ایک مرتبہ ایک امیر شخص کسی مقدمے میں پھنس گیا۔اس کا مقدمہ ایک رشوت خور قاضی کی عدالت میں تھا۔وہ سوچنے لگا کہ قاضی کو اپنے حق میں فیصلہ کرنے پر کیسے مجبور کروں؟ سوچتے سوچتے اس کے دماغ میں ایک ترکیب آئی۔ترکی کی مٹھائی بہت منفرد انداز کی ہوتی ہے۔اس مٹھائی کے رنگ برنگے ٹکڑے دیکھنے والوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیتے ہیں۔
ان کا ذائقہ بھی پاکستانی مٹھائی سے بہت مختلف ہوتا ہے۔اس امیر آدمی نے چاندی کے ایک تھال میں بڑی خوبصورتی سے اس رنگ برنگی مٹھائی کے چالیس ٹکڑے سجائے اور ہر ٹکڑے کے نیچے سونے کی ایک اشرفی رکھ دی اور تھال قاضی کی خدمت میں بھیج دیا۔
امیر آدمی کا ملازم جب یہ تھال لے کر قاضی کے دفتر پہنچا تو قاضی کے منشی نے وہ تھال وصول کیا۔
تھال میں رکھی مٹھائی دیکھ کر منشی کے منہ میں پانی آ گیا۔
اس نے مٹھائی کا ٹکڑا منہ میں اور اشرفی جیب میں رکھ لی۔اس طرح اس نے یکے بعد دیگرے مٹھائی کے تین اور ٹکڑے نکالے اور اشرفیاں جیب میں ڈال لیں۔
دوسرے دن قاضی کی عدالت میں مقدمے کا فیصلہ کرنا تھا۔قاضی نے امیر آدمی سے کہا:”تمہاری طرف سے کوئی گواہ نہیں آیا۔“
امیر آدمی نے کہا:”حضور! میں نے کل آپ کی خدمت میں چالیس گواہ بھیجے تھے، تاکہ آپ ان سے گواہی لے لیں۔
“
قاضی نے کہا:”ہاں ٹھیک کہہ رہے ہو، لیکن وہ چالیس نہیں صرف چھتیس گواہ تھے۔“
اب منشی بہت سٹپٹایا کہ اب تو میری چوری پکڑی جائے گی، لیکن اس نے بڑی ہوشیاری سے کہا:”حضور! گواہ بہت بوڑھے اور بیمار تھے۔سیڑھیاں چڑھ کر اوپر نہیں آ سکتے تھے، اس لئے میں نے نیچے ہی ان کی شہادت نوٹ کر لی تھی۔“
اور یوں منشی بری الذمہ ہو گیا اور امیر آدمی کے حق میں فیصلہ ہو گیا۔
