محل تک چلی گئی تھی جس کی وجہ سے کسی نے محل پر قبضہ کر لیا ہے۔اب ان کا کچھ بھی نہیں بچا تو آپ ان کو اپنے محل میں ہی روک لیجئے۔“
یہ سن کر بادشاہ بہت خوش ہوا، کیونکہ اس کی بیٹی اکلوتی تھی اور وہ اس کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھنا چاہتا تھا، اس لئے وہ راضی ہو گیا۔اس طرح موچی نے اپنی ساری زندگی خوشی خوشی بادشاہ کے محل کے اندر گزاری۔

Leave a Reply

NZ's Corner