چار روپے

چار روپے

ایک بار بادشاہ شکار پر نکلا۔ راستے میں اس نے ایک کسان کو بیل چلاتے ہوئے دیکھا۔ بادشاہ نے کسان کو روکا اور پوچھا:

بادشاہ: تم دن بھر میں کتنا کما لیتے ہو؟

کسان: حضور، چار روپے۔

بادشاہ: وہ چار روپے تم خرچ کیسے کرتے ہو؟

کسان مسکرایا اور بولا:
کسان: ایک روپیہ میں خود پر خرچ کرتا ہوں، ایک روپیہ قرض دیتا ہوں، ایک روپیہ قرض واپس کرتا ہوں، اور ایک روپیہ دریا میں پھینک دیتا ہوں۔

بادشاہ حیران رہ گیا۔ اسے کسان کی بات سمجھ نہ آئی۔

بادشاہ: تمہاری باتوں کا مطلب کیا ہے؟

کسان نے وضاحت کی:
کسان: بادشاہ سلامت، ایک روپیہ میں اپنے اور اپنی بیوی کے کھانے پینے پر خرچ کرتا ہوں۔ یہ میرا اپنا خرچ ہوا۔

دوسرا روپیہ میں اپنے بچوں پر خرچ کرتا ہوں۔ میں انہیں پال رہا ہوں، پڑھا رہا ہوں۔ یہ قرض ہے جو میں انہیں دے رہا ہوں، تاکہ بڑھاپے میں وہ میرا سہارا بنیں۔

تیسرا روپیہ میں اپنے بوڑھے والدین پر خرچ کرتا ہوں۔ انہوں نے بچپن میں مجھ پر خرچ کیا تھا، اب میں ان کا قرض اتار رہا ہوں۔

اور چوتھا روپیہ میں اللہ کی راہ میں غریبوں کو دے دیتا ہوں۔ یہ میں دریا میں ڈال رہا ہوں، کیونکہ اس کا اجر مجھے اس دنیا میں نہیں، آخرت میں ملے گا۔

بادشاہ کسان کی دانائی اور دور اندیشی سے بہت متاثر ہوا۔

اصل عقلمندی یہی ہے کہ انسان اپنی کمائی کو اپنے حال، اپنے مستقبل، اپنے ماضی کے احسانات، اور اپنی آخرت کے لیے بہترین طریقے سے تقسیم کرے۔

Leave a Reply

NZ's Corner