ویران حویلی

ویران حویلی

پشاور کے قریب ایک پرانا گاؤں تھا جہاں ایک ویران حویلی صدیوں سے خالی پڑی تھی۔ کہا جاتا تھا کہ اس میں جنات کا بسیرا ہے اور جو بھی رات کو وہاں جاتا، صبح تک پاگل ہو جاتا یا کبھی واپس ہی نہ آتا۔ گاؤں کا ایک نوجوان، اکرم، جو ابھی نیا نیا نماز اور تلاوت کی طرف مائل ہوا تھا، ایک شرط کے تحت اس حویلی میں رات گزارنے پر راضی ہو گیا تاکہ گاؤں والوں کا خوف ختم کرے۔
رات کے پہلے پہر، حویلی کا درجہ حرارت اچانک گر گیا اور کمرے میں عجیب سرسراہٹ گونجنے لگی۔ دیواروں پر پرچھائیاں حرکت کرنے لگیں اور ایک بھاری آواز نے اسے ڈرانے کی کوشش کی: “نکل جا یہاں سے، ورنہ برا ہوگا!” اکرم کا دل زور سے دھڑکا، مگر اس نے اپنی والدہ کی سکھائی ہوئی نصیحت یاد کی — خوف کے وقت سورۃ الفلق، سورۃ الناس اور آیت الکرسی پڑھو۔ اس نے کانپتی آواز میں تلاوت شروع کر دی۔ جیسے جیسے وہ پڑھتا گیا، آوازیں کمزور ہوتی گئیں اور آخر میں ایک ہلکی سی سرگوشی سنائی دی: “ہمیں معاف کر دو، ہم صرف آزما رہے تھے کہ تیرا ایمان کتنا مضبوط ہے۔”
صبح جب اکرم حویلی سے صحیح سلامت باہر نکلا، تو پورا گاؤں حیران رہ گیا۔ اس نے بتایا کہ ڈر ختم کرنے کا اصل ہتھیار ذکرِ الٰہی اور سچا یقین ہے، طاقت یا ہتھیار نہیں۔ کچھ عرصے بعد اسی حویلی کو گاؤں والوں نے صاف کر کے وہاں ایک چھوٹی مسجد تعمیر کر دی، اور تب سے وہاں کوئی عجیب واقعہ رونما نہ ہوا۔
اخلاقی سبق: خوف پر قابو پانے کا اصل ذریعہ ہتھیار یا طاقت نہیں بلکہ اللہ پر یقین اور اس کا ذکر ہے۔ جو دل اللہ سے جڑا ہو، اسے کوئی غیبی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی۔
حوالہ/مصنف: روایتی عوامی حکایت، پاکستانی دیہاتی زبانی روایت پر مبنی (لوک ادب، مستند تاریخی واقعہ نہیں)۔

Leave a Reply

NZ's Corner