وکیل اور چالاک باغبان

وکیل اور چالاک باغبان

ایک مشہور وکیل تھا جسے شکار اور مچھلی پکڑنے کا بے حد شوق تھا۔ ایک صاف اور خوشگوار ہفتے کی صبح اُس نے سوچا کہ آج کا دن شہر کے شور سے دور جنگل اور جھیل کے کنارے گزارا جائے۔
وہ اپنی گاڑی میں بیٹھا اور لمبا سفر طے کرتے ہوئے ایک گھنے جنگل کے قریب واقع خوبصورت جھیل تک پہنچ گیا۔ جھیل کا منظر دلکش تھا، پانی شیشے کی طرح صاف تھا اور ٹھنڈی ہوا ماحول کو مزید حسین بنا رہی تھی۔
وکیل نے بڑی امید کے ساتھ کانٹا ڈالا، مگر قسمت اُس کا ساتھ نہ دے سکی۔ کئی گھنٹے گزر گئے لیکن ایک بھی مچھلی ہاتھ نہ آئی۔ تھکا ہارا اور مایوس ہو کر اُس نے سامان سمیٹا اور واپسی کا ارادہ کیا۔
اسی دوران اچانک اُس کی نظر قریب جھاڑیوں میں گھومتے ہوئے ایک موٹے تازے خرگوش پر پڑی۔ وکیل کی آنکھوں میں چمک آگئی۔ اُس نے فوراً بندوق سیدھی کی اور گولی چلا دی۔
گولی چلتے ہی خرگوش اچھلتا ہوا قریب موجود ایک باغ کے اندر جا گرا۔
وکیل نے اِدھر اُدھر نظر دوڑائی۔ باغ میں بظاہر کوئی نظر نہ آیا۔ لالچ اُس پر غالب آگیا۔ وہ فوراً باڑ پھلانگ کر اندر داخل ہوا، خرگوش اٹھایا اور واپس باہر نکلنے ہی والا تھا کہ اچانک ایک سخت آواز گونجی:
“رک جاؤ!”
یہ باغ کا مالک تھا، جو خاموشی سے سب کچھ دیکھ رہا تھا۔
دونوں کے درمیان خرگوش کی ملکیت پر زبردست بحث شروع ہوگئی۔
وکیل غرور سے بولا،
“یہ خرگوش میرا ہے! میں نے اسے شکار کیا ہے!”
باغ کا مالک سکون سے بولا،
“لیکن یہ میرے باغ میں گرا ہے، اس لیے اب یہ میرا ہوا!”
وکیل غصے سے لال پیلا ہوگیا۔ اُس نے سینہ تان کر کہا،
“جانتے ہو میں کون ہوں؟ میں ایک وکیل ہوں! اگر میں نے عدالت میں مقدمہ کردیا تو تمہیں سخت سزا ہوسکتی ہے!”
باغ کا مالک مسکرایا۔ اُس نے محسوس کیا کہ وکیل اپنے عہدے اور طاقت کے گھمنڈ میں مبتلا ہے۔ وہ اُسے سبق سکھانا چاہتا تھا۔
اُس نے کہا،
“چلو ایک آسان فیصلہ کرتے ہیں۔ ہم دونوں ایک دوسرے کو تین تین لاتیں ماریں گے۔ پھر باری باری یہی سلسلہ چلتا رہے گا، جب تک کوئی ہار نہ مان لے۔ جو ہار مانے گا، خرگوش دوسرے کا ہوگا!”
وکیل نے باغ کے مالک کو اوپر سے نیچے تک دیکھا۔ مالک کمزور اور دبلا پتلا لگ رہا تھا جبکہ وکیل خود کو طاقتور سمجھتا تھا۔ وہ فوراً راضی ہوگیا۔
سکہ اچھالا گیا تاکہ فیصلہ ہو کہ پہلی لات کون مارے گا۔ قسمت سے باغ کا مالک جیت گیا۔
وہ آگے بڑھا… اور اچانک پوری طاقت سے وکیل کے پیٹ پر لات ماری!
وکیل درد سے دوہرا ہوگیا۔
اس کے بعد دوسری لات اُس کی ٹانگوں پر پڑی، اور تیسری سیدھی چہرے پر!
وکیل کراہتا ہوا زمین پر گرنے کے قریب پہنچ گیا۔ اُس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا۔
وہ بمشکل سنبھلا اور غصے میں مٹھیاں بھینچ کر بولا،
“اب میری باری ہے!”
مگر باغ کا مالک سکون سے مسکرایا اور بولا،
“میں ہار مانتا ہوں… خرگوش تمہارا ہوا!”
یہ کہہ کر وہ آرام سے وہاں سے چل دیا، جبکہ وکیل درد سے کراہتا ہوا خرگوش ہاتھ میں لیے کھڑا رہ گیا۔

کبھی کبھی عقل اور حاضر دماغی، طاقت اور غرور پر بھاری پڑ جاتی ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner