ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک چھوٹا لڑکا خوبصورت فن پارے بنانا سیکھنا چاہتا تھا۔ وہ ایک مشہور فنکار (سنگ تراش) کے پاس گیا جو سفید پتھر کے ایک بہت بڑے اور بے ڈول ٹکڑے پر کام کر رہا تھا۔
کئی ہفتوں تک وہ لڑکا اس فنکار کو دیکھتا رہا۔ فنکار ہتھوڑے اور ایک تیز دھار اوزار (چھینی) کی مدد سے پتھر پر ضربیں لگاتا تھا۔ پتھر کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہر طرف اڑ رہے تھے۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ فنکار صرف اس بڑے پتھر کو توڑ کر اس کے ٹکڑے کر رہا ہے۔
لڑکے نے پوچھا، “آپ اس خوبصورت پتھر کو کیوں توڑ رہے ہیں؟ جب آپ نے اسے شروع کیا تھا، تب تو یہ کتنا ہموار اور مکمل تھا۔”
فنکار رکا نہیں، اس نے بس سرگوشی کی، “میں اسے توڑ نہیں رہا، بلکہ میں تو اسے آزاد کر رہا ہوں۔”
مہینے گزرتے گئے۔ پتھر کے تمام کھردرے حصے غائب ہو گئے۔ آخر کار، فنکار چند قدم پیچھے ہٹا۔ وہ بے ڈول پتھر کا ٹکڑا اب وہاں نہیں تھا، بلکہ اس کی جگہ ایک نہایت خوبصورت اور طاقتور عقاب موجود تھا جو ایسا لگتا تھا کہ ابھی آسمان کی طرف اڑ جائے گا۔
لڑکا حیران رہ گیا اور پوچھا، “آپ نے اس سادہ سے پتھر سے اتنی خوبصورت چیز کیسے بنا لی؟”
فنکار مسکرایا اور کہا، “عقاب تو ہمیشہ سے اس پتھر کے اندر ہی تھا، میں نے تو بس ان حصوں کو ہٹا دیا جو عقاب کا حصہ نہیں تھے۔”
حاصلِ سبق
اپنے آپ کو بہترین بنانے کے لیے آپ کو مزید چیزوں کے اضافے کی ضرورت نہیں ہے؛ بلکہ آپ کو ان چیزوں کو چھوڑنے کی ضرورت ہے جو آپ کو روک رہی ہیں۔ ہم اکثر سوچتے ہیں کہ خوش رہنے کے لیے ہمیں مزید مال و دولت یا چیزوں کی ضرورت ہے۔ لیکن اصل ترقی غصے، خوف اور اپنی بری عادتوں کو تراشنے کا نام ہے، تاکہ آپ کے اندر چھپی ہوئی “بہترین شخصیت” ابھر کر سامنے آ سکے۔
