میسیج آف دی ڈے۔۔۔! ایک مرغا بڑا ہی تگڑا، چاک و چوبند اور خوبصورت تھا۔۔۔

ایک آدمی نے بہت سے مرغے،مرغیاں اور دوسرے جانور پال رکھے تھے۔ ان میں ایک مرغا
بڑا ہی تگڑا، چاک و چوبند اور خوبصورت تھا ۔ باقی تمام جانور اسکی بڑی قدر کیا کرتے تھے کیونکہ وہ سب جانوروں کو صبح اذان دے کر جگایا کرتا تھا.


ایک دن آدمی کے دوست اس کے ہاں رہنے کے لیے آیا جب اس کی نظر اس مرغے پر پڑی اور اس نے مرغے کو پکا کر کھانے کا عہد کرلیا۔


وہ جانتا تھا بلاجواز اس کا مالک اس کو ذبح نہیں کرنے دے گا۔ لہذا اس نے مرغے کے مالک کو بولا کہ یہ مرغا کام کا نہیں رہا نہ اذان دیتا ہے اور نہ انڈے اس کا کوئی فائدہ نہیں
اس کے بعد وہ مرغے کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ اے مرغے! اگر تو نے کل فجر کی اذان دی تو میں تجھے ذبح کردونگا، میری نیند میں خلل آتا ہے۔ مرغا عادت سے مجبور تھا، اس نے صبح پر پھیلائے اور گردن لمبی کی، لیکن اذان دینے سے پہلے اچانک دھمکی یاد آئی اور رک گیا۔


اگلے دن، اس نےکہا کہ اے مرغے! کل جو تو نے گردن لمبی کی تو دیکھیو۔۔! مرغا حسب عادت صبح چبوترے پر چڑھا، پر پھیلائے، لیکن دھمکی یاد آتے ہی نیچے اتر گیا۔


اس سے اگلے دن آدمی نے مرغے سے کہا کہ اگر تونے صبح پر پھیلائے تو دیکھنا! مرغے نے اگلے دن بھی کچھ نہ کیا۔

آخری دن آدمی مرغے کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اگر تو نے فجر میں انڈہ نہ دیا تو تجھے ذبح کرونگا۔

مرغے کا مالک اتنے دن سے مرغے میں یہ تبدیلی دیکھ رہا تھا کہ مرغا نہ اذان دیتا ہے نا گردن لمبی کرتا ہے اور نہ پر پھیلاتا ہے اس نے سوچا کہیں مرغا بیمار ہی نا ہو اور اسی طرح بیماری سے مر ہی نہ جائے۔ لہذا اس نے مرغے کو ذبح کردیا۔ مرغے نے ذبح ہوتے سوچا کہ مرنا تو میں نے تھا ہی، کاش کہ غیرت کے ساتھ اذان دیکر مرتا!


!تمام اسلامی ممالک کے لیے سبق ہے کہ جب تک زندگی ہے غیرت کے ساتھ جیو، موت کے وقت کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔

#فلسطین