عرب کے مشہور شاعر اِمرُؤُ القیس دورِ جاہلیت کی نمایاں شخصیت تھا۔ روایت ہے کہ جب اسے قیصرِ روم کے دربار میں بلایا گیا تو روانگی سے پہلے اس نے اپنی زرہ، اسلحہ اور قیمتی سامان اپنے قابلِ اعتماد دوست سَمؤال کے پاس امانت رکھوا دیا۔
کچھ عرصے بعد امرؤ القیس اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ اسی دوران قبیلہ کندہ کا بادشاہ—جو اس کا سخت مخالف تھا—نے سَمؤال کو پیغام بھیجا کہ امانت میں رکھا ہوا سارا مال اس کے حوالے کر دیا جائے۔
سَمؤال نے دوٹوک جواب دیا:
“یہ امانت میں صرف امرؤ القیس کی بیٹی یا اس کے جائز وارثوں کے سپرد کروں گا۔ بادشاہ اس کا حق دار نہیں، اس لیے میں اسے نہیں دے سکتا۔”
بادشاہ نے دوبارہ دباؤ ڈالا، مگر سَمؤال اپنے مؤقف پر ڈٹا رہا:
“میں امانت میں خیانت نہیں کر سکتا۔”
یہ سن کر بادشاہ آگ بگولا ہو گیا اور لشکر کے ساتھ سَمؤال کے قلعے کا محاصرہ کر لیا۔ اتفاق سے سَمؤال کا بیٹا قلعے سے باہر رہ گیا تھا۔ بادشاہ نے اسے گرفتار کر لیا اور قلعے کے نیچے کھڑے ہو کر آواز دی۔
سَمؤال جب برجی پر آیا تو بادشاہ نے للکار کر کہا:
“اگر اپنے بیٹے کی جان چاہتے ہو تو فوراً امرؤ القیس کا سامان میرے حوالے کر دو، ورنہ اسے تمہاری آنکھوں کے سامنے قتل کر دوں گا!”
سَمؤال کا جواب تاریخ میں امر ہو گیا:
“میں اپنے دوست کی امانت میں خیانت نہیں کر سکتا۔ جہاں تک میرے بیٹے کا تعلق ہے، تم جو چاہو کر لو۔”
بادشاہ نے غصے میں آ کر اس کے بیٹے کو وہیں قتل کر دیا۔ سَمؤال نے دل پر پتھر رکھ کر یہ اندوہناک منظر دیکھا، مگر عہد شکنی پر آمادہ نہ ہوا۔ اس کے لیے پاسِ عہد بیٹے کی جان سے بھی بڑھ کر تھا۔
چند سال بعد جب امرؤ القیس کے وارث آئے تو سَمؤال نے امانت کی ایک ایک چیز ان کے حوالے کر دی۔ تب سے تاریخِ عرب میں سَمؤال کا نام وفاداری اور پاسِ عہد کی مثال بن گیا۔
سبق یہ ہے
عہد، امانت اور وفاداری محض الفاظ نہیں، کردار کی پہچان ہوتے ہیں۔ جو شخص چھوٹے یا بڑے کسی بھی موقع پر امانت کا پاس رکھتا ہے، وہی دراصل اعتماد کے قابل ہوتا ہے۔
ری ایکٹ ضرور کیا کریں
ری ایکٹ صرف ایک بٹن نہیں، بلکہ احساس… شعور… جذبہ… اخلاق… حوصلہ افزائی… قدردانی… شکریہ… باہمی تعلق اور وفاداری کی علامت ہے۔ اسے معمولی مت سمجھیں۔ سلامت رہیں۔
بارك الله بكم جميعا
اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں۔
