پیٹو خان

پیٹو خان


ایک دفعہ پیٹو خان کے پڑوسی کے ہاں دعوت تھی مگر پیٹو خان کو وہاں مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ وہ اس بات پر بہت اداس ہوئے اور کھانا کھانے کا کوئی نہ کوئی راستہ ڈھونڈنے لگے۔ انہوں نے ایک پرانی شیروانی پہنی، سر پر بڑی سی پگڑی باندھی اور ہاتھ میں ایک تسبیح پکڑ کر حکیم صاحب کا روپ دھار لیا۔ وہ سیدھے پڑوسی کے گھر پہنچ گئے جہاں مہمان جمع تھے۔
لوگوں نے جب ایک اجنبی بزرگ کو دیکھا تو سمجھے کہ کوئی بڑے پہنچے ہوئے حکیم صاحب ہیں۔ پیٹو خان نے ایک صوفے پر ڈیرہ جمایا اور زور سے اعلان کیا کہ میں شہر کا مشہور حکیم ہوں اور میں صرف ان لوگوں کا علاج کرتا ہوں جو کھانا کھانے سے پہلے مجھ سے مشورہ کرتے ہیں۔
میزبان نے ڈرتے ڈرتے پوچھا کہ حکیم صاحب آج کھانے میں کیا ہونا چاہیے جو صحت کے لیے مفید ہو۔ پیٹو خان نے سنجیدگی سے جواب دیا کہ دیکھو میاں، انسانی معدے کے لیے بھنا ہوا گوشت اور گرم گرم نان سب سے بہترین دوا ہیں۔ اور اگر ساتھ میں ٹھنڈی کھیر مل جائے تو انسان کی عمر سو سال تک بڑھ سکتی ہے۔
میزبان نے فوراً ان کے حکم کی تعمیل کی اور پیٹو خان کے سامنے بڑے بڑے تھال سجا دیے۔ پیٹو خان نے ایسی تیزی سے کھانا شروع کیا کہ لوگ دنگ رہ گئے۔ وہ ایک ہاتھ سے نان توڑتے اور دوسرے ہاتھ سے بوٹیاں اڑاتے۔ جب میزبان نے دیکھا کہ حکیم صاحب کی اپنی صحت کا یہ حال ہے کہ وہ سانس لیے بغیر کھائے جا رہے ہیں، تو اسے تھوڑا شک ہوا۔
اسی دوران محلے کا اصلی حکیم وہاں پہنچ گیا۔ اس نے جب پیٹو خان کو دیکھا تو وہ پہچان گیا کہ یہ تو وہی پیٹو خان ہے جو پچھلے ہفتے اس سے بدہضمی کی گولی لینے آیا تھا۔ اصلی حکیم نے شور مچا دیا کہ ارے لوگو، یہ کوئی حکیم نہیں بلکہ محلے کا سب سے بڑا پیٹو ہے۔
پیٹو خان نے جب دیکھا کہ بھانڈا پھوٹ گیا ہے، تو انہوں نے آخری بار کھیر کا پیالہ منہ کو لگایا اور کھڑے ہو کر بولے کہ بھائیو، میں نے تو پہلے ہی کہا تھا کہ میں صرف ان کا علاج کرتا ہوں جو کھانا کھانے سے پہلے مشورہ کرتے ہیں، اب چونکہ میرا اپنا پیٹ بھر گیا ہے اس لیے میرا علاج مکمل ہو گیا ہے۔
اس سے پہلے کہ لوگ انہیں پکڑتے، پیٹو خان اپنی لمبی شیروانی سنبھال کر دیوار پھاند کر غائب ہو گئے۔ اس دن کے بعد اس گھر میں جب بھی کوئی مہمان آتا ہے تو وہ پہلے اس کا شناختی کارڈ چیک کرتے ہیں کہ کہیں یہ دوبارہ روپ بدل کر آنے والا پیٹو خان تو نہیں۔

Leave a Reply

NZ's Corner