وہم

وہم

جنگل میں ایک گینڈا رہتا تھا۔ جسم ایسا بھاری کہ اس کے گزرنے سے راستے کے جھاڑ جھنکار دب جاتے، آواز ایسی گرج دار کہ چھوٹے جانور دور سے ہی راستہ چھوڑ دیتے، اور مزاج ایسا کہ کسی کو اس کے سامنے اپنی بات کہنے کی ہمت نہ ہوتی۔ جنگل کے بندر حجامت کے فن میں خاص مہارت رکھتے تھے۔ ان کی بازار میں کئی دکانیں تھیں، جہاں جانور بال کٹوانے، داڑھی بنوانے اور حلیہ سنوارنے آتے تھے۔ گینڈا بھی ہر دوسرے تیسرے دن کسی نہ کسی بندر کی دکان پر پہنچ جاتا، خوب خاطر مدارت کرواتا اور اجرت ادا کیے بغیر یہ جا، وہ جا۔ شروع میں بندروں نے اس کی طاقت کے خوف سے اسے برداشت کیا، مگر جب یہ روز کا معمول بن گیا تو ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ آخر ایک دن سب بندر جمع ہوئے اور طے کیا کہ اس مغرور گاہک کو ایسی سزا دی جائے جو مدتوں یاد رکھے۔
مسئلہ یہ تھا کہ گینڈے سے لڑنا کسی کے بس کی بات نہ تھی۔ کافی سوچ بچار کے بعد ایک بوڑھے بندر نے کہا، ’’اس کی طاقت سے نہیں، اس کی کمزوری سے مقابلہ کرو۔ میں نے غور کیا ہے کہ یہ جتنا طاقتور ہے، اس سے کہیں زیادہ وہمی ہے۔ اسے اپنے جسم میں معمولی سی تبدیلی کا شک بھی ہو جائے تو سارا دن آئینہ دیکھتا رہتا ہے۔ کیوں نہ اسی وہم کو اس کے خلاف استعمال کیا جائے؟‘‘ تمام بندروں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور ان کے چہروں پر شرارتی مسکراہٹ پھیل گئی۔

چند روز بعد گینڈا حسبِ معمول ایک بندر کی دکان پر جا دھمکا۔ حجام نے بڑے احترام سے اسے کرسی پر بٹھایا، تولیہ لپیٹا اور حجامت شروع کر دی۔ کام مکمل ہوا تو گینڈا اٹھنے لگا، مگر بندر نے اچانک اس کے چہرے کو غور سے دیکھا اور حیرت سے بولا، ’’حضور! ایک بات پوچھوں، برا تو نہیں مانیں گے؟‘‘
گینڈے نے گردن اکڑا کر کہا، ’’پوچھو!‘‘
بندر نے قدرے جھجکتے ہوئے کہا، ’’حضور، آج آپ کا بایاں کان کچھ بڑا معلوم ہو رہا ہے۔ ممکن ہے میری نظر کا دھوکا ہو، لیکن پہلے تو ایسا نہیں تھا۔‘‘
گینڈا چونکا۔ ’’کیا بکواس ہے؟ میرے کان کو کیا ہوا؟‘‘
بندر نے فوراً ہاتھ جوڑ لیے۔ ’’حضور، میں نے تو صرف اپنا خیال عرض کیا ہے۔ آپ خود آئینے میں دیکھ لیجیے۔‘‘
گینڈا اٹھا، آئینے کے سامنے جا کھڑا ہوا اور دونوں کانوں کا بغور جائزہ لینے لگا۔ اسے یقین تو نہ آیا، مگر شک کا بیج دل میں پڑ چکا تھا۔ وہ دکان سے نکلا تو بندر نے پیچھے بیٹھے اپنے ساتھیوں کو آنکھ سے اشارہ کیا۔ انہوں نے پہلے ہی طے کر رکھا تھا کہ گینڈے کو جہاں بھی دیکھیں گے، اس کے کان کا ذکر ضرور چھیڑیں گے۔
گینڈا ابھی چند قدم ہی چلا تھا کہ راستے میں ایک دوسرے بندر سے ملاقات ہو گئی۔ اس نے سلام دعا کے بعد یوں ظاہر کیا جیسے ابھی ابھی کوئی عجیب بات دیکھی ہو۔ ’’حضور! خیریت تو ہے؟ آپ کا بایاں کان کچھ سوجا ہوا لگتا ہے۔ کہیں چوٹ تو نہیں لگی؟‘‘
گینڈے کے قدم وہیں رک گئے۔ اس نے فوراً اپنا کان چھوا، پھر دوسرے کان کو ٹٹولا۔ دونوں اپنی جگہ موجود تھے، مگر اب اسے بایاں کان واقعی بھاری محسوس ہونے لگا تھا۔ وہ غصے سے بولا، ’’تمہیں اپنے کام سے کام رکھنا چاہیے!‘‘ اور تیزی سے آگے بڑھ گیا۔
راستے میں اسے ایک سبزی فروش بندریا دکھائی دی۔ گینڈا اکثر اس کی دکان سے سبزیاں لیتا تھا اور کبھی پیسے دینے کی زحمت نہیں کرتا تھا۔ بندریا نے اسے دیکھتے ہی حسبِ عادت خوش آمدید کہا، مگر پھر اس کی نگاہ گینڈے کے کان پر پڑی تو وہ بھی اپنے ساتھیوں کے منصوبے کے مطابق بول اٹھی، ’’حضور! آپ کی صحت تو ماشاء اللہ خوب ہے، بس یہ کان کچھ بڑا نہیں ہو گیا؟‘‘
اب گینڈے کے لیے یہ محض اتفاق نہیں رہا تھا۔ اس نے سبزیوں کی طرف دیکھے بغیر پوچھا، ’’تمہیں بھی یہی نظر آ رہا ہے؟‘‘
بندریا نے معصومیت سے سر ہلا دیا۔ ’’میں تو یہی کہوں گی کہ کسی اچھے طبیب کو دکھا دیجیے۔ احتیاط میں کیا حرج ہے؟‘‘
گینڈا وہاں سے نکلا تو اس کے ذہن میں طرح طرح کے خیالات گردش کرنے لگے۔ کہیں کان واقعی بڑھ تو نہیں رہا؟ کہیں کوئی بیماری تو نہیں؟ اگر کل تک یہ اور بڑا ہو گیا تو؟ اگر پورا چہرہ بگڑ گیا تو جنگل میں اس کی دھاک کا کیا بنے گا؟

شام تک جس جانور سے بھی اس کا سامنا ہوا، کسی نہ کسی بہانے اس کے کان کا ذکر ضرور نکل آیا۔ دراصل بندروں نے جنگل کے کئی جانوروں کو اپنے منصوبے میں شریک کر لیا تھا۔ کسی نے حیرت ظاہر کی، کسی نے ہمدردی جتائی اور کسی نے طبیب کو دکھانے کا مشورہ دیا۔ گینڈا جتنا ان باتوں کو جھٹکتا، اتنا ہی اس کے دل میں شک مضبوط ہوتا جاتا۔

آخرکار وہ گھر پہنچا، دروازہ بند کیا اور آئینے کے سامنے بیٹھ گیا۔ کبھی دایاں کان دیکھتا، کبھی بایاں۔ پھر دونوں کانوں کی پیمائش کرنے کے لیے تنکے اٹھا لایا۔ اسے ہر مرتبہ اپنا بایاں کان پہلے سے بڑا محسوس ہوتا۔ حقیقت یہ تھی کہ اس کے کانوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی، مگر وہم نے اس کی نظر اور سوچ دونوں کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔

رات ہوئی تو اس نے کھانا بھی نہ کھایا۔ بستر پر لیٹا تو بار بار اٹھ کر آئینہ دیکھنے لگا۔ کبھی اسے خیال آتا کہ کان کے اندر کوئی بیماری پل رہی ہے، کبھی ڈر لگتا کہ صبح تک کان اس کے سر سے بھی بڑا ہو جائے گا۔ بالآخر وہ تھکن سے نڈھال ہو کر بستر پر گر پڑا اور اگلے دن بھی گھر سے باہر نکلنے کی ہمت نہ کر سکا۔
اس دن کے بعد گینڈا جب بھی جنگل کے بازار میں نکلتا، کوئی نہ کوئی جانور اس کے بائیں کان کا ذکر ضرور چھیڑ دیتا۔ بندر حجام تو اسے دیکھتے ہی کہتے، ’’گینڈا بھائی! آج کان کچھ بہتر لگ رہا ہے، مگر ذرا خیال رکھیے گا!‘‘ کوئی دوسرا جانور ہمدردی جتاتے ہوئے کہتا، ’’اب تو فرق صاف نظر آتا ہے، پہلے سے کچھ بڑا لگ رہا ہے۔‘‘

گینڈا ہر بار گھبرا کر اپنا کان چھوتا، کبھی پانی میں عکس دیکھتا اور کبھی گھر جا کر آئینہ نکالکر رات بھر بیٹھا رہتا۔ رفتہ رفتہ اس کی طبیعت ایسی ہوئی کہ بازار جانے کا خیال آتے ہی اسے اپنے بائیں کان کی فکر ستانے لگتی۔ آخر ایک دن اس نے فیصلہ کر لیا کہ نہ بازار جائے گا، نہ بندروں کی دکان کے آس پاس سے گزرے گا۔

یوں جو گینڈا کبھی مفت حجامت کروانے کے لیے بار بار بندروں کے پاس پہنچ جاتا تھا، اس نے اس طرف جانا ہی چھوڑ دیا۔ بندر حجام مسکراتے ہوئے کہتے، ’’ہم نے اس کی حجامت کا حساب تو نہیں لیا، مگر اسے ایسی فکر دے دی کہ اب وہ ہماری دکان کا راستہ بھی بھول گیا ہے۔‘

حاصل سبق:
وہم ایک ایسا جال ہے جس کے دھاگے اکثر حقیقت میں موجود ہی نہیں ہوتے، مگر انسان خود ان میں الجھ کر رہ جاتا ہے۔ ایک بے بنیاد خیال، بار بار دوسروں کی باتوں اور اپنی سوچ سے تقویت پا کر حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے۔ اس لیے ہر سنی سنائی بات پر یقین کرنے کے بجائے حقیقت کی تحقیق کرنی چاہیے، ورنہ کبھی کبھی مسئلہ اتنا بڑا نہیں ہوتا جتنا ہمارا وہم اسے بنا دیتا ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner